ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا مستقبل 3 جائزوں پر منحصر

اپ ڈیٹ 21 اگست 2019

ای میل

اے پی جی کی جانب سے 2 سال پر محیط 5 سالہ جائزے کا یہ عمل 23 اگست کو مکمل ہوجائے گا—فائل فوٹو: فیس بک
اے پی جی کی جانب سے 2 سال پر محیط 5 سالہ جائزے کا یہ عمل 23 اگست کو مکمل ہوجائے گا—فائل فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: اکتوبر تک پاکستان کے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے اخراج کا فیصلہ تین مختلف جائزوں کے بعد کیا جائے گا جو ابھی پیشرفت کے مرحلے میں ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) حال ہی میں آسٹریلین دارالحکومت کینبرا میں مالیاتی اور انشورنس کے شعبے میں نظام کی بہتری کے سلسلے میں پاکستان کا 5 سالہ جائزہ لے رہی ہے۔

یہ کارروائی دہشت گردی اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے پاکستان کی کارکردگی سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتی، اس کے باوجود اس سے اخذ شدہ رپورٹ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اسلام آباد کی پوزیشن پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اخراج کیلئے پاکستان کو سفارتی حمایت درکار

اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کے گورنر باقر رضا کی جانب سے پیش کردہ جائزاتی رپورٹس 23 اگست کو مکمل ہوجائیں گی۔

اس سے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ اے پی جی میں جمع کروائی تھی جو مالیاتی اور انشورنس سروسز سے متعلق 7 شعبہ جات کا جائزہ لے رہا ہے جو اس کے 5 سالہ نظرِ ثانی کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔

ان شعبہ جات میں کالعدم تنظیموں اور غیر سرکاری اداروں کے ذریعے بینک اور نان بینکنگ دائرہ کار، کیپٹل مارکیٹس، کارپوریٹس اور نان کارپوریٹ سیکٹر مثلاً چارٹرڈ اکاؤنٹیسیم فنانشل ایڈوائزری سروسز، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹینسی فرم، جیولرز اور اسی طرح کے دیگر ذرائع کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف تحفظ شامل ہیں۔

عہدیدار نے وضاحت کی کہ اے پی جی کی جانب سے 2 سال پر محیط 5 سالہ جائزے کا یہ عمل 23 اگست کو مکمل ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا‘

اس سلسلے میں حکومتوں کو ٹیکنالوجیز، رائج طریقہ کار اور جدید ترین تکینیک میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر مستقبل کے اہداف پیش کرنے ہوتے ہیں۔

جس کے بعد تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں 5 سمتبر سے باہمی جائزہ کا ایک دور شروع ہوگا جو ایف اے ٹی ایف کے منصوبوں اور ورکنگ گروپ کے حوالے سے 13 سے 18 اکتوبر تک پیرس میں طے شدہ اجلاس میں پاکستان کے لیے کیے جانے والے حتمی جائزے کی بنیاد ہوگا۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح سیاسی روابط اور افغان مفاہمتی عمل میں تعاون کے بعد امریکا نے پاکستان کی حمایت کا رویہ اپنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان مزید اقدامات کرے، امریکا

دوسری جانب امریکی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسط ایشائی امور ایلس ویلز نے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کو تجویز دی تھی کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے سلسلے میں مزید ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کالعدم تنظیموں اور ان کے سربراہان کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔