نئے بلدیاتی قانون کے تحت پنجاب میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، الیکشن کمیشن

05 اکتوبر 2019

ای میل

پی ایل جی اے-2019 افراتفری میں پیش کر کے اسمبلی سے منظور کروایا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
پی ایل جی اے-2019 افراتفری میں پیش کر کے اسمبلی سے منظور کروایا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور: الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ (پی ایل گی اے) 2019 نہ صرف الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے بلکہ خود بھی تضادات کا شکار ہے۔

مختلف درخواستوں کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے کی جس میں ای سی پی وکیل کا کہنا تھا کہ اس متنازع قانون میں حد بندی اور انتخابی عمل کے تضادات کے باعث اس کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔

مذکورہ سماعت جسٹس شاہد وحید اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل بینچ کی سربراہی جسٹس مامون رشد شیخ نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ملک میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروانے کا فیصلہ

مذکورہ درخواست لاہور کے سابق لارڈ میئر کرنل مبشر جاوید، 9 نائب ناظمین مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کے بیٹے اور ضلع نارووال کے سابق چیئرمین احمد اقبال کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل خالد رانجھا، احسن بھوں، اعظم نذیر تارڑ، مبین الدین قاضی، اسامہ خاور گھمن اور دیگر وکلا پیش ہوئے۔

درخواست گزاروں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایل جی اے-2019 افراتفری میں پیش کر کے اسمبلی سے منظور کروایا گیا اور اس پر بحث بھی نہیں کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں بلدیاتی قانون کا بل منظور، اپوزیشن مخالفت میں ناکام

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے قانون کے جاری ہونے سے سابقہ بلدیاتی ادارے اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے سے قبل ہی تحلیل ہوگئے تھے۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ 2013 میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کی تحلیل نہ صرف ووٹ اور ووٹرز بلکہ پورے صوبے کے 60 ہزار منتخب نمائندوں کی توہین ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ 2013 کے قانون کے تحت منتخب ہونے والے تمام عہدیداران کو ان کی آئینی مدت پوری کرنے اور اس وقت تک پی ایل جی اے کے نفاذ کو معطل کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر پنجاب نے لوکل گورنمنٹ بل 2019 پر دستخط کردیے

جس پر بینچ نے آئندہ سماعت میں صوبائی سیکریٹری قانون اور سیکریٹری بلدیات کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور درخواست گزاروں کے وکلا کو بھی جواب دینے کی ہدایت دی۔

اس کے علاوہ عدالت نے حکومت کی جانب سے بیوروکریٹس کو بغیر کسی جمہوی کارروائی یا نگرانی کے بلدیاتی فنڈز تقسیم کرنے کا اختیار دینے کے حکم نامے کے خلاف دائر حالیہ درخواست پر صوبائی حکومت کو بھی نوٹس جاری کردیے۔