بلوچستان: مستقل غیر حاضری پر 3ہزار سے زائد اساتذہ معطل، 150 برطرف

20 اگست 2019

ای میل

بلوچستان حکومت نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کردی—فائل فوٹو: اے ایف پی
بلوچستان حکومت نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کردی—فائل فوٹو: اے ایف پی

بلوچستان کے سیکریٹری تعلیم طیب لہری نے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے ماہ سے اب تک صوبے بھر میں 3 ہزار سے زائد اساتذہ کو معطل جبکہ 150 ٹیچرز کو ان کی سروسز سے برطرف کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معطل کیے گئے ہر استاد کے معاملے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا جبکہ انہیں پہلے ہی اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔

طیب لہری کا معطل اساتذہ کے معاملات کی تحقیقات کرنے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: مستقل غیر حاضری پر 2 ہزار سے زائد اساتذہ معطل

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے 114 اساتذہ کو معطل کیا گیا۔

خیال رہے کہ ان تمام اساتذہ کو طویل عرصے سے غیرحاضر رہنے اور متعدد مرتبہ انتباہ کے باوجود اسکول نہ آنے پر معطلی کا سامنا کرنا پڑا، جن اضلاع سے اساتذہ کو معطل کیا گیا، ان میں کوئٹہ، تربت، قلعہ عبداللہ، پشین، ڈیرہ بگٹی اور صوبے کے دیگر علاقے شامل ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے صوبے میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور اسکول سے باہر بچوں کے داخلے کے لیے محکمہ تعلیم میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں 1800 اسکول غیر فعال ہونے کا انکشاف

اس بارے میں سیکریٹری تعلیم کہتے ہیں کہ 'ہم کسی غیرحاضر استاد کو برداشت نہیں کریں گے'، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان غیرحاضریوں کے بارے میں بروقت اطلاع نہ دینے پر محکمہ تعلیم کے 2 درجن سے زائد افسران بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں حکومت کے تحت چلنے والے پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کی تعداد 13ہزار سے زائد ہے جبکہ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 1800 سرکاری اسکول مختلف وجوہات کے باعث غیرفعال ہیں۔

سیکریٹری تعلیم طیب لہری کا کہنا تھا کہ 'ہماری اولین ترجیح ان اسکولوں کو فعال کرنا ہے'۔