جج ارشد ملک ویڈیو کیس: ناصر جنجوعہ سمیت 3 ملزمان عدم شواہد پر بری

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2019

ای میل

ایف آئی اے نے ناصر جنجوعہ اور دیگر ملزمان کو 5 روز قبل ہی گرفتار کیا تھا—اسکرین شاٹ
ایف آئی اے نے ناصر جنجوعہ اور دیگر ملزمان کو 5 روز قبل ہی گرفتار کیا تھا—اسکرین شاٹ

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں گرفتار تینوں ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے چند روز قبل گرفتار کیے گئے ملزمان کو سخت سیکورٹی میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں پیش کیا۔

ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کے روبرو پیش کیا گیا تھا لیکن جج شائستہ کنڈی نے مقدمے کی مزید سماعت سے معذرت کی اور کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر یہ کیس نہیں سن سکتیں۔

تاہم وکیل کی جانب سے مسلسل استدعا کی گئی جس پر خاتون جج نے کہا کہ وہ کیس نہیں سکتیں لہٰذا وہ مقدمہ کسی اور جج کے پاس بھیج رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جج ویڈیو لیک کیس: سائبر کرائم عدالت نے ملزم کو عبوری ضمانت دے دی

بعد ازاں مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد کی عدالت میں منتقل کیا گیا اور فاضل جج نے ایف آئی اے رپورٹ کی بنیاد پر تینوں ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو بری کرتے ہوئے ان کے نام مقدمے سے خارج کر دیے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ تینوں ملزمان کے خلاف شواہد نہیں ملے، عدالت چاہے تو انہیں رہا کردے۔

اس پر جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا تفتیش کے دوران ملزمان کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ملا؟ جس کے جواب میں تفتیشی افسر نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جی ، ثبوت نہیں ملے جبکہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی تفتیشی افسر کی تائید کی۔

بعدازاں عدالت نے تینوں ملزمان کے خلاف فیصلہ محفوظ کرلیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے تینوں کو بری کردیا۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں مرکزی ملزم ناصر جنجوعہ سمیت 3 افراد کو 5 روز قبل ہی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

اس کے علاوہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں گرفتار ایک اور ملزم میاں طارق 16 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل ہے کیا؟

یاد رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔

لیگی نائب صدر نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔

مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے۔ لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک مبینہ کی ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

انہوں نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، ویڈیو میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس تمام معاملے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 مرتبہ جج ارشد ملک سے ملاقات کی تھی جبکہ اس تمام معاملے سے متعلق چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔

بعد ازاں 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے ان جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

اسی روز جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا گیا تھا، جس میں ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

بیان حلفی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے انہیں 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی پیشکش کی تھی۔

جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

جج ارشد ملک کیس میں عدالتی فیصلے

مذکورہ ویڈیو اسکینڈل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی۔

جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 22 اگست کو فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو تادیبی کارروائی کے لیے واپس لاہور ہائی کورٹ بھیجنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

دارالحکومت کے ہائی کورٹ سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے مطابق ارشد ملک کے خلاف تادیبی کارروائی لاہور ہائی کورٹ کو کرنا تھی اور اس سلسلے میں لاہور عدالت کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا تھا۔

بعدازاں 23 اگست کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیئے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کردے، وہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر بھی کوئی فیصلہ دے سکتی ہے، ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔