مولانا فضل الرحمٰن سیاست اور دین میں تصادم چاہتے ہیں، شیخ رشید

اپ ڈیٹ اکتوبر 05 2019

ای میل

وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا اسلام کے میناروں اور دین کو ملوث نہ کریں—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا اسلام کے میناروں اور دین کو ملوث نہ کریں—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمٰن سیاسی اور دینی معاملات میں تصادم کے خواہاں ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ فضل الرحمٰن وزیراعظم عمران خان کے خلاف جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وہ ان کے گلے پڑ جائیں گی۔

انہوں نے فضل الرحمن کی جانب سے 27 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کے فیصلے پر کہا کہ آپ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن اب آپ خود استعمال ہونے جارہے ہیں۔

مزیدپڑھیں: حکومت کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمٰن

وفاقی وزیر نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے مینار ہیں لیکن فضل الرحمٰن سیاست اور دینی امور میں تصادم چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فصل الرحمٰن نے پہلے بھی اپوزیشن کو رسوا کردیا تھا۔

شیخ رشید نے کہا مولانا فضل الرحمٰن کے آگے کھائی اور پیچھے کنواں ہے اس لیے جو فیصلہ کرنا ہے خود کریں لیکن اسلام کے میناروں اور دین کو ملوث نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک سے مقبوضہ کشمیر کے لیے جاری جدوجہد کو نقصان ہوگا اور بھارت سرحد پر چھیڑچھاڑ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ آج جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف نہ ختم ہونے والے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کی یہ جنگ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

مزیدپڑھیں: 'ہم مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کو سپورٹ کر رہے ہیں'

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ان کی جماعت کشمیریوں کے ساتھ یوم سیاہ منانے کے ساتھ ہی اپنی آزادی مارچ کا آغاز کرے گی۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد علمائے کرام کی بڑی تعداد وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے انتہائی اہم لوگوں کے ہمراہ (چین کے) دورے پر جارہے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں یہ اہم ترین دورہ ثابت ہوگا۔

'ایک بھائی کیش 22 کھیل رہا ہے'

شیخ رشید نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ وقت ختم ہوگیا جو سیاست آپ پہلے کرتے تھے۔

انہوں نے شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ 'ادھر ہو یا ادھر ہو'۔

شیخ رشید نے ذومعنی گفتگو میں کہا کہ 'لوگ شک کررہے کہ دونوں بھائی (نواز شریف اور شہباز شریف) اندر سے ملے ہوئے نہ ہوں، ایک بھائی کیش 22 کھیل رہا ہے اور دوسرا مولانا فضل الرحمٰن کا حمایتی کہلاتا ہے'۔

مزیدپڑھیں: 'مولانا فضل الرحمٰن نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں'

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج عمران خان 8 میں سے 6 آدمیوں کو رہا کردیں تو اس ساری تحریک کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔

انہوں نے شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ 'ڈبل شاہ نہیں بنو'۔

شیخ رشید نے دوران پریس کانفرنس پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'کل میں نے پہلی مرتبہ آصف علی زراری کو ٹی وی پر دیکھا تو لگا کہ مردہ قبر سے باہر آگیا'۔