طویل سیاسی تنازع کے بعد لبنان میں حکومت کی تشکیل

اپ ڈیٹ 02 فروری 2019

ای میل

وزیراعظم سعد حریری کے مطابق ملک کی معیشت نئی حکومت کے لیے اصل چیلنج ہے — فائل فوٹو
وزیراعظم سعد حریری کے مطابق ملک کی معیشت نئی حکومت کے لیے اصل چیلنج ہے — فائل فوٹو

بیروت: لبنان میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بے یقینی کی صورت حال اور عام انتخابات کے 8 ماہ بعد بلا آخر حکومت تشکیل دے دی گئی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سعد حریری 30 اراکین پر مشتمل حکومت کے سربراہ ہوں گے اور انہوں نے فوری طور پر ملک کی معیشت اور سیاسی اصلاحات پیش کرنے کا وعدہ کیا۔

وزیراعظم سعد حریری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی معیشت نئی حکومت کے لیے اصل چیلنج ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ 'چلیں اب کام کرتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: سعد حریری کو مستعفی ہونے کیلئے سعودیہ نے مجبور کیا، امریکی اخبار

خیال رہے کہ لبنان میں الیکشن سے قبل ملک کی معیشت مشکلات کا شکار تھی تاہم انتخابات کے انعقاد کے باوجود حکومت قائم نہ کیے جانے پر ملک کی معیشت مزید متاثر ہوئی۔

اس سے قبل ورلڈ بینک نے خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان میں حکومت کا قیام عمل میں نہیں آیا تو 11 ارب ڈالر کے مشروط قرض اور گرانٹس پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل الجزیرہ کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لبنان میں نئی حکومت کے قیام کا اعلان جمعرات کو کیا گیا۔

عوام سے خطاب میں وزیراعظم سعد حریری کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے جرتمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔

حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد بیروت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعد حریری کا کہنا تھا کہ 'ہمیں معاشی، مالی، سماجی اور انتظامی چلینجز کا سامنا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ایک انتہائی مشکل سیاسی وقت تھا، خاص طور پر انتخابات کے بعد اور ہمیں ورق پلٹ کر کام کا آغاز کرنا ہوگا'۔

واضح رہے کہ مئی 2018 میں لبنان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور ان کے اتحادیوں نے واضح کامیابی حاصل کی تھی جبکہ مغرب کے حمایت یافتہ وزیر اعظم سعد حریری کی پارٹی فیوچر موومنٹ کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا لیکن ملک میں سیاسی بحران سامنے آیا تھا اور حکومت تشکیل نہیں دی گئی تھی۔

اس سے قبل لبنان میں 2009 میں انتخابات ہوئے تھے جس کے ذریعے 4 سال کی حکومت بنائی گئی تھی تاہم اس پارلیمنٹ نے پڑوسی ملک شام میں غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر اپنی مدت کو دوگنا کردیا تھا۔

لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی کل آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے۔

لبنان کا سیاسی بحران

واضح رہے کہ لبنان میں کئی عرصے سے اختیارات کی تقسیم کا نظام چل رہا ہے جس کے تحت پارلیمنٹ کی نشستوں کو عیسائی اور مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے قریبی سعد حریری نے 4 نومبر کو اچانک لبنان کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بنائے گئے پوشیدہ منصوبے کو محسوس کر لیا ہے۔‘

سعد حریری کی جانب سے اپنے عہدے سے استعفے کے اعلان کے بعد لبنان میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا تھا جبکہ حکام کی جانب سے سعودی عرب پر وزیراعظم کی حراست کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے جہاں وہ مستعفی ہونے کے بعد دو ہفتوں تک رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لبنانی وزیر اعظم کے متنازع استعفے کے بعد سعودی عرب کا پہلا دورہ

تاہم سعد حریری نے سعودی عرب کی جانب سے حراست میں رکھنے کی افواہوں کو رد کر دیا تھا اور فرانس کی دعوت پر پیرس کے دورے کے لیے 18 نومبر 2017 کو سعودی عرب چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

سعد حریری اپنے دورہ فرانس کے بعد مصر اور قبرص میں رکے اور وہاں سے بیروت پہنچے اور ملک کے 74 یوم آزادی کے جشن کے موقع پر منظر عام پر آئے اور میڈیا سے بات چیت کی۔

بعد ازاں انہوں نے لبنانی صدر میشال عون کی درخواست پر اپنے استعفے کے فیصلے کو معطل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

28 فروری 2018 کو وزیر اعظم سعد حریری نے سعودی ریاست کا دوبارہ دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات کی تھی۔

انتخابات کے بعد جون 2018 میں لبنانی دارالحکومت بیروت میں سعودی لبنانی بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کے بعد سعد حریری نے کہا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب اور لبنان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کونسل کام تیزے کرے گی۔

لبنانی وزیرِاعظم سعد حریری کا کہنا تھا کہ لبنان کے استحکام میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور لبنان کے درمیان تعلقات کی گہرائی اور شاہ سلمان کی لبنان کے لیے حمایت ہمیں اس بات پر پابند کرتی ہے کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کردیں۔