پاکستان میں پرفارم کرنے پر بھارت میں میکا سنگھ کے بائیکاٹ کا اعلان

اپ ڈیٹ 15 اگست 2019

ای میل

گلوکار نے اب تک اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
گلوکار نے اب تک اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

بھارتی تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) نے پاکستان میں پرفارمنس کرنے پر بھارتی گلوکار میکا سنگھ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ گلوکار پر کسی بھی قسم کے میوزک یا فلمی پروجیکٹ کا حصہ بننے پر زندگی بھر کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب میکا سنگھ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ان کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک تقریب میں کی جانے والی پرفارمنس کو دیکھا جاسکتا ہے۔

نائلہ عنایت نامی پاکستانی صحافی کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ویڈیو میں میکا سنگھ کراچی کے ایک ایونٹ میں پرفارم کرتے نظر آئے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای تنظیم نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ 'بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع کے باوجود میکا سنگھ کا پاکستان میں پرفارم کرنا ان کے لیے باعث شرمندگی ہے'۔

مزید پڑھیں: بھارت کا یوم آزادی، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 'سوشل میڈیا ڈی پی سیاہ'

تنظیم نے تمام پروڈیوسرز، میوزک ڈائریکٹرز، آل انڈیا ریڈیو، ایف ایم انڈیا، میوزک اور ریکارڈنگ کمپنیز، نیشنل ٹی وی اور سیٹلائٹ چینلز سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی میکا سنگھ کے ساتھ کسی قسم کا کام نہ کریں۔

ساتھ ہی تنظیم نے بیان میں انتباہ بھی جاری کیا کہ جو بھی میکا سنگھ کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کرے گا اس کا بائیکاٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا سنی ورکرز ایسوسی ایشن نامی تنظیم نے بھی میکا سنگھ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

تنظیم نے بیان میں لکھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر تنازع جاری ہے اور ایسے وقت میں میکا سنگھ نے اپنے ملک سے بڑھ کر پیسے کو ترجیح دے کر سب کا دل دُکھایا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بھارت میں کسی بھی انٹرٹینمنٹ سے تعلق رکھنے والی تنظیم کو میکا سنگھ کے ساتھ کام نہیں کرنے نہیں دیں گے اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گلوکار نے اب تک اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہوئے تھے جب بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا۔