موٹے افراد کے پھیپھڑوں میں چربی جمع ہونے کا انکشاف

20 اکتوبر 2019

ای میل

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

موٹاپے کے شکار افراد میں ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر متعدد بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے مگر اب انکشاف ہوا کہ اس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں چربی جمع ہونے لگتی ہے جو سانس لینا بھی مشکل بنادیتی ہے۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس سے پہلے یہ بات تو سامنے آئی تھی کہ موٹاپے کے شکار افراد میں نظام تنفس کے مسائل جیسے دمہ وغیرہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے مگر اس کی وجہ واضح نہیں تھی، مگر یہ پہلی بار ہے جب دریافت کیا گیا کہ چربی کے ذرات پھیپھڑوں میں سانس کی نالی کو بند کرکے جسم کو آکسیجن کی فراہمی محدود کردیتے ہیں۔

ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی اور سر چارلس گرینڈر ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی چربی کی اضافی مقدار جمع ہونے سے سانس کی نالی کی دیواریں سوج کر موٹی ہوجاتی ہیں جس سے ورم چڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران 52 افراد کے مرجانے کے بعد پھیپھڑوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں سے 15 افراد ایسے تھے جو دمہ کا شکار نہیں تھے، 21 کو دمہ تھا مگر موت کی وجہ مختلف تھی جبکہ 16 کی موت دمہ سے ہوئی۔

محققین نے 1373 ہوا کی نالیوں کا تجزیہ کیا اور یہ دیکھا گیا کہ وہ کسی قسم کے چربی کے ٹشوز سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیں اور پھر اس کا موازنہ جسمانی وزن سے کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی وزن اور پھیپھڑوں میں چربی کے اکٹھا ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے اور جو افراد دمہ کا شکار ہوئے ان کی شریانوں میں بھی چربی جمع ہوگئی تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ چربی جمع ہونے سے سانس کی نالیوں کے معمول کی ساخت بھی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ ان کے بلاک ہونے سے پھیپھڑوں میں ورم بھی ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں دمہ اور دیگر نظام تنفس کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محققین اس سے پہلے عندیہ دے چکے تھے کہ اضافی وزن سے پھیپھڑوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے یا اضافی وزن سے ورم بڑھتا ہے اور اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک اور میکنزم بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ بھی عام دیکھا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد کی سانس بھی تھوڑی جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں پھول جاتی ہے اور ممکنہ طور پر اس کے پیچھے بھی یہی وجہ چھپی ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین Respiratory جرنل میں شائع ہوئے۔