ایران جلد ہی سویڈش جہاز کو آزاد کردے گا، جہاز مالک کا دعویٰ

22 ستمبر 2019

ای میل

سویڈش جہاز کے مالک کے مطابق جہاز کو چھوڑنے کا سیاسی فیصلہ کرلیا گیا ہے—فائل/فوٹو:اے ایف پی
سویڈش جہاز کے مالک کے مطابق جہاز کو چھوڑنے کا سیاسی فیصلہ کرلیا گیا ہے—فائل/فوٹو:اے ایف پی

سویڈن کے تیل بردار جہاز کے مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران خطے میں جاری کشیدگی کے باعث دو ماہ قبل قبضے میں لیے گئے جہاز کو آزاد کر رہا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جہاز کی مالک کمپنی اسٹینا بلک کے چیف ایگزیکٹیو ایرک ہینل کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس میں اشارے ملے ہیں کہ چند گھنٹوں میں اسٹینا امپیرو جہاز کو آزاد کیا جا رہا ہے'۔

اسٹینا بلک کی ترجمان لینا ایلولنگ نے تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود جہاز کو تاحال نہیں چھوڑا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس کوئی نئی رپورٹ نہیں ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے ایک ماہ میں تیسرا تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا

ایرک ہینل نے کہا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ جہاز کو چھوڑنے کا سیاسی فیصلہ کیا گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ چند گھنٹوں میں جہاز کو چھوڑا دیاجائے گا لیکن ہم کسی قسم کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ جہاز فوری طور پر ایرانی سمندر سے باہر آجائے'۔

واضح رہے کہ ایرانی فورسز نے رواں برس خلیج فارس میں برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے جہازوں کو قواعد کی خلاف ورزی پر اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

برطانوی جہاز اسٹینو امپیرو کو 19 جولائی کو آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہوتے ہوئے روک دیا گیا تھا اور ایران نے اس کو قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ایران نے اس تاثر کو رد کردیا تھا کہ اس نے برطانوی کمانڈوز کی جانب سے 4 جولائی کو قبضے میں لیے گئے ان کے جہاز کے جواب میں برطانوی جہاز کو تحویل میں لیا ہے اور واضح کیا تھا کہ جہاز غیر قانونی طور پر ایران کے سمندر میں داخل ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں:تیل بردار جہاز پر قبضہ: برطانیہ کی ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی

برطانیہ نے ایرانی جہاز پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کی جانب سے شام کو تیل کی فراہمی پر عائد پابندیوں کے باوجود جبراالٹر کے سمندر سے گزر کر شام جارہا تھا۔

بعد ازاں جبرالٹر کی حکومت نے ایرانی جہاز کو تحریری ضمانت کے بعد رہا کردیا تھا جبکہ ایران نے دو اعشاریہ ایک ملین بیرل تیل سے لدے جہاز کی منزل کے حوالے سے کسی قسم کی ضمانت دینے کی خبر کو مسترد کردیا تھا۔

ایران نے برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو میں سوار عملے کے 23 اراکین میں سے 7 افراد کو کو 4 ستمبر کو رہا کردیا تھا۔