ٹوائلٹ میں فضلے کی وہ رنگت جس پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری

18 اکتوبر 2019

ای میل

اس وقت کیا ہو جب آپ کو تبدیلی محسوس ہو— رائٹرز فوٹو
اس وقت کیا ہو جب آپ کو تبدیلی محسوس ہو— رائٹرز فوٹو

آنتوں کے مسائل کا سامنا ہر ایک کو ہی زندگی میں کبھی نہ کبھی ہوتا ہے۔

درحقیقت یہ تعین کرنا کہ جسمانی نظام سے خارج ہونے والا فضلہ یا پوٹی نارمل ہے، آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس کا حجم اور ساخت بدلتی رہتی ہے،درحقیقت اس کا انحصار آپ کی غذا یا زندگی کی صورتحال پر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق آنتوں کے افعال ہر فرد میں مختلف ہوسکتے ہیں جس کا انحصار غذا، جسمانی سرگرمی، پانی کی مقدار کا استعمال اور ادویات پر ہوتا ہے۔

ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور ٹوائلٹ میں جانے کا معمول کیا ہے مگر اس وقت کیا ہو جب آپ کو تبدیلی محسوس ہو؟

اس بارے میں ماہرین کی رائے جانیں کہ کس صورتحال میں تبدیلی کو دیکھ کر ڈاکٹر سے رجوع کرلینا بہتر ہوتا ہے۔

سیاہ رنگت

بالٹی مور مرسی میڈیکل سینٹر کے سرجیکل ڈائریکٹر جیفری ایم نیلسن کہتے ہیں کہ اگر فضلے کی رنگت گہری بھورے رنگ کی بجائے سیاہ ہو، تو اس پر فکرمند ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ اس رنگت کا مطلب ہوتا ہے کہ اوپری غذائی نالی، معدے یا چھوٹی آنت میں خون بہہ رہا ہے۔

مگر کئی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے جیسے اگر آئرن سپلیمنٹ کا استعمال کررہے ہوں، تو فضلے کی رنگت اتنے گہرے سبز رنگ کی ہوسکتی ہے کہ وہ لگ بھگ سیاہ ہی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ اور ادویات کے استعمال کا بھی یہ اثر ہوسکتا ہے، مگر پھر بھی بہتر یہ ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جائے۔

شوخ سرخ رنگ

اگر یہ رنگت نظر آئے تو یہ مقعدی نالی (anal canal) یا مقعد (rectal)کے نچلے حصے میں جریان خون کا عندیہ ہوسکتا ہے۔ جیفری ایم نیلسن کے مطابق اندرونی بواسیر اور چند دیگر عوارض میں یہ مسئلہ ہوتا ہے اور ایسی رنگت نظر آنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

عنابی یا میرون

اگر فضلے کی رنگت عنابی ہو یعنی سیاہی مائل گہرا سرخ رنگ ہو اور ساتھ میں ناگوار بو کا سامنا بھی ہو تو جیفری نیلسن کے مطابق یہ چھوٹی آنت یا قولون کے آخری حصے میں خون بہنے کا عندیہ ہوسکتا ہے۔ عطفیت (Diverticulosis) اس حالت کو کہا جاتا ہے جس میں آنتوں میں تھیلی نما حصے ابھر آتے ہیں اور شریان کی ساخت میں خرابی یا نقص کا عارضہ arteriovenous malformations اس کی وجوہات ہوسکتے ہیں، جو کہ ایمرجنسی روم میں جانے کی وجہ بن سکتا ہے۔

زرد، چکنا اور بہت زیادہ بدبودار

اس طرح کی رنگت اور بو کی وجہ چربیلے اسہال (steatorrhea) کے باعث ہوتی ہے اور یہ فضلے میں بہت زیادہ چربی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کرس کاریوببا کے مطابق اس طرح کا عارضہ اکثر malabsorption سینڈروم، لبلبے کے افعال میں کمی اور صفرا یا بائل کے امراض کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فضلے میں یہ علامات نظر آئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جسم کو چربی ہضم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور مریض میں چربی حل پذیر کرنے والے وٹامنز جیسے وٹامن اے، ڈی، ای اور کے کی کمی کے خطرے کا سامنا ہے۔

عام حالات سے مختلف

ہمارا جسم لگے بندھے معمولات کا عادی ہوتا ہے اور اگر اچانک فضلے کے حجم میں بہت زیادہ تبدیلی آجائے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہیے۔

سرجن کیرن سوئیکا کے مطابق اس طرح کی تبدیلی کسی ورم جیسی کیفیت کا نتیجہ ہوسکتی ہے جو کہ شاید کروہن یا انفیکشن میں موجود ہو۔ اگر فضلے کی شکل تبدیلی ہوکر پانی جیسی یا ہیضے جیسی ہوگئی ہے تو یہ خراش آور معائی علامیہ (irritable bowel syndrome) کی علامت ہوسکتی ہے، جسے آئی بی ایس بھی کہا جاتا ہے۔ اس عارضے کے نتیجے میں قبض کی شدت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

چپچپا پن یا بلغم جیسا

ایسا عموماً آنتوں میں ورم کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ نظام ہاضمہ کے ماہر ڈاکٹر پیٹون بیروکم کے مطابق یہ آئی بی ایس امراض کی بھی علامت ہوسکتی ہے۔ اس کو کبھی نظرانداز مت کریں اور طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔

سخت

غذا میں فائبر کی کمی اور کم پانی پینے کی عادت قبض کی شدت کو بڑھا دیتی ہے جس سے فضلے کی ساخت سخت ہوسکتی ہے، مگر یہ مسئلہ ادویات، آنتوں میں رکاوٹ یا قولون کینسر کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق قبض کا علاج متعدد طریقوں سے کیا جاسکتا ہے جیسے فائبر اور پانی کا استعمال بڑھانا، روزانہ کم از کم 25 گرام فائبر کو جزوبدن بنانا چاہیے جبکہ پانی کی ضرورت ہر فرد میں مختلف ہوسکتی ہے، تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے تاکہ وہ درست تشخیص کرسکے۔

پانی جیسے یا باربار آنا

ہیضہ خراب غذا کے استعمال یا ایک انفیکشن کا نتیجہ ہوتا ہے جو عام طور پر ایک ہفتے کے اندر ٹھیک ہوجاتا ہے۔

مگر ہیضہ 2 ہفتے سے زیادہ برقرار رہے اور اس کے ساتھ جریان خون، جسمانی وزن میں کمی یا رات کو نیند متاثر ہونا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ انفیکشن کی جگہ لیکٹوز کی عدم برداشت، آئی بی ایس، آنتوں کے ورم کے امراض یا شکمی عارضے (celiac disease) کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

ویسے بھی یہ اچھا خیال ہے کہ اگر آنتوں کے افعال میں تبدیلی آئے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرلیا جائے کیونکہ فضلہ ہوسکتا ہے کسی گڑبڑ کے بارے میں بتانے کی کوشش کررہا ہو۔