سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صدارتی ریفرنس چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 17 اگست 2019

ای میل

حامد خان نے ڈان کو بتایا کہ درخواست جمعے کو جمع کروائی جاچکی ہے—فائل فوٹو: سپریم کورٹ
حامد خان نے ڈان کو بتایا کہ درخواست جمعے کو جمع کروائی جاچکی ہے—فائل فوٹو: سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس یہ کہتے ہوئے چیلنج کردیا کہ اس کی وجہ بظاہر فیض آباد دھرنا کیس میں 6 فروری کو ان کا دیا گیا فیصلہ تھا جس میں انہوں نے وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو اپنے ماتحت اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی جو حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کے قریب فیض آباد کے مقام پر دھرنا نومبر 2017 میں دیا گیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جج کے خلاف صدارتی ریفرنس کو یہ دوسری مرتبہ چیلنج کیا گیا ہے، اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسٰی بذات خود 7 اگست کو اس ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس چیلنج کردیا

نئی پٹیشن آئین کی دفعہ 184 کے تحت 'ایس سی بی اے' کے سابق صدور حامد خان اور رشید رضوی کے ساتھ صلاح الدین پر مشتمل وکلا کے پینل کی جانب سے جمع کروائی گئی۔

تاہم ایس سی بی اے کے موجودہ صدر امان اللہ کنرانی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کو درخواست کے متن کے بارے میں پیر کو آگاہ کریں گے، تو دوسری جانب حامد خان نے ڈان کو بتایا کہ درخواست جمعے کو جمع کروائی جاچکی ہے۔

مذکورہ درخواست سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف 2 ریفرنس کی مزید سماعت سے روکنے کے لیے دائر کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تحقیقات کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ کونسل کی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: سپریم جوڈیشل کونسل کے جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کو اظہار وجوہ کے 2 نوٹسز

ایس سی بی اے کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت، صدر مملکت عارف علوی اور سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا کہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف ’نام نہاد شکایات اور معلومات‘ انٹیلی جنس اداروں کی غیر مجاز خفیہ نگرانی یا تحقیقات کا نتیجہ ہے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے اعلیٰ عدالت کے جج اور ان کے اہلخانہ کی خفیہ نگرانی کا مطلب انہیں ججز کو بلیک میل کرنے یا ان پر دباؤ ڈالنے کا لائسنس دینا ہے، اس طرح کا رجحان عدلیہ کی آزدای کے لیے تباہ کن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’حکومت جسٹس فائز عیسیٰ کو نہیں ہٹاسکتی، فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسِٹس ریکوری یونٹ اور اس کے چیئرمین کے پاس کسی تحقیقات کا آغاز کرنے اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو یہ ہدایت دینے کا اختیار نہیں کہ کسی بھی شخص کے رازدارانہ اعداد و شمار کی چھان بین کی جائے۔

اس کے ساتھ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ریفرنس واضح طور پر ناجائز اور دھوکہ دہی، ملی بھگت اور بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا، ایس سی بی اے کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام غیر مستحکم اور کالعدم ہے جسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے‘۔