ای میل

برطانوی شہزادہ شاہی محل میں خواتین کو لاتا رہا ہے، سیکیورٹی عہدیدار

شاہی محل نے شہزادہ اینڈریو پر لگے الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے—فوٹو: جی سی امیجز
شاہی محل نے شہزادہ اینڈریو پر لگے الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے—فوٹو: جی سی امیجز

گزشتہ ماہ امریکی شہر نیو یارک کے جیل میں جنسی جرائم کے تحت گرفتار ارب پتی شخص 66 سالہ جیفری اپسٹن کی جانب سے خود کشی کیے جانے کے بعد ان کے جنسی جرائم میں برطانوی شہزادے اینڈریو کا نام آنے کے بعد تہلکہ مچ گیا تھا۔

شہزادہ ایںڈریو ملکہ برطانیہ کے بیٹے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ خود کشی کرنے والے ارب پتی جیفری اپسٹن کے قریبی دوست رہنے سمیت کم عمر لڑکیوں کے جنسی ہراساں کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

یہ کیس اس وقت عالمی سطح پر سامنے آیا جب کیس کے مرکزی کردار 69 سالہ ارب پتی سرمایہ کار جیفری اپسٹن نے نیویارک کے جیل میں خود کشی کرلی تھی۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کئی سال تک کم عمر لڑکیوں سمیت درجنوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے سمیت انہیں نہ صرف جنسی غلام بنائے رکھا بلکہ انہیں اپنے دوستوں اور مہمانوں کی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی استعمال کیا۔

ان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے جن کم عمر لڑکیوں کو کئی سال تک جنسی غلام بنائے رکھا بعد ازاں انہوں نے ان لڑکیوں کو عمر رسیدہ ہونے پر نئی لڑکیوں کو ان کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھرتی کرنے کے لیے مجبور کیا۔

اس اسکینڈل کو برطانوی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے لے آئی تھیں—فوٹو: میامی ہیرالڈ
اس اسکینڈل کو برطانوی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے لے آئی تھیں—فوٹو: میامی ہیرالڈ

ان کے خلاف سب سے پہلے برطانیہ کی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے آئی تھیں، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جیفری اسپٹن نے انہیں 14 سال کی عمر میں جنسی غلام بنایا اور کئی سال تک انہیں جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔

ورجینیا رابرٹ گفی کے مطابق انہیں ارب پتی شخص کے لیے ان کی محبوبہ گیسلین میکسویل نے بھرتی کیا تھا۔

اسی برطانوی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں برطانوی شہزادے اینڈریو کو جنسی لذت پہنچانے کا حکم بھی دیا گیا۔

خاتون نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ جیفری اپسٹن نے انہیں 1999 سے 2001 تک تین مختلف مواقع پر برطانوی شہزادے کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

اگرچہ اس اسکینڈل میں برطانوی شہزادے کا نام سامنے آنے کے بعد شاہی محل نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ شہزادہ اینڈریو ایسے کسی غلط کام میں ملوث نہیں رہے۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ شہزادہ اینڈریو کبھی بھی کم عمر خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے میں ملوث نہیں رہے۔

تاہم اب شاہی محل میں بطور سیکیورٹی عہدیدار ذمہ داریاں نبھانے والے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو ماضی میں شاہی محل میں اپنی خواتین دوست کو لاتے رہے۔

برطانوی اخبار ’دی مرر‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 1998 سے 2004 تک شاہی محل میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار پال پیج نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہی محل میں جیفری اپسٹن سمیت ان کے لیے لڑکیوں کو جنسی غلام بنائے جانے کے لیے بھرتی کرنے والی خاتون گیسلین میکسویل شاہی محل میں آتی رہی ہیں۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ جیفری اپسٹن اور گیسلین میکسویل سمیت کئی خواتین شہزادہ اینڈریو کی دعوت پر شاہی محل میں آتی رہیں اور انہیں کسی گیٹ پاس کے بغیر ہی اندر جانے دیا جاتا۔

شہزاہ اینڈریو 2000 میں گیسلین میکسویل کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں—فوٹو: دی مرر
شہزاہ اینڈریو 2000 میں گیسلین میکسویل کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں—فوٹو: دی مرر

عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسی عرصے کے دوران شہزادہ اینڈریو مختلف خواتین کو شاہی محل میں لاتے رہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ شاہی محل میں شہزادے کی مہمان بن کر آنے والی خواتین کے ساتھ کچھ غلط کام کیا جاتا تھا یا نہیں۔

دوسری جانب شاہی محل نے ایک بار پھر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پال پیج خود فراڈ کے جرائم میں ملوث رہا ہے اور اسی وجہ سے انہیں ملازمت سے نکال کر ان کے خلاف عدالت میں مقدمات چلائے گئے تھے۔

ادھر ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ جفیری اپسٹن اسکینڈل میں شہزادہ اینڈریو کا نام آنے کے بعد شہزادے پر سختی کردی گئی ہے اور انہیں ماضی کی طرح ہر کام کرنے کی آزادی نہیں۔

اخبار کے مطابق اگرچہ شاہی محل نے شہزادہ اینڈریو کے کم عمر خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کے الزامات کو مسترد کیا ہے، تاہم بیکنگھم پیلس کے قریبی ذرائع کے مطابق شہزادہ کے درجنوں خواتین سے تعلقات رہے ہیں۔

اخبار نے شہزادہ اینڈریو کی جیفری اپسٹن اور ان کے لیے لڑکیوں کو جنسی غلام بنائے جانے کے لیے بھرتی کرنے والی گیسلین میکسویل کے ساتھ نئی تصاویر بھی شائع کیں اور دعویٰ کیا کہ ماضی میں شہزادہ اینڈریو ان کے انتہائی قریب تھے۔

شاہی محل میں ملازمت کرنے والے سابق ملازمین کے مطابق شہزادہ اینڈریو نے 1996 میں اہلیہ سارا فرگوسن سے طلاق کے بعد جیفری اپسٹن اور گیسلین میکسویل سے تعلقات بڑھائے۔

خیال رہے کہ اسی اسکینڈل میں برطانوی ماڈل ناؤمی کامپبیل سمیت امریکا کے کئی سیاستدانوں کے نام بھی سامنے آئے تھے۔

علاوہ ازیں امریکا و برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماضی میں جیفری اپسٹن کے تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی رہے ہیں، تاہم وائیٹ ہاؤس نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اسی اسکینڈل میں اپنا نام سامنے آنے کے بعد چند دن قبل ہی سپر ماڈل ناؤمی کامپبیل نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ وہ جیفری اپسٹن سے مل چکی ہیں، تاہم انہوں نے ان کے ساتھ کسی طرح کے بھی غلط کام میں شریک ہونے کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔

ساتھ ہی ناؤمی کامپبیل نے اس پر شکر ادا کیا تھا کہ جیفری اپسٹن سے ملنے کے باوجود ان کا شکار ہونے اور جنسی غلام بننے سے بچ گئیں۔

الزام لگانے والی خاتون شہزادہ اینڈریو اور جیفری اسٹپن کی محبوبہ کے ہمراہ—فوٹو: این بی سی نیوز
الزام لگانے والی خاتون شہزادہ اینڈریو اور جیفری اسٹپن کی محبوبہ کے ہمراہ—فوٹو: این بی سی نیوز