سری لنکا کا پاکستان میں 3ون ڈے اور 3ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

ون ڈے اور ٹی20 سیریز ستمبر اور اکتوبر میں کھیلی جائیں گی— فائل فوٹو: اے ایف پی
ون ڈے اور ٹی20 سیریز ستمبر اور اکتوبر میں کھیلی جائیں گی— فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان اور سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں ون ڈے اور ٹی20 سیریز کھیلنے پر اتفاق کر لیا ہے اور رواں سال پاکستان ون ڈے اور ٹی20 سیریز کے لیے سری لنکا کی میزبانی کرے گا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز اکتوبر میں کھیلی جانی تھی جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے جس کے بعد 3 ون ڈے اور 3 ٹی20 میچوں کی سیریز دسمبر میں منعقد ہونی تھی۔

تاہم پاکستان اور سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اب اس شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے پہلے ون ڈے اور ٹی20 سیریز کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ٹیسٹ میچ دسمبر میں منعقد ہوں گے۔

مزید پڑھیں: سری لنکا کا پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے سے انکار، رپورٹس

پاکستان کے لیے خوش آئند امر یہ ہے کہ یہ ون ڈے اور ٹی20 میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔

نئے شیڈول کے مطابق کراچی تین ون ڈے میچوں کی میزبانی کرے گا جس کے بعد لاہور میں تین ٹی20 میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان شیڈول سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے جس کے میچز نیوٹرل مقام پر کھیلے جانے تھے البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کو یہ میچز پاکستان میں کھیلنے کی پیشکش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں رواں سال ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کے امکانات روشن

اسی پیشکش کو مدنظر رکھتے ہوئے سری لنکن کرکٹ بورڈ نے موہن ڈی سلوا کی زیر سربراہی اپنا سیکیورٹی وفد پاکستان بھیجا تھا جنہوں نے لاہور اور کراچی کا دورہ کر کے سیکیورٹی اور انتظامات کا معائنہ کیا تھا اور اپنے بورڈ کو انتہائی مثبت رپورٹ پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد سے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے قومی ٹیم نے کوئی بھی ٹیسٹ میچ اپنی سرزمین پر نہیں کھیلا تاہم سری لنکن سیکیورٹی وفد کی مثبت رپورٹ کے بعد پاکستان میں 10سال کے طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ میچ کے انعقاد کی امید روشن ہو گئی تھی۔

مزید پڑھیں: بھارتی ٹیم پر حملے کی دھمکی آمیز ای میل کرنے والا نوجوان گرفتار

البتہ بعدازاں سری لنکن حکام نے پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے سے انکار کردیا اور اس کی جگہ دونوں ملکوں کے درمیان ون ڈے اور ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سری لنکا کی ٹیم ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے 25ستمبر کو کراچی پہنچے گی جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان 27 ستمبر کو پہلا ون ڈے میچ کھیلا جائے گا۔

نیشنل اسٹیڈیم میں دوسرا ون ڈے میچ 29ستمبر اور تیسرا اور آخری ون ڈے میچ 2اکتوبر کو کھیلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ ورلڈ کپ، پاکستانی ٹیم اور ’اگر مگر‘ کی کہانی

اس کے بعد لاہور کا قذافی اسٹیڈیم 5، 7 اور 9اکتوبر کو تین ٹی20 میچوں کی میزبانی کرے گا اور 10اکتوبر کو سری لنکن ٹیم وطن واپس لوٹ جائے گی۔

دونوں ملکوں نے کامیابی مذاکرات کے بعد ٹیسٹ میچز کے دسمبر میں انعقاد پر اتفاق کیا ہے جس کے مقام کا اب تک اعلان نہیں کیا گیا البتہ یہ ٹیسٹ میچز ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں کھیلے جائیں گے۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پی سی بی سری لنکن کرکٹ سے مذاکرات کے کے نتیجے پر انتہائی خوش ہے جہاں سری لنکن بورڈ نے پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ان میچز کے انعقاد سے پاکستانی شائقین کا جدید دور کے اسٹارز کو ایکشن میں دیکھنے کا انتظار بھی بالآخر ختم ہو جائے گا اور اس سے ہمارے ازسرنو ترتیب کردہ ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹرکچر کو بھی مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: سیکیورٹی خدشات: پاک بھارت ڈیوس کپ ٹائی نومبر تک ملتوی

احسان مانی نے کہا کہ پی سی بی سری لنکن ٹیم کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے اور ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سربراہ شامی سلوا نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کی کرکٹ تعلقات اور دوستی کی طویل تاریخ ہے اور اس فیصلے سے یہ تعلق مزید مضبوط ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ہماری نظریں کراچی اور لاہور میں ون ڈے اور ٹی20 میں مرکوز ہیں۔

سری لنکن ٹیم کا یہ دورہ ایک طریقے سے مشکل وقت میں پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کا مثبت جواب ہے۔

رواں سال 21اپریل کو سری لنکا میں قیامت خیز بم دھماکوں میں 250 سے زائد ہلاکتوں کے بعد سری لنکا پر سیکیورٹی خطرات منڈلا رہے تھے لیکن ایسے میں پاکستان نے ایک ماہ بعد ہی سب سے پہلے اپنی انڈر19 ٹیم کو سری لنکا کے دورے پر بھیجا تھا۔

پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے مارچ 2009 میں اس وقت بند ہو گئے تھے جب دہشت گردوں نے لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا تھا اور متعدد سری لنکن کھلاڑی آفیشلز زخمی ہو گئے تھے۔

اس کے بعد 6سال تک پاکستان ہر طرح کی عالمی کرکٹ سے تقریباً محروم رہا البتہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بتدریج واپسی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب 2015 میں زمبابوے نے تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا تاہم اس سلسلے میں سب سے اہم پیشرفت اس وقت ہوئی تھی جب 2017 کی پاکستان سپر لیگ کے فائنل کا لاہور میں کامیابی سے انعقاد کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ورلڈ الیون نے تین ٹی20 میچوں کا کامیابی کے ساتھ دورہ کیا اور پھر پاکستان نے ایک ٹی20 میچ کے لیے سری لنکا کی میزبانی کی۔

پاکستان نے پی ایس ایل کے 2018 کے ایڈیشن کے دو پلے آف لاہور میں منعقد کرانے کے سات ساتھ کراچی میں فائنل کا انعقاد کر کے عالمی کرکٹ کی بحالی کی جانب ایک اور قدم بڑھایا۔

رواں سال پاکستان سپر لیگ کے 8 میچوں کی میزبانی کراچی نے کی جس میں دنیا بھر کے انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے بھرپور شرکت کر کے ایونٹ کو کامیابی بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان کھیلوں کے لیے مکمل محفوظ ملک ہے۔