ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور پاکستان کی معیشت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

19 اکتوبر 2019

ای میل

ان شرائط کو پاکستان مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔ سرمائےکی غیرقانونی سرگرمی رکےگی تو قانونی طریقےسے کمانے والوں کا فائدہ ہوگا—خاکہ ایاز احمد لغاری
ان شرائط کو پاکستان مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔ سرمائےکی غیرقانونی سرگرمی رکےگی تو قانونی طریقےسے کمانے والوں کا فائدہ ہوگا—خاکہ ایاز احمد لغاری

جس خبر کا پاکستان کو شدت سے انتظار تھا وہ فرانس کے شہر پیرس سے بالآخر آگئی۔

پردیس سے آنے والی اس خبر کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کے حوالے سے اپنے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی یعنی پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے تو بچ گیا البتہ واچ لسٹ یا گرے لسٹ سے جان نہیں چھڑا سکا۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر شیالگمن لو نے میڈیا کو پاکستان کے بارے میں ٹاسک فورس کے فیصلوں پر مفصل بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ،

‘پاکستان جون 2018ء سے گرے لسٹ میں ہے۔ پاکستان ایک ایکشن پلان پر متفق ہوا تھا، تاہم اس کی پیش رفت ناکافی ہے۔ ایکشن کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا تھا۔ پاکستان نے اعلیٰ سطحی پر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکا ہے اور ایکشن پلان کی ڈیڈ لائن ختم ہوچکی ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت میں پاکستان نے اس معاملے پر کچھ ٹھوس پیش رفت ضرور کی ہے جس کا ایف اے ٹی ایف خیر مقدم کرتی ہے لیکن اب تک بیشتر نکات پر عمل نہیں ہوسکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایف اے ٹی ایف پاکستان کی جانب سے ان معیارات پر پورا نہ اترنے سنجیدگی سے لے رہا رہا ہے لہٰذا پاکستان کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ وہ فروری 2020ء تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے۔ اگر ٹھوس پیش رفت نہ کی گئی تو ایف اے ٹی ایف سخت ایکشن لے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں مالیاتی اداروں کو ہدایت کی جائے گی کہ پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کرنے اور لین دین کے حوالے سے خصوصی توجہ دیں۔‘

ایف اے ٹی ایف کے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں‘۔

ٹاسک فورس کے صدر شیا لگمن لو—رائٹرز
ٹاسک فورس کے صدر شیا لگمن لو—رائٹرز

پیرس میں منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان سمیت مختلف ملکوں کے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایف اے ٹی ایف نے ایتھوپیا، تیونس اور سری لنکا کو گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان کیا۔ اس طرح اب پاکستان کے علاوہ کمبوڈیا، گھانا، آئس لینڈ، منگولیا، پاناما، شام، یمن، زمبابوے سمیت افریقہ کے نہایت ہی پسماندہ ملک رہ گئے ہیں جبکہ بلیک لسٹ میں شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے اپنے اعلامیے میں ایف اے ٹی ایف نے 10 ایسے نکات کی نشاندہی کی جس پر پاکستان کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق اپنے قوانین اور طریقہ کار عالمی معیار کے مطابق بناسکے۔

10 نکات

  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے لاحق دہشت گردی کی فنانسنگ کے ممکنہ خطرات کا مناسب فہم رکھتا ہے اور پھر ان خطرات کے پیش نظر اس قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ/ ٹیرر فناسنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تدارکی اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان پر پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں، اور یہ بھی کہ مالیاتی ادارے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق معاملات میں ان اقدامات کی تعمیل کرتے ہیں۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے بااختیار ادارے پیسوں کی غیر قانونی منتقلی یا ویلیو ٹرانسفر سروسز کی نشاندہی کرنے میں تعاون کر رہے ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی میں مصروف ہیں۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ اس کے ادارے کیش کوریئرز پر نگرانی رکھے ہوئے
    ہیں اور نقد کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام میں اپنا کردار ادا
    کر رہے ہیں۔
  • ممکنہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی اداروں سمیت تمام اداروں کے باہمی تعاون کو بہتر بنایا جائے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمیوں پر تحقیقات کر رہے ہیں اور تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی نامزد لوگوں، اداروں یا پھر ان کے نمائندے کے طور پر کام کرنے والے لوگوں یا اداروں کے خلاف ہورہی ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق سرگرمی کرنے والوں کے
    خلاف قانونی کارروائی کے نتیجے میں مؤثر، مناسب اور مزاحم پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور پاکستان وکیل استغاثہ اور عدلیہ کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد دہشگردوں اور ان کے سہولت کاروں پر (جامع قانونی اصولوں کے ذریعے) اہدافی مالی پابندیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ انہیں چندہ اکھٹا کرنے اور ان کی منتقلی کی روک تھام کی جا رہی ہے، ان کے اثاثوں کی نشاندہی اور انہیں منجمد کیا جا رہا ہے اور انہیں مالی امداد اور مالی سروسز تک رسائی سے باز رکھا جا رہا ہے۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملات کو انتظامی اور ضابطہ فوجداری کے تحت قانون کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے اور قانون کے اس نفاذ میں صوبائی اور وفاقی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔
  • پاکستان یہ ظاہر کرے کہ نامزد افراد اور ان کے سہولت کار جن سہولیات اور سروسز کے مالک ہیں یا پھر کنٹرول کرتے ہیں ان کے وسائل ضبط کرلیے گئے ہیں اور وسائل کا استعمال ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اسی لحاظ سے پاکستان میں کاروبار کی وسعت پائی جاتی ہے اور مالیاتی اداروں کا اسٹرکچر موجود ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے حوالے سے پاکستان میں پہلے پہل بہت زیادہ آگاہی نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن جب جون 2018ء میں پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہوا تو اس وقت کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے طور پر اقدامات کرلیے ہیں اور امید ہے کہ پاکستان جلد گرے لسٹ سے باہر ہوگا۔

ملکی حجم اور جغرافیے جیسے پہلوؤں کی وجہ سے پاکستان میں مالیاتی لین دین ایک وسیع اور پیچیدہ موضوع ہے۔ ایف اے ٹی ایف یا عالمی مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے لحاظ سے پاکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔

سال 2009ء میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی غرض سے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) قائم کی جس کی سربراہی وفاقی وزیرِ خزانہ کو دی گئی۔ اس کمیٹی میں وفاقی سطح پر موجود تمام اداروں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ کمیٹی عالمی قوانین کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

ٹاسک فورس کے صدر شیا لگمن لو اور ایگزیکیٹو سیکریٹری ڈیوڈ لیوز
ٹاسک فورس کے صدر شیا لگمن لو اور ایگزیکیٹو سیکریٹری ڈیوڈ لیوز

اس کے علاوہ جنرل کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں تمام وفاقی تحقیقاتی، مالیاتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ ان دونوں کمیٹیوں کا ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کا سربراہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، نیب، ایف آئی اے، اے این ایف، ایف بی آر (کسٹم اور ان لینڈ ریونیو)، نیشل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی، قومی بچت، پاکستان پوسٹ، آئی کیپ، پاکستان بار کونسل اور صوبائی سطح پر پولیس، محکمہ قانون و داخلہ اور سماجی بہبود کے ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اس سے متعلق معاملات پر نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کیسز کو رپورٹ کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

پاکستان نے بہت پہلے سے ہی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی قوانین کو اپنانا شروع کردیا تھا۔ 2010ء میں پاکستان نے منی لاندڑنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے پہلا قانون متعارف کروایا تھا جسے بعدازاں 2016ء میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کی غرض سے بذریعہ ترمیم بہتر بنایا گیا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے سے قبل یہاں کے مالیاتی نظام کا گہرائی سے جائزہ لیا تھا۔ پاکستان کے 2 بینکوں حبیب بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے اپنے نیویارک میں آپریشنز انہی الزامات کی بنیاد پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ اسٹیٹ بینک نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس سے متعلق جو ضوابط جاری کیے تھے وہ صرف اسی سے لائسنس حاصل کرنے والے 34 کمرشل بینکوں، 5 اسلامی بینکوں 11 مائیکرو فنانس بینکوں پر لاگو ہوتے تھے تاہم جون 2018ء کے بعد 52 ایکسچینج کمپنیوں پر بھی ان قوانین کا اطلاق کیا گیا۔

مگر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ماتحت کام کرنے والے 227 بروکریج ہاؤسز، 70 ڈی ایف آئیز، 50 انشورنس کمپنیوں اور 29 مضاربہ کمپنیوں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ محکمہ پوسٹ اور قومی بچت بھی اس دائرہ کار سے باہر رہے۔

پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات پر جاری کی جانے والی میوچؤل ایوے لوایشن رپورٹ کو اگست 2019ء میں مشترکہ طور پر منظور کیا گیا۔ یہ ضخیم رپورٹ 8 ابواب اور 227 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ میں اکتوبر 2018ء تک پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 40 تجاویز پیش کی تھیں جس میں ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانس کے لیے کرپشن، اسمگلنگ، منشیات، دھوکہ دہی، ٹیکس چوری، اغوا برائے تاوان اور بھتے کے ذریعے حاصل ہونے والا پیسہ نقد لین دین، ریئل اسٹیٹ، قیمتی دھاتوں (سونا) اور زیورات کی صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے اور اس کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو اپنی سرحدوں میں ہونے والے سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے علاوہ دیگر ملکوں میں منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری، دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی دولت کی پاکستان منتقلی کے خلاف بھی اقدامات کرنے ہیں۔ جس میں جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری میں مدد کے علاوہ غیر قانونی پیسے سے حاصل کردہ جائیداد یا نقد رقم کی ضبطگی بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف نے اپنی سابقہ رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں سے مالیاتی جرائم میں ملوث افراد اور ان کی جائیداد سے متعلق متعدد کیسز پاکستان کے حوالے کیے۔ یہ کیسز وزارتِ خارجہ کے ذریعے ایف آئی اے، نیب، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیے گئے مگر ان پر خاطر خواہ کارروائی نہ ہوسکی اور معاملات عدالتوں میں آکر رُک گئے ہیں۔

پاکستان جون 2018ء سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے
پاکستان جون 2018ء سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے

ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور کس طرح کام کرتی ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 30 سال قبل جی سیون (G-7) ملکوں نے 1989ء میں فرانس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا تھا۔ بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوگئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اراکین کی تعداد 39 ہے جس میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف سے 8 علاقائی تنظیمیں بھی منسلک ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسفک گروپ کا حصہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک موجود ہے۔

ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا۔ امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

ٹاسک فورس اپنے کھلے ایجنڈے پر خالصتاً ٹیکنکل بنیادوں پر کام کرتی ہے، اسی لیے اس ٹاسک فورس میں مختلف ملکوں کے ماہرین برائے انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ شریک ہوتے ہیں۔

ٹاسک فورس کے موجودہ صدر شیالگمن لو کا تعلق چین سے ہے۔ وہ ایف اے ٹی ایف کے صدر بننے سے قبل چین کے مرکزی بینک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق شعبے کے سربراہ تھے۔ شیالگمن چین میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت کے حوالے سے متعدد اقدامات کرچکے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونے والی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کے لیے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر جو شرائط عائد کی ہیں اور جن شعبوں میں پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا کسی ایک حکومتی ادارے کا کام نہیں ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو جلد از جلد قانون سازی کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی وضع کرنا ہوگا۔

ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان مخالف تصور نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت رُکے گی تو اس کا فائدہ قانونی طریقے سے کمانے والے عام عوام کو ہوگا۔

حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی، قانونی لین دین میں اضافے سے ٹیکسوں کی وصولی بھی بہتر ہوگی، سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری پر کاری ضرب لگنے سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔