لیکچرار کی خودکشی کا معاملہ: 'طالبہ نے ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا'

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2019

ای میل

9 ستمبر کو ایم اے او کالج کے لیکچرار نے  خودکشی کی تھی — فائل فوٹو/رائٹرز
9 ستمبر کو ایم اے او کالج کے لیکچرار نے خودکشی کی تھی — فائل فوٹو/رائٹرز

لاہور کے ایم اے او کالج کی لیکچرار اور کالج کی اینٹی ہراساں کمیٹی کی چیئرمین ڈاکٹر عالیہ رحمٰن نے خودکشی کرنے والے لیکچرار محمد افضل پر طالبہ کے ہراساں کرنے کے الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا۔

ڈاکٹر عالیہ رحمٰن نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'محمد افضل پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی طالبہ نے اپنے نمبر بڑھانے کے لیے لیکچرار پر الزام لگایا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد افضل پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی طالبہ نے درخواست بھی خود نہیں دی، انکوائری رپورٹ میں محمد افضل بےگناہ ثابت ہوئے اور وہ بےگناہی تحریری طور پر چاہتے تھے۔

مزید پڑھیں: جنسی ہراساں کے الزامات پر دپیکا کے مینیجر کی خودکشی کی کوشش

انہوں نے کہا کہ 'انکوائری میں لیکچرار کی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد کچھ لوگ انہیں انکوائری دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'لیکچرار محمد افضل پر الزام لگانے والی طالبہ کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انکوائری کے دوران کالج کے طلبا اور اساتذہ نے کمیٹی کو بتایا کہ لیکچرار محمد افضل ایک نفیس انسان تھے'۔

انہوں نے کہا کہ 'کئی روز گزرنے کے باوجود لیکچرار محمد افضل کی موت کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا ہے'۔

دوسری جانب سیکریٹری محکمہ تعلیم کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر عالیہ کا کہنا تھا کہ '8 ستمبر کو لیکچرار محمد افضل کے خلاف الزامات پر انہوں نے انکوائری مکمل کرکے کالج کے پرنسپل کو پیش کی تھی تاہم انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے اور دیگر دستاویزات کو اس وقت تک اپنے پاس رکھوں جب تک وہ طلب نہ کریں'۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت: کم عمر لڑکی کا مبینہ ریپ، ملزمان کی عدم گرفتاری پر والد کی خودکشی

ڈان کو موصول ہونے والی خط کی کاپی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ '9 ستمبر کو محمد افضل نے خودکشی کی جس کے بعد پرنسپل نے انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سارا ملبہ مجھ پر ڈال دیا تھا'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ بالکل جھوٹ ہے اور میں پرنسپل کے اس اقدام کو مجھے ہراساں کرنے کے مترادف سمجھتی ہوں'۔

اینٹی ہراساں کمیٹی کی چیئرمین نے سیکریٹری تعلیم سے درخواست کی کہ کالج کے پرنسپل فرحان عبادت یار کے خلاف انکوائری رپورٹ پر عمل در آمد نہ کرنے، جھوٹا بیان دینے اور دھمکیاں دے کر ہراساں کرنے کی انکوائری کی جائے۔

انہوں نے پرنسپل کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی بھی درخواست کی اور کہا 'ان کے عہدے پر ہوتے ہوئے ان کے خلاف ہونے والی انکوائری پر وہ اثر انداز ہوسکتے ہیں'۔

خیال رہے کہ لاہور کے ایم اے او کالج میں طالبہ کی جانب سے انگریزی کے لییکچرار محمد افضل پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے بعد کالج کی اینٹی ہراساں کمیٹی نے معاملے پر تحقیقات کی تھی۔

طالبہ کی جانب سے الزامات کے بعد لیکچرار پر سخت تنقید کی جارہی تھی جس کے بعد انہوں نے مبینہ طور 9 ستمبر کو خودکشی کی تھی۔