محمد حنیف کے سرخ پرندے بہ یک وقت ہنساتے بھی رُلاتے بھی

06 اکتوبر 2019

ای میل

’سرخ پرندے حقیقی ہیں۔ انہیں یاد رکھنے کے ڈر سے ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ جب کسی کا سر قلم کیا جاتا ہے تب مقتول کے خون کا آخری قطرہ چھوٹے سے سرخ پرندے میں تبدیل ہو کر اُڑ جاتا ہے۔ جب ہم انہیں فراموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تب وہ نمودار ہوتے ہیں۔ ان کا نمودار ہونا ایک یادداشت نامہ ہے کہ بھلے ہی وہ مر گئے ہیں لیکن انہوں نے ہمیں چھوڑا نہیں ہے۔ ہم انہیں کتنا بھی فراموش کرنے کی کوشش کریں لیکن جب ہم اوپر دیکھتے ہیں تو سرخ پرندے نظر آ ہی جاتے ہیں۔‘

پاکستان کے نامور صحافی و ناول نگار محمد حنیف اپنے نئے ناول ’ریڈ برڈز‘ میں سرخ پرندوں کی وضاحت کچھ اسی طرح پیش کرتے ہیں۔ ناول تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حّصے کا نام صحرا میں، دوسرے حّصے کا نام کیمپ میں اور تیسرے حّصے کا نام دی ہینگر کی جانب رکھا گیا ہے جس میں میجر ایلی سفر کرتے پائے جاتے ہیں۔

کتاب کا سرورق
کتاب کا سرورق

ناول کے آغاز میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کے غرض سے آنے والے امریکی میجر ایلی کا جہاز ایک صحرا میں گر جاتا ہے۔ 8 دن تک صحرا میں بھٹکنے کے بعدایک زخمی کتّے کی شکل میں ایلی کو زندگی کا ایک سراغ ملتا ہے۔ 15 سالہ مومو اپنے کتّے کی تلاش میں صحرا میں آتا ہے تو ایلی کو وہاں دیکھتا ہے۔ مومو سے 2 سال بڑا علی بھائی کچھ عرصہ پہلے صحرا میں واقع ایک امریکی طّیارہ گاہ ’دی ہینگر‘ (The Hangar) میں نوکری کی غرض سے گیا تھا۔ اس کے بعد علی بھائی کا کچھ پتا نہ چلا۔ اس اثناء میں مومو کے والد ایک محقّق خاتون کو گھر لاتے ہیں جو نوجوان مسلمان ذہنیت پر تحقیق کر رہی ہے۔ مومو اس کے بارے میں کہتا ہے ’بہت ہی سادہ سی بات ہے۔ پہلے وہ آسمانوں سے ہم پر بمباری کرتے ہیں اور بعد میں ہمارا ذہنی تناؤ ختم کرنے اور ہمارا ذہن اسٹڈی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ناول کے اہم راویوں میں میجر ایلی، مومو اور مومو کا کتّا مَٹ شامل ہیں۔ سب سے زیادہ مزے کے ابواب مٹ کی کہانی والے ہیں جو بڑے شوق سے اپنی زندگی کے بدترین دنوں کی سرگزشت بتاتا ہے۔ محمد حنیف نے کتّے کے ذریعے کہانی بیان کرنے کا بڑا ہی انوکھا اور دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے۔ انسان کے بیانات تو ہمیشہ اس کے اپنے مفادات کی خاطر ہوتے ہیں جبکہ ایک جانور کی جانب سے مظاہرات کا بیان بے لوث ہوتا ہے۔

مصنّف نے اپنے قلم کے ذریعے امریکی فوجیوں اور پناہ گزینوں کے بیچ نفسیاتی تناؤ یا رشتے کی شاندار عکاسی کی ہے۔ کیمپ میں آنے سے قبل پناہ گزینوں کے بارے میں ایلی کا علم اس کی ٹریننگ تک محدود ہوتا ہے۔ مومو کے ساتھ کیمپ میں جاتے ہوئے میجر ایلی اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ ’کیا میں اس کیمپ میں ایک مہمان ہوں یا پھر ایک قیدی جس کا سودا ٹِن والے کھانے کی بدلے کیا جائے گا؟‘

محمد حنیف نے کتّے کے ذریعے کہانی بیان کرنے کا بڑا ہی انوکھا اور دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے—السٹریشن: عائشہ فصیح
محمد حنیف نے کتّے کے ذریعے کہانی بیان کرنے کا بڑا ہی انوکھا اور دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے—السٹریشن: عائشہ فصیح

میجر ایلی بہت بھوکا ہے لیکن فادر ڈیئر اسے اپنی داستان سنانا شروع کرتے ہیں۔ ایلی غصے میں اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے کہ ’میرے ملک کا ایک پورا شعبہ اِن لوگوں (پناہ گزینوں) کے کھانے کے لیے وقف ہے۔ ان لوگوں کی حفاظت کے لیے ایک فائیو اسٹار طیارہ گاہ بنایا ہوا ہے جس کا پورا خرچہ میرے ہم وطنوں کے ادا کیے گئے محصولات سے آتا ہے۔ کہاں ہے میرا کھانا؟‘ کیمپ میں جب میجر ایلی کو دودھ کے ساتھ چاول پیش کیے جاتے ہیں تو وہ اپنی ’تذلیل محسوس کرتا ہے۔‘ ایلی کو احساس نہیں کہ یہ ایک پناہ گزیں کیمپ ہے جہاں چولہوں سے سالن کے بجائے غم و قَرب کی خوشبو آتی ہے، جہاں گھر کی چودیواری کی اینٹوں اور نیلی چھت کو گھر کا قیمتی سامان گردانا جاتا ہے۔

یہی وہ کیمپ ہے جہاں بقول ایلی حکومت کے ’بُرے لوگ بستے ہیں اور امن امان قائم رکھنے کی خاطر اس کیمپ کو تباہ کرنا لازمی ہے۔‘ کرنل کہتا ہے ’اگر جنگ پوائنٹس بنانے کا ایک اہم موقع نہیں تو اور کیا ہے۔‘ قابض اقوام کی نظر میں تو جنگ محض ایک بہترین موقعے کی فراہمی ہے۔ دہشت ختم کرنے کے بہانے عالمی صوبیدار بننے کے پوائنٹس بنانا، کسی پائلٹ سے پناہ گزیں کیمپ پر بمباری کروا کر اس کے کیریئر پوائنٹس میں اضافہ کرنا، اسی تباہ شدہ علاقے میں لوگوں کو امداد دے کر اقوامِ عالم کی نظروں میں انسانیت کا ہمدرد بن جانے کے پوائنٹس اور پھر انہی کیمپوں میں اپنے محقّق بھیج کر ان پر تحقیق کرنے کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ غرض کہ جنگ واقعی قابض اقوام کو لاتعداد مواقع فراہم کرتی ہے۔

ایلی یاد کرتا ہے کہ ’میرے کیریئر کے آغاز میں ملک کی مرکزی کمانڈ یا پھر مرکزی کمانڈ کا ملک پر بحث ہوئی تھی‘۔ یہ بحث آج انتہائی اہمیت کی حامل ہے جب ہم دنیا کی نہایت اہم جمہوریتوں میں غیر معروف و غیر سیاسی شخصیات کو مملکتوں کا سربراہ بنتے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر ذی شعور شخص کے ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ سربراہانِ مملکت عوام کی جانب سے ووٹ کے ذریعے منتخب کیے گئے ہیں یا ملک کی مرکزی کمانڈ انہیں چُن کر لائی ہے۔

اگر محمد حنیف کی لکھائی میں طنز نہ ہو تو لکھائی ادھوری معلوم ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح حنیف کی زبان طنز و مزاح سے بھرپور ہے۔

محمد حنیف
محمد حنیف

ایک جگہ پر میجر ایلی سوچتا ہے کہ ’بہت خوب۔ ایک سال میں یہ لوگ مجھے نوکری سے رٹائر کردیں گے اور میری جگہ پر ہوسٹن کا ایک پاگل آئے گا جو ایک ہاتھ سے ڈرون کنٹرول کرکے جنگ کرے گا اور دوسرے ہاتھ سے بار بی کیو ساس میں فرائیز ڈبو کر کھائے گا۔ ’کرنل نے میدانِ جنگ میں بہت سارے تمغے کے ساتھ نامناسب وقت پر غیرضروری بات کرنے پر ہمیشہ ڈانٹ کھائی تھی۔‘

علی مومو سے کہتا ہے ’جس پر تم چلتے ہو یہ ریت نہیں بلکہ زمین ہے جو ہماری ماں ہے۔ اِس کا سودا کرنا ماں کے سودا کرنے کے مترادف ہے۔ مومو جواباً کہتا ہے ’تو کیا تیل بیچنے والے ممالک اپنی ماں کا دودھ بیچ رہے ہیں؟‘ درد میں تڑپتا ایک امریکی پوری کائنات کا سر درد ہوتا ہے۔‘ زبان کا بہترین استعمال کرکے حنیف نے کیمپ کی اس الم ناک زندگی، جنگ کے دور رس اثرات اور امریکی بیوروکریسی کو نہایت ہی سادہ، ہلکی اور طنز سے بھری زبان میں بڑے ہی عمدہ انداز میں بیان کیا ہے۔ ناول پڑھتے وقت بہ یک وقت قاری کے لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

حنیف قریشی نے بجا طور پر اِس ناول کو ’ایک نہایت مزاحیہ المیہ‘ کہا ہے۔


کتاب کا نام: ریڈ برڈز

مصنّف: محمد حنیف

صفحات: 280

ناشر: بلومس بری، لندن