سری نگر میں بھارت مخالف احتجاج، سابق وزیراعلیٰ کی بہن، بیٹی گرفتار

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

فاروق عبداللہ کی بہن ثریا عبداللہ سمیت دیگر خواتین سری نگر کے پارک میں احتجاج کر رہی تھیں—فوٹو:اے پی
فاروق عبداللہ کی بہن ثریا عبداللہ سمیت دیگر خواتین سری نگر کے پارک میں احتجاج کر رہی تھیں—فوٹو:اے پی

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن اور بیٹی سمیت کم ازکم 12 خواتین کو بھارت مخالف احتجاج پر گرفتار کرلیا۔

غیرملکی خبر ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کے مرکزی پارک میں خواتین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن میں درج تھا کہ ‘بنیادی حقوق کا احترام کریں اور جموں و کشمیر کی حیثیت کو کیوں کم کردیا گیا ہے’۔

خواتین کو مارچ سے روک دیا گیا—فوٹو:اے پی
خواتین کو مارچ سے روک دیا گیا—فوٹو:اے پی

پولیس نے انہیں شہر کے کاروباری علاقے لال چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش پر قریبی تھانے میں روک لیا۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے دو ماہ تک مکمل بلیک آؤٹ کے بعد گزشتہ روز پوسٹ پیڈ موبائل فون سروس بحال کردی تھی جبکہ انٹرنیٹ اور پری پیڈ سروس تاحال معطل ہے۔

بھارت نے جیسے ہی پابندیوں میں کچھ نرمی کی کشمیریوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے اور خواتین کی جانب سے بھی بھارت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں 72 روز بعد موبائل پوسٹ پیڈ سروس بحال، انٹرنیٹ تاحال بند

بھارتی چینل ‘این ڈی ٹی وی’ کی رپورٹ کے مطابق فاروق عبداللہ کی بہن ثریا عبداللہ اور بیٹی صوفیا عبداللہ خان کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق چیف جسٹس بشیر احمد خان کی اہلیہ حوا بشیر خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتار خواتین کو جلد رہا کرنے کا امکان ہے—فوٹو:اے پی
گرفتار خواتین کو جلد رہا کرنے کا امکان ہے—فوٹو:اے پی

سری نگر میں گرفتار ہونے والی دیگر خواتین میں انسانی حقوق کے معروف رضاکاروں اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ خواتین شامل ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ 81 سالہ فاروق عبداللہ کو 5 اگست کو مقبوضہ وادی میں نافذ کرفیو کے دوران نظر بند کردیا گیا تھا جبکہ ان کے بیٹے عمر عبداللہ کو باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں بھارت پولیس نے فاروق عبداللہ کو 16 ستمبر کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت باقاعدہ گرفتار کیا تھا اور ان کے گھر کو سب جیل قرار دیا تھا۔

عمر عبداللہ تاحال اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں زیر حراست ہیں۔

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ و پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی اور دیگر معروف سیاسی رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: 'کرفیو، مواصلاتی بندش کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہوئیں'

حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت دیگر حریت رہنما بھی تاحال گرفتار ہیں جن کی گرفتاری کو دو ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے جبکہ یاسین ملک طویل عرصے سے بھارت کے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 5 اگست سے 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جس میں 144 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں اور متعدد افراد کو متنازع قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی سیکیورٹی فورسز فائرنگ کے واقعات میں متعدد کشمیریوں کو شہید کرچکی ہیں اور پولیس نے ہتھیاروں کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا۔