عامر کے بعد وہاب نے بھی ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا عندیہ دے دیا

12 ستمبر 2019

ای میل

وہاب ریاض نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ گزشتہ سال اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا— فائل فوٹو: اے پی
وہاب ریاض نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ گزشتہ سال اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا— فائل فوٹو: اے پی

محمد عامر کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فاسٹ باؤلر وہاب ریاض بھی انہی کے نقش قدم چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انہوں نے غیرمعینہ مدت تک کے لیے ریڈ بال کرکٹ سے وقفہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔

فاسٹ باؤلر وہاب ریاض قائد اعظم کے سیزن کے آغاز سے قبل ہی ایونٹ سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے طویل دورانیے کی کرکٹ سے غیرمعینہ مدت تک کے لیے وقفہ لے لیا ہے۔

مزید پڑھیں: محمد عامر کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے جاری اعلامیے میں وہاب ریاض نے کہا کہ ریڈ بال اور محدود اوورز کی کرکٹ میں اپنی گزشتہ دو سال کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد میں نے فرسٹ کلاس کرکٹ سے وقفہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

33سالہ کرکٹر نے کہا کہ اس عرصے کے دوران میں محدود اوورز کی کرکٹ پر توجہ دوں گا اور کھیل کے سب سے طویل فارمیٹ کے لیے اپنی فٹنس کا جائزہ لیتا رہوں گا اور جب مجھے لگے گا کہ میں ریڈ بال کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہوں تو میں اپنی دستیابی ظاہر کردوں گا۔

وہاب نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے طویل دورانیے کی کرکٹ کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن آج میں نے انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے اور میں ان کے تعاون کرنے پر بہت شکر گزار ہوں۔

واضح رہے کہ جنوری 2017 سے اب تک وہاب ریاض نے صرف 4 ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی ہے اور اپنا آخری ٹیسٹ میچ گزشتہ سال اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا۔

اس فیصلے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ورلڈ کپ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے 28سالہ محمد عامر کی طرح وہاب ریاض نے بھی کھیل کے سب سے بڑے فارمیٹ سے کنارہ کشی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'عامر کے بعد حسن علی اور وہاب بھی ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ سکتے ہیں'

فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھیلنے کے سبب انہیں مستقبل قریب میں ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کے لیے منتخب کیے جانے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اور بڑھتی ہوئی عمر اور ٹی20 لیگز کے پرکشش معاوضوں کے سبب شاید وہ اب کھیل کے سب سے بڑے فارمیٹ کو ترجیح نہ دیں۔

یاد رہے کہ قومی ٹیم کے سابق مایہ ناز فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے محمد عامر کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لیے جانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حسن علی اور وہاب ریاض بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ سکتے ہیں۔