عمران خان، اردوان کے بعد مہاتیر محمد نے بھی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھادیا

28 ستمبر 2019

ای میل

ملائیشیا کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا—اسکرین شاٹ
ملائیشیا کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا—اسکرین شاٹ

ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھی مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر پر حملہ کیا گیا اور قبضہ کرلیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں مہاتیر محمد نے جموں و کشمیر کو ایک علیحدہ ملک کہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اس 'ملک' پر حملہ کرکے قبضہ کیا گیا، ہوسکتا ہے اس اقدام کی کوئی وجوہات ہوں لیکن یہ تب بھی غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے اور قانون کی حکمرانی کو دیگر طریقے سے نظرانداز کرنے کا باعث بنے گا۔

مزید پڑھیں: خبردار کرتا ہوں! اقوام متحدہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلائے، وزیراعظم

واضح رہے کہ مہاتیر محمد وہ چوتھے سربراہ بن گئے، جنہوں نے رواں برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھانے والے چوتھے رہنما بن گئے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور چین کے وزیرخارجہ وانگ یی بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرچکے ہیں۔

تاہم ان سب سے سب سے اہم خطاب وزیراعظم عمران خان کا تھا، جس میں انہوں نے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، آر ایس ایس کے نظریے، بھارتی وزیراعظم کے اقدامات کو بے نقاب کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم بھرپور انداز میں اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ 'جناب صدر! میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے، دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں ہم آئے تھے'۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ 'اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، اسی کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں'۔

'اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں'۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں اور ہم لڑیں گے، اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں'۔

قبل ازیں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا تھا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر توجہ دینے میں ناکام رہی جو 72 برسوں سے حل طلب ہے۔

ترک صدر نے کہا تھا کہ جنوبی ایشیا کی سلامتی و استحکام کو مسئلہ کشمیر سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت چاہیں تو کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 'کشمیر یوں کو اپنے ہمسایہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ محفوظ مستقبل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو تصادم کے بجائے مذاکرات، انصاف اور برابری کے ذریعے حل کیا جائے'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے باوجود خطہ زیر تسلط ہے اور 80 لاکھ افراد کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں'۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، ساتھ ہی اس اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل وہاں پہلے سے موجود لاکھوں کی تعداد میں فوج میں بھی اضافہ کردیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ بھارت نے وادی میں کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو تاحال جاری ہے جبکہ موبائل، انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ہزاروں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو گرفتار کیا تھا جبکہ حریت قیادت سمیت مقبوضہ وادی کے سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی نظر بند و گرفتار کرلیا تھا۔