مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر بھارتی حکومت سے جواب طلب

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2019

ای میل

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے مکمل لاک ڈاؤن ہے — فائل فوٹو: اے پی
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے مکمل لاک ڈاؤن ہے — فائل فوٹو: اے پی

بھارت کی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف درخواست پر نئی دہلی حکومت سے 4 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دی کوئنٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی کسی نئی درخواست کو دائر کرنے پر بھی پابندی عائد کردی۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے4 نوجوان شہید

واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا تھا جبکہ اسی روز سے وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے اور مظاہروں کو روکنے کے لیے کشمیری قیادت اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

بھارت کے اس اقدام کو 5 اکتوبر کو 2 ماہ مکمل ہوجائیں گے اور وادی ان 2 ماہ میں مکمل لاک ڈاؤن صورتحال کا سامنا کر رہی۔

اس درخواست میں مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام کے معطل ہونے، بچوں کی غیر قانونی حراست اور پابندیوں سے صحت عامہ پر پڑنے والے اثرات کو چیلنج کیا گیا۔

تاہم جسٹس این وی رامانا کی سربراہی میں بھارت کی عدالت عظمیٰ کے بینچ نے حکومت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر جوابی حلف نامے دائر کرنے کی اجازت دی۔

اخبار دی ہندو کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی اس استدعا کو مسترد کردیا کہ جواب کے لیے 2 ہفتوں سے زائد کا وقت نہ دیا جائے۔

تاہم اسکرول ڈاٹ ان کے مطابق سینئر وکیل راجو راماچھندرن نے نکتہ اٹھایا کہ 5 اگست کو بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کی گئی مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کا اطلاق 31 اکتوبر سے ہوگا۔

انہوں نے عدالت میں کہا کہ 'یہ عمل ناقابل واپسی ہوگا اور درخواستوں کو بے بنیاد نہیں قرار دینا چاہیے'۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: 24 گھنٹے میں دوسرے بھارتی فوجی کی خودکشی

یاد رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے اس کیس کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی تھی اور کہا تھا کہ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ کے پاس درخواستوں کو سننے کا وقت نہیں۔

بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا تھا کہ 'ہمارے پاس آئینی بینچ کیس (ایودھیا تنازع) کو سننے کے لیے ہے'۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی کے خلاف ان درخواستوں میں سے 3 درخواستیں ایڈووکیٹس ایم ایل شرما، شاکر شبیر اور صہیب قریشی نے دائر کی ہیں، ان میں سے ایم ایل شرما پہلے درخواست گزار تھے جنہوں نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو چیلنج کیا تھا۔