افغانستان: اتحادی فورسز کی کارروائی، شادی کی تقریب میں شریک 35 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

افغان شہری سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی لاشیں ہسپتال منتقل کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
افغان شہری سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کی لاشیں ہسپتال منتقل کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

افغانستان میں امریکا اور افغان سیکیورٹی فورسز کی طالبان کے خلاف مشترکہ کارروائی کے دوران فائرنگ اور بم دھماکوں سے افغانستان میں شادی کی تقریب میں شریک 35شہری ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔

واقعہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں پیر کو پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: شادی کی تقریب میں خودکش حملہ، 6 افراد ہلاک

آفیشلز کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات جس گھر پر چھاپہ مارا گیا اس میں طالبان خود کش بمباروں کو تربیت دیتے تھے اور اس کے بالکل سامنے واقع گھر میں ایک لڑکی کی شادی تھی اور چھاپے کے دوران کی جانے والی فائرنگ کی زد میں شادی کی تقریب میں شریک افراد بھی آ گئے۔

افغان وزارت دفاع کے ایک سینئر آفیشل نے بتایا کہ یہ چھاپہ ایک غیرملکی دہشت گرد گروپ کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا تھا جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھا۔

افغان وزارت دفاع کے ایک دوسرے آفیشل نے بتایا کہ ایک غیرملکی دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے اس کے اطراف موجود ایک خاتون سمیت دیگر افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرقی افغانستان میں سیکیورٹی فورسز کا فضائی حملہ، 30 شہری ہلاک

ہلمند کی صوبائی کونسل کے رکن عطااللہ افغان نے بتایا کہ ضلع موسیٰ کلا کے علاقے خاکسر کے قریب چھاپہ مارا گیا تھا اور اس کے قریب ہی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے 35شہری ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔

صوبائی کونسل کے ایک اور رکن عبداللہ ماجد اخندزادہ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں مرنے والوں کی تعداد 40 ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق طابان کے اس اڈے کو شدت پسند تنظیموں کے لیے کام کرنے والے دیگر غیرملکی شہری بھی استعمال کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: طالبان کے حملے میں افغان ملیشیا کے 14 اہلکار ہلاک

وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صوبہ ہلمند کے ضلع موسی کلا میں کیے گئے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں 22 طالبان شدت پسند ہلاک جبکہ 14 کو گرفتار کر لیا گیا۔

امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کے خاتمے کے بعد افغان فورسز اور طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان تصادم، بم دھماکوں اور فضائی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔

امریکا کے ایک سینئر دفاعی آفیشل نے بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا تھا البتہ انہوں نے شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

9/11 کے حملوں میں ملوث القاعدہ کے شدت پسندوں کو امریکا کے حوالے نہ کرنے پر امریکا نے افغانستان پر 2001 میں حملہ کردیا تھا اور اس کے بعد سے امریکا افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں طالبان کا قندوز پر ’بڑا‘ حملہ

اس کے بعد امریکا اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں طالبان کے وفد سے بھی مذاکرات کے متعدد دور ہوئے جس سے افغانستان کے مسئلے کو حل نکلتا ہوا نظر آنے لگا تاہم کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان امن مذاکرات کو منسوخ کردیا تھا۔

افغانستان سیکیورٹی فورسز اور امریکا کی مشترکہ کارروائی کے حوالے سے طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فضائی حملے کے بعد زمینی کاروائی بھی کی گئی جس میں شادی کی تقریب میں شریک متعدد شہری اور افغان فورسز کے 18 اہلکار ہلاک ہو گئے۔