بھارت، امریکا سے تجارتی معاہدہ حاصل کرنے میں ناکام

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2019

ای میل

امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کی — فائل فوٹو/اے پی
امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کی — فائل فوٹو/اے پی

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں 'ہاؤڈی مودی' ریلی کے ایک روز بعد ہی امریکا اور بھارت کی مالیاتی ٹیمیں تجارتی معاہدہ کرنے میں ناکام ہوگئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بھارت کے انگریزی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزیر تجارت پیوش گویل امریکا کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائتھیزر سے تجارتی پیکج حاصل کرنے کے لیے نیویارک میں موجود تھے تاہم دونوں فریق انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) مصنوعات کے لیے معاہدہ کرنے میں ناکام رہے۔

معاہدے کا اعلان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ہونا تھا۔

مزید پڑھیں: ہیوسٹن ریلی میں ٹرمپ، مودی یکجہتی مظاہرہ، باہر مقبوضہ کمشیر پر احتجاج

ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز میں نریندر مودی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ 'ہم بہت جلد اور بہت بڑا تجارتی معاہدہ کریں گے'۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نے وضاحت نہیں دی کہ تجارتی معاہدہ کیوں نہ ہوسکا تاہم معلومات رکھنے والے 3 ذرائع نے 'دی ہندو' کو بتایا کہ معاہدہ اس لیے نہیں ہوسکا کیونکہ امریکا چاہتا تھا کہ بھارت آئی سی ٹی مصنوعات پر عائد 20 فیصد کا ٹیرف ختم کرے تاہم نئی دہلی کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی ٹیکنالوجی کی بھرمار ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ امریکا میڈیکل ڈیوائسز اور ڈیری مصنوعات کے لیے بھارتی مارکیٹوں تک مکمل رسائی چاہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی کم کی جائے، ٹرمپ کی مودی سے گفتگو

امریکا نے میڈیکل ڈیوائسز کی قیمتوں کے کنٹرول کو ختم کرنے اور ڈیری مصنوعات سمیت دیگر زرعی اشیا کی مارکیٹوں تک مکمل رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب بھارت امریکی مارکیٹوں میں ترجیحی سسٹم پروگرام کے تحت ترجیحی مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی چاہتا تھا جسے جون میں ختم کردیا گیا تھا۔

بھارت نے زرعی اشیا کی مارکیٹ میں سہولیات بھی طلب کی تھیں جہاں تک اسے پہلے ہی رسائی حاصل ہے اور اس کے علاوہ اس نے چند زرعی مارکیٹوں تک مکمل رسائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔