سرفراز آپ ہمیں بالکل اچھے نہیں لگے!

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2019

ای میل

وقار یونس، ایک ایسا ڈرانے والا اور خوف زدہ کردینے والا باؤلر جس کا سامنا کرتے ہوئے مخالف ٹیم کے بلے بازوں کی ٹانگیں کانپتی تھیں۔ جو اپنی ان صلاحیتوں کی وجہ سے ’ٹو کرشر‘ کے نام سے پہچانا جانے لگا، مگر پھر یہ ہوا کہ بطورِ کھلاڑی جب وہ رخصت ہوا تو ایک غلطی کر بیٹھا، اور کوچنگ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا فیصلہ کیا۔

یہاں سے عزت اور شہرت کی بھاگتی دوڑتی گاڑی نے ریورس گئیر لگایا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے ذلت کی گہری اور تاریک راہوں میں جانے لگا۔

غلط فیصلوں کی ایک طویل فہرست ہے جس نے صرف قومی ٹیم کو ہی نہیں، بلکہ وقار یونس کی اپنی ذات کو بھی بہت نقصان پہنچایا۔

آغاز کرتے ہیں ورلڈ کپ 2015ء سے۔ ابتدائی 4 میچوں میں سے قومی ٹیم نے 2 جیتے اور 2 ہارے۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف شرمناک شکست کا سامنا کیا تو اگلے 2 میچ زمبابوے اور متحدہ عرب امارات کے خلاف جیت لیے۔

ان ابتدائی 4 میچوں میں قومی ٹیم کو اوپننگ اور وکٹ کے پیچھے اچھے کیپر کی صورت میں بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں۔

بطورِ کوچ وقار یونس نے بھارت کے خلاف پہلے ہی میچ میں کسی اسپیشلسٹ اوپنر کو کھلانے کے بجائے یونس خان کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور سرفراز احمد جیسے پکے وکٹ کیپر کی جگہ عمر اکمل کو یہ ذمہ داری دی، اور یہ دونوں ہی فیصلے ٹیم کے خلاف گئے۔

پہلے عمر اکمل نے غلطی کی اور انتہائی اہم موقع پر جب ویرات کوہلی 76 رنز پر کھیل رہے تھے تو عمر اکمل نے ان کا کیچ چھوڑ دیا اور یوں کوہلی نے اس میچ میں اپنی 22ویں سنچری مکمل کی، دوسری طرف یونس خان بھی اچھا کھیل پیش نہیں کرسکے اور صرف 6 رنز ہی بنا پائے، اور یوں ان غلطیوں کی وجہ سے پاکستان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑگیا۔

دوسرے میچ میں ناصر جمشید کو آزمایا مگر وہ اگلے 3 میچوں میں کچھ نہ کرسکے اور بالترتیب صفر، ایک اور 4 رنز بناسکے۔

جب وہ مسلسل ناکام ہورہے تھے اور وکٹ کے پیچھے عمر اکمل کی کارکردگی بھی خراب سے خراب تر ہوتی جارہی تھی تو کرکٹ ماہرین اور شائقین کرکٹ بار بار یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ جب آپ کے پاس سرفراز احمد کی صورت ایک وکٹ کیپر بیٹسمین موجود ہے تو آپ اس کو موقع کیوں نہیں دے رہے؟ جب دباؤ مستقل بڑھتا گیا تو بالآخر سرفراز کو موقع مل گیا اور انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف 49 اور آئرلینڈ کے خلاف 101 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر وقار یونس کے اس دعوے کو غلط ثابت کردیا کہ وہ بطور اوپنر اچھا کھیل پیش نہیں کرسکتے۔

اب چونکہ شاہد آفریدی اور کپتان مصباح الحق ورلڈ کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کرچکے تھے، اس لیے ٹیم انتظامیہ کے لیے ایک نیا امتحان کپتان کی صورت کھڑا ہوا کہ اگلا کپتان کون ہوگا؟

انڈر 19 اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بحثیت کپتان زیادہ تجربہ ہونے کی وجہ سے ماہرین یہ رائے دے رہے تھے کہ سرفراز احمد کو موقع دیا جائے، مگر وقار یونس نے اظہر علی کا نام تجویز کیا۔ یاد رہے کہ اظہر علی اس وقت ایک روزہ کرکٹ میں قومی ٹیم کا مستقل حصہ بھی نہیں تھے اور انہوں نے اپنا آخری میچ 2013ء میں بھارت کے خلاف کھیلا تھا۔

اس تجویز پر ہر طرف سے ہی حیرت کا اظہار کیا جانے لگا، لیکن چونکہ وقار یونس کے پاس اختیار تھا، لہٰذا ان کی بات مان لی گئی۔

یہ بھی سال 2015ء کی بات ہے کہ ورلڈ کپ میں شکست کے بعد قومی ٹیم نئے کپتان کی قیادت میں دورہ بنگلہ دیش پر پہنچی اور یہ سوچ کر پہنچی کہ آسان فتوحات کو سمیٹ کر اپنے اعتماد کو بحال کرلیا جائے گا۔ چونکہ یہ ٹؤر بظاہر آسان تھا لہٰذا اس ٹؤر میں 6 تبدیلیاں کی گئیں، مگر یہ کیا، یہاں تو الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ٹیم کو ایک روزہ اور ٹی20 سیریز میں بنگلہ دیش کے خلاف کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑگیا۔

اس سیریز کے بعد قومی ٹیم دورہ سری لنکا پہنچی جہاں کھیلی جانے والی ٹی20 سیریز میں سرفراز احمد کو نائب کپتان ہونے کے باوجود ڈراپ کردیا گیا، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین، شائقین کرکٹ اور میڈیا نے حیرانی کا اظہار کیا۔ چیئرمین پی سی بی نے ایک بیان بھی جاری کیا کہ سرفراز کو کیوں ڈراپ کیا گیا وہ اس حوالے سے ہیڈ کوچ وقار یونس سے بات کریں گے۔

معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ ایشیا کپ اور ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی ٹیم نے انتہائی مایوس کن کارکردگی پیش کی جس کا نتیجہ وقار یونس کے استعفے کی صورت نکلا، جو انہوں نے اپنے کانٹریکٹ پورا ہونے سے 3 مہینے پہلے ہی دے دیا۔

غلط فیصلوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کا یہ سلسلہ جہاں رکا تھا، ایسا لگتا ہے کہ 2019ء میں وہیں سے شروع ہوگیا ہے۔

اگرچہ وقار یونس اس بار صرف بطور باؤلنگ کوچ آئے ہیں مگر مصباح الحق کے ساتھ انہوں نے طویل عرصے کام کیا ہے اور کھلاڑیوں کو ضائع کرنے اور غلط فیصلے کرنے سے متعلق ان دونوں کی عادت ایک جیسی ہی ہے۔

اس کی واضح مثال سری لنکا کے دورہ پاکستان میں دیکھنے کو مل گئی۔

ایک ایسی ٹیم جو ٹی20 کرکٹ میں گزشتہ ایک سال سے 'نمبر ون' پوزیشن میں ہے اس کے ساتھ ایسی چھیڑ خانی کرنے کا مشورہ ان دونوں حضرات کو کس نے دیا کچھ سمجھ نہیں آیا۔

یہ وقار یونس اور مصباح الحق ہی تھے جنہوں نے 2015ء میں عمر اکمل اور احمد شہزاد کے رویے سے متعلق بورڈ کو پیغام پہنچایا تھا اور ٹیم سے باہر کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن 2019ء میں ایسا کیا بدل گیا کہ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی دونوں حضرات نے سب سے پہلے ان دو کھلاڑیوں کو واپس ٹیم میں شامل کیا۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ سرفراز احمد سے متعلق جو شرمندگی ان دونوں حضرات کو 2015ء کے ورلڈ کپ میں ہوئی تھی، انہوں نے اس کا بدلہ لے لیا؟ کیونکہ جس کپتان نے گزشتہ 14 سیریز میں سے 12 میں فتوحات سمیٹی ہوں اور ان 12 میں سے بھی 11 لگاتار سیریز جیتی ہوں، اس کپتان کو محض ایک سیریز میں شکست کی وجہ سے نکالنا عقل والی بات لگتی نہیں۔

اس بار دال میں کچھ کالا نہیں، پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے۔

لیکن وقار یونس اور مصباح الحق کے غلط فیصلوں اور پرانے حساب کتاب کو اگر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو سرفراز احمد کی اپنی بھی غلطی ہے۔ اگر وہ اپنی مسلسل گرتی فارم کو ٹھیک کرلیتے تو انہیں یوں مکھن سے بال کی طرح نکالنا کبھی بھی اتنا آسان نہیں ہوتا۔

ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے اب قومی کرکٹ ٹیم کو 8 انتہائی اہم ٹی20 انٹرنیشنل میچ کھیلنے ہیں۔ 3 آسٹریلیا کے خلاف، 2 آئرلینڈ اور 3 انگلینڈ کے خلاف۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بورڈ سرفراز احمد کو بلاتا اور واضح طور پر یہ پیغام پہنچا دیتا چونکہ آپ کی فارم بہت اچھی نہیں اس لیے ہم آپ کو فی الوقت ٹیسٹ کی ذمہ داریوں سے آزاد کرتے ہیں، آپ اپنی مکمل توجہ ٹی20 کرکٹ پر مرکوز رکھیے۔ ورلڈ کپ سے پہلے ان 8 میچوں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آپ ہی قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ اس لیے ابھی سے تیاری شروع کردیں کہ آپ کن کھلاڑیوں کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں اور کن کو نہیں، اور مکمل اعتماد کے ساتھ بہترین نتائج کی منصوبہ بندی کیجیے۔

ہاں، اگر اس پورے سفر میں صورتحال جوں کی توں رہتی تو بے شک انہیں اس مختصر فارمیٹ سے بھی باہر کردیا جاتا، لیکن یوں کپتان کو ایک دن کے نوٹس پر فارغ کردینا کسی بھی طور پر ٹھیک نہیں، کیونکہ لیڈر ایسے ہی ہر کوئی نہیں بن جاتا، بنانا پڑتا ہے، اور سرفراز بھی بنائے گئے تھے۔