روس نے انتباہ کے باجود تیرتا ہوا 'نیوکلیئر ری ایکٹر' لانچ کردیا

اپ ڈیٹ 24 اگست 2019

ای میل

اکادمک لومونسوف نے مرمنسک کی آرکیٹک بندرگاہ سے 5 ہزار کلومیٹر طویل سفر کا آغاز کیا—تصویر: نیوکلیئر ایجنسی روساتم
اکادمک لومونسوف نے مرمنسک کی آرکیٹک بندرگاہ سے 5 ہزار کلومیٹر طویل سفر کا آغاز کیا—تصویر: نیوکلیئر ایجنسی روساتم

ماسکو: روس نے ماحولیاتی ماہرین کے تمام تر انتباہات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے دنیا کا پہلے تیرتا ہوا جوہری ری ایکٹر لانچ کردیا جسے ’برف پر چرنوبل‘ قرار دیا گیا تھا۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق شمال مشرق سائبیریا میں جوہری ایندھن سے بھرے ہوئے 'اکادمک لومونسوف' نے مرمنسک کی آرکیٹک بندرگاہ سے پیوک کے لیے 5 ہزار کلومیٹر طویل سفر کا آغاز کیا۔

روس کی سرکاری نیوکلیئر ایجنسی 'روساتم' کا کہنا تھا کہ یہ ری ایکٹر ایسے مقامات پر روایتی پلانٹ تعمیر کرنے کا آسان متبادل ہے جہاں تقریباً پورے سال زمین منجمد رہتی ہو، اس کے ساتھ انہوں نے اسے فروخت کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی توانائی تنظیم نے سعودی عرب سے ایٹمی ری ایکٹر پر حفاظتی گارنٹی طلب کرلی

اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں روساتم کا کہنا تھا کہ یہ ری ایکٹر توانائی کے نئے تیرنے والے پلانٹ کا حصہ ہے جو شمالی سمندری راستے کی ترقی میں انتہائی اہم عنصر ثابت ہوگا، جبکہ اس سے روس کو خطے میں انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کا ادراک کرنے میں مدد ملے گی۔

تاہم اس سلسلے میں خدشات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب روس کے شمال میں دور دراز مقام پر قائم ایک فوجی ٹیسٹنگ سائٹ پر خطرناک دھماکے سے ریڈیو ایکٹو شعاؤں کا بے پناہ اخراج ہوا۔

مذکورہ جوہری ری ایکٹر کا سفر 4 سے 6 ہفتے پر محیط ہوگا جس کا انحصار راستے میں موجود برف کی مقدار اور موسمی صورتحال پر ہے۔

خیال رہے کہ 144 میٹر طویل اکادمک لونوسوف پر سال 2006 میں روس کے ساحلی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں کام کا آغاز ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: جاپان: ایٹمی ری ایکٹر 4 سال بعد دوبارہ بحال

سائبیریا کے خطے میں 5 ہزار افراد کی آبادی والے علاقے پیوک میں پہنچ کر یہ جوہری ری ایکٹر مقامی نیوکلیئر پلانٹ کی جگہ لے گا جسے آئندہ برس سے بند کردیا جائے گا۔

مذکورہ ری ایکٹر رواں سال کے آخر میں فعال ہوگا جس میں وہ بنیادی طور پر خطے میں تیل کے پلیٹ فارمز کے لیے کام کرے گا کیونکہ روس، آرکیٹک میں ہائیڈرو کاربن استحصال کو فروغ دیتا ہے۔

اس ضمن میں عالمی ماحولیاتی مہم 'گرین پیس رشیا' کے شعبہ توانائی کے سربراہ راشد الیموف نے کہا کہ ماحولیاتی تنظیمیں تیرتے ہوئے ری ایکٹر کے خیال کی 1990 سے مخالفت کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران کے سول نیوکلیئر منصوبوں کیلئے رعایت میں توسیع

ان کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ریڈیو ایکٹو کچرا پیدا کرتا ہے جس سے کوئی حادثہ ہو سکتا ہے، لیکن اکادمک لومونسوف اس لیے بھی زیادہ خطرہ ہے کہ اس کا سامنا طوفان سے ہو سکتا ہے۔