کیا بھارت کا چندریان ٹو مشن ناکام ہوگیا؟

اپ ڈیٹ 13 ستمبر 2019

ای میل

— فوٹو بشکریہ اسرو
— فوٹو بشکریہ اسرو

6 ستمبر کا دن شروع ہوتے ہی دنیا بھر کی سائنس کیمیونیٹیز اور اداروں کا رخ بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے "انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن" کی جانب ہو چکا تھا۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق بھارت کے چاند کے جنوبی قطب کی جانب بھیجے جانے والے مشن چندریان ٹو کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان لینڈ کرنا تھا جس کی براہ راست کوریج کی جارہی تھی اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اس تاریخی واقعے کو دیکھنے کے لیے مشن کنٹرول سینٹر میں موجود تھے، مگر بدقسمتی سے چندریان ٹو سے منسلک وکرم لینڈر کا رابطہ چاند پر لینڈ کرنے سے صرف چند منٹ پہلے مشن کنٹرول سینٹر سے منقطع ہو گیا جو تاحال بحال نہیں ہوسکا۔

جس کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا ایک طوفان برپا ہوگیا کہ وکرم لینڈر کریش لینڈنگ کے بعد چاند کی سطح سے ٹکرانے یا لینڈنگ سے قبل ہی آگ بھڑک اٹھنے کے باعث تباہ ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی قیاس آرائی نیدرلینڈز کی ریڈیو ٹیلی اسکوپ "سیز باسا" کی جانب سے ٹویٹر پر کی گئی، جو لینڈنگ کی ڈوپلر شفٹ کو مسلسل نوٹ کر رہی تھی۔

واضح رہے کہ ڈوپلر شفٹ کسی دور دراز مقام سے زمین کی طرف آنے والے سگنلز کی فریکوئنسی میں مسلسل تبدیلی سے بننے والے گراف کو کہا جاتا ہے۔ سیز باسا کی طرف سے ایک گراف کی تصویر ٹویٹ کی گئی جس میں چندریان کے طے شدہ راستے میں واضح تبدیلی کو عام آدمی بھی نوٹ کر سکتا ہے، جس کے فورا بعد ہی لینڈر کا مشن کنٹرول سینٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

آئی ایس آر او مشن سے متعلق معلومات جاری کرنے میں ابھی تک خاصا محتاط ہے جبکہ دو دن بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چندریان سے منسلک آربٹر سے لینڈر کی تھرمل تصاویر حاصل کی گئی ہیں جس میں وہ تباہ شدہ ٹکڑوں کے بجائے سالم حالت میں موجود ہے مگر فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ لینڈر کو کریش لینڈنگ سے کس حد تک نقصان پہنچا ہے اور کیا اس سے مشن کنٹرول سینٹر کا رابطہ بحال ہو سکے گا یا نہیں۔

واضح رہے کہ چندریان سے منسلک آربٹر چاند کے گرد مدار میں مسلسل گردش میں ہے اور اسے چاند کے جنوبی قطب پر کریش لینڈنگ کے مقام تک آنے میں وقت درکار تھا جس کی وجہ سے تھرمل تصویر حاصل کرنے میں ایک دن سے زائد وقت لگا۔ یہ تھرمل تصویر عام کیمروں سے کھینچی گئی تصاویر جیسے نہیں ہوتی بلکہ اس میں انفرا ریڈ شعاؤں کو ڈیٹیکٹ کر کے جسم کا خاکہ بنایا جاتا ہے جس کو بعد میں مخصوص تکنیک کے ذریعے واضح کر دیا جاتا ہے۔

سیز باسا کی جانب سے چندریان مشن کے حوالے سے اس کے بعد بھی متعدد بیانات جاری کیے گئے ہیں جو زیادہ تر قیاس پر مبنی ہیں کیونکہ اب تک حتمی طور پر چندریان مشن کی قسمت کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مگر سیز باسا نے ان کی جانب سے جاری کی جانے والی فوری معلومات کو بنیاد بنا کر ٹویٹر پر بھارت کا مذاق اڑا نے اور نفرت پر مبنی بیا نات جاری کرنے کی مذمت کی۔

خلائی سفر کی تاریخ میں آج تک جتنے مشن چاند، مریخ یا دوسرے سیاروں کی طرف بھیجے گئے ہیں ان میں سب سے اہم لینڈنگ کے آخری پندرہ منٹ ہوتے ہیں جس کو آئی ایس آر او کے چیئر مین کے سائیوان نے "ہیجان کے پندرہ منٹ" سے تشبیہ دی تھی، جس میں کچھ بھی ہو سکتا تھا مگر بھارت کا مشن 95 فیصد تک کامیاب رہا۔

چاند پر لینڈ کرنے کے لیے وکرم لینڈر کی رفتار کو بتدریج کم کرتے ہوئے چاروں انجنوں کو بند کیا گیا اور "رف بریکنگ" کا یہ مرحلہ بخوبی تکمیل کو پہنچا جس کے بعد "فائن بریکنگ" کا مرحلہ شروع ہوا جس میں لینڈر کی رفتار مزید کم ہوتے ہوئے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجانا تھی، مگر اب تک ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری اور آئی ایس آر او کی جانب سے جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق کریش لینڈنگ کے وقت وکرم لینڈر کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور یہ اپنے طے شدہ راستے "ٹراجیکٹری" سے کافی ہٹ چکا تھا اور لینڈنگ طے شدہ وقت ایک بج کر تئیس منٹ کے بجائے اس سے تین منٹ پہلے ہی ہوچکی تھی۔

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ لینڈر تیز رفتاری کے ساتھ بے قابو ہوکر چاند کی سطح سے ٹکرایا ہے مگر اس میں زیادہ ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی مگر جب تک بھارت آربٹر کی بنائی گئی تھرمل تصاویر جاری نہیں کرتا اس وقت تک یقین سے کچھ بھی کہنا محال ہے، تاہم سادہ قیاس یہی ہے کہ وکرم لینڈر اب قابل استعمال نہیں رہا دوسری جانب چندریان سے رابطہ بحال کرنے کے لیے ناسا سمیت کئی ادارے بھارت کی معاونت کر رہے ہیں۔

موجودہ صورت حال سے بھارت کی خلائی تحقیقاتی ادارے آئی ایس آر او نے مستقبل کے مشنز کے لیے یقیناً بہت سے سبق سیکھیں ہوں گے۔

22جولائی 2019 کو چاند کے جنوبی قطب کی جانب بھیجا جانے والا بھارت کا یہ مشن اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ چاند کے جنوبی قطب پر آج تک دنیا کا کوئی ملک نہیں پہنچ سکا اور جس مقام پر اس نے کریش لینڈ کیا ہے وہاں پانی کے شواہد مل چکے ہیں، مگر بھارت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ایک ترقی پذیر ملک جہاں غربت اور بے روزگاری آخری حدوں کو چھو رہی ہے ایسے ملک کے لیے اربوں روپے یوں خلائی مشنز پر اڑا دینا کیا دانش مندانہ اقدام ہے؟۔

مگر کیا بھارت کی اس ناکامی سے پاکستانی عوام و خواص نے بھی کچھ سبق حاصل کیا ہے؟

ہماری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں جس شخص کو کرتا دھرتا بنا دیا گیا ہے ان کے آئے روز بیانات پر کافی تنقید ہوتی رہتی ہے اور دوسری جانب اندورن ملک سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اپنے طور پر کوشاں سوسائٹیز اور اداروں میں بددلی پھیلنے کا امکان ہے جس کا براہ راست اثر این جی اوز کو ملنے والی بین الااقوامی امداد پر بھی پڑسکتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے اور حکومت کی جانب سے باقاعدہ بیانات جاری کرنے کے لیے پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کو پابند اور متحرک کیا جائے۔ اگر 7 ستمبر2019 کی رات کو سپارکو دیگر خلائی تحقیقاتی اداروں کی طرح متحرک ہوتا اور وکرم لینڈر کے مشن کنٹرول سینٹر سے رابطہ منقطع ہوتے ہی سپارکو کی جانب سے آفیشل طریقے سے بھارت کے مشن پر بیان جاری کردیا جاتا تو فواد چوہدری کی جانب سے دیے گئے بیانات کے بعد ہونے والی بحث سے بچا جاسکتا تھا اور پاکستان کی جانب سے خالصتاً سائنسی بنیاد پر ایک مضبوط ردعمل بھی سامنے آتا۔

تاہم پاکستان کی پہلی خاتون خلا باز کا اعزاز (عنقریب ) رکھنے والی نمیرہ سلیم نے اس حوالے سے پیغام دیا۔ نمیرہ اس وقت امریکا میں مقیم ہیں اور اپنے ادارے "اسپیس ٹرسٹ" کے ذریعے خلا میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جس میں انہیں اقوام متحدہ کا مکمل تعاون اور مدد بھی حاصل ہے۔

نمیرہ سلیم نے 8 ستمبر کی صبح پاکستان کے ڈیجیٹل سائنس میگزین "سائٹیا" کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے بھارت کے چندریان مشن کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انہوں نے کہا کہ میں امید رکھتی ہوں کہ بھارت اس مشن سے بہت کچھ سیکھ کر ہمت نہیں ہارے گا اور خلائی تسخیر کی بھارتی کوششیں جاری رہیں گی۔

اس بیان کو ملکی میڈیا جیو، دی نیوز وغیرہ اور بین الاقوامی میڈیا خلیج ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا نے بہت سراہا۔

خلا کی تسخیر کا خواب دیکھنے والے ممالک چاہے وہ بھارت، چین یا کوئی اور ملک ہو انہیں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے یہ الفاظ یاد رکھنے ہوں گے کہ کسی سیارے یا چاند کی جانب بھیجا جانے والا کوئی مشن کبھی بھی حتمی نہیں ہوتا اگر مشن کامیابی سے لینڈ کر جائے تب بھی ضروری نہیں ہوتا کہ جس مقصد کے لیے اربوں، کھربوں ڈالر صرف کیے گئے ہوں وہ حاصل ہوں گے یا نہیں۔


صادقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں اور نیشنل سائنس ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ، بلاگر اور دو سائنسی کتب کی مصنفہ ہیں۔ صادقہ آن لائن ڈیجیٹل سائنس میگزین سائنٹیا کی بانی اور ایڈیٹر بھی ہیں۔ ۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔