میرے آنسو تو دلی جانے سے مت روکیے!

25 اکتوبر 2019

ای میل

یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس خط کے ذریعے میرا پورا وجود ہی اس کاغذ میں سما کر سرحد پار اپنی ماؤں کی نگری جا پہنچے گا۔
یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس خط کے ذریعے میرا پورا وجود ہی اس کاغذ میں سما کر سرحد پار اپنی ماؤں کی نگری جا پہنچے گا۔

’مت بھیجنا اب کچھ!

جھوٹے بھائی!

بہت گالی دینے کا من کر رہا ہے‘

بے تکلفی کے یہ لفظ چند دن قبل فیس بک کے نجی پیغام رسانی کے چوکھٹے میں ابھرے۔ یہ نئی دلی سے محمد علم اللہ ہم سے مخاطب تھے۔ پچھلے برس ان کا ایران کا سفرنامہ تبصرے کے لیے ہمارے پاس آیا تھا، تب سے پکا ارادہ کیا ہوا تھا کہ ہم انہیں خط ضرور لکھیں گے، وہ بھی کاغذ اور قلم سے، اور پھر اسے ای میل یا اور کسی برقی وسیلے کے بجائے ڈاک سے روانہ کریں گے، یہ سوچتے سوچتے 23 مارچ آگئی، جس دن ہم نے بیٹھ کر اپنے خلوص اور محبت کو لفظوں میں سمو کر کاغذ کے صفحات پر اتار ہی لیا۔

ہمارے یہ لفظ اپنی مجسم صورت میں اس نگری کو جانا ہیں کہ جہاں ہماری نانی اور دادی وغیرہ نے بچپن کھیلا ہے۔ بس جذبات کا پیمانہ بار بار پلکوں سے چھلک کر ان سطروں کے درمیان مُہر ثبت کرتا جا رہا تھا، اور میں اپنے مخاطب کو یہ بتا بھی رہا تھا کہ دیکھو دوست، اس خط میں جو لفظوں کے درمیان یہ خالی جگہ چُھوٹی ہوئی ہے نا، یہاں میرے آنسو سرحد کے پار جانے کو بے قرار اتر کے ٹھیرے ہیں۔ یعنی لفظ جہاں اظہار سے معذور ہوئے، وہاں آنکھوں کو لب کشائی کرنا پڑی ہے، ہرچند کے میرے تو ماں باپ بھی یہیں پیدا ہوئے، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھ میں یہ ہجر کی اداسی کیسے حلول کر گئی، کہ جیسے میرے بزرگوں کو نہیں، بلکہ مجھے ہی دلی چھوڑنا پڑا ہو۔ شاید یہ میرے پُرکھوں کے ضبط کیے ہوئے اَشک ہیں، جو اب لبریز ہوکر میری نگاہوں کا منظر دھندلائے دیتے ہیں۔

میں نے جیسے تیسے یہ مفصل خط حوالہ قرطاس کر ہی دیا اور ’فیس بک‘ پر ملنے والے ایک ایسے مخلص نوجوان محمد علم اللہ کو وسیلہ تصور کرکے، ان گلیوں اور قبرستانوں تک کے لیے اپنے لمس کو کاغذی صفحات کے سپرد کیا۔

اب اُس دلی میں ہمارا کوئی قریبی رشتے دار تو زندگی کرتا نہیں، لیکن پرانی دلی کی کسی قدیم قبر میں ہمارے بڑے نانا جی تو پیوند خاک ہیں نا، جن کی 2 بیٹیوں کا میں نواسہ بھی ہوں اور پوتا بھی، یہ نواسہ اس خط کے ذریعے انہیں خبر کر رہا تھا کہ سیکڑوں میل پرے کراچی میں اب ان کی ساری اولاد بھی خاک اوڑھ چکی ہے۔

بڑے نانا جی تو ہجرت کے مرحلے سے پہلے ہی دنیا سے کُوچ کرگئے تھے۔ اب زندہ لوگوں کے لیے تو کسی طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ خود جا کر مل آئیں، لیکن قبریں تو دھرتی کے سینے پر سدا کے لیے ٹھہری رہتی ہیں، یعنی پھر فاصلے دائمی ہوجاتے ہیں، بس یہ احساس تھا مجھے، اور اس خط بھیجنے کے وسیلے یہ ایک امید تھی۔

بس اس روز کاغذ قلم لے کر میں یہ سب کچھ لکھ رہا تھا اور چشمِ تصور سے ماضی کی پرانی دلی میں بھٹک بھی رہا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس خط کے ذریعے میرا پورا وجود ہی اس کاغذ میں سما کر سرحد پار اپنی ماؤں کی نگری جا پہنچے گا۔ یہ سوچا ہوا تھا کہ پہلے یہ خط دلی پہنچ جائے، اس کے بعد ہم اسے شایع کروائیں گے لیکن اسے ارسال کرنے کے لیے ڈاک خانے جانے کا اہتمام کرنا تھا، جو گھر کے نزدیک نہ تھا، مگر میں مصروفیت میں ایسا جکڑا ہوا تھا کہ روزمرہ کے کاموں کو پورا نہیں کر پارہا تھا، وہاں کے لیے کیسے نکلتا؟

وقت کی بے نظمی کے ساتھ زندگی کی کچھ اور پیچیدگیاں بھی تھیں جس سے میں ان دنوں نبرد آزما ہوں، اس لیے میں انتہائی چاہت کے باوجود یہ کام نہیں کرپایا، پھر اس میں دانستہ کچھ شانت یوں ہوا کہ شاید کچھ دنوں بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی کچھ کم ہوجائے، تب بھیجوں، تو شاید زیادہ حفاظت سے پہنچے لیکن یہ کشیدگی تھی کہ کم ہی نہ ہوئی، بس پھر کچھ دن پہلے شکایت کرتے کرتے ہمارے سندیس کے دلی میں منتظر محمد علم اللہ بھی اپنا ضبط چھلکا بیٹھے، بولے کہ ’مودی بھی فیل تیرے وعدے کے آگے!‘

میں خود سے شرمندہ اور شاکی ہوا، مصمم ارادہ کرکے انہیں کہہ بھی دیا کہ ’کل انشاء اللہ!‘ مگر افسوس، پھر اگلا دن ہی نہیں مزید 12 دن اور بھی اسی طرح صبح سے شام ہوکر تمام ہوگئے۔ اب واقعی میں وعدہ خلافی کا مرتکب ہوا تھا۔ لیکن اب بہت ہوا تھا، اب میں نے صرف فیصلہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ اس خوشی کے ساتھ ڈاک خانے پہنچا کہ میرا وعدہ اب پورا ہونے والا ہے، مگر وہاں سے جو خبر ملی اسے سن کر تو پیروں تلے زمین ہی نکل گئی۔

وہاں موجود موصوف نے ہمیں خبر دی کہ بھارت جانے والی ڈاک پر پابندی لگ چکی ہے، لہٰذا یہ آپ واپس لے جائیے۔ ان کی اس بات پر ہمیں بالکل یقین نہیں آیا اس لیے پوچھا کہ یہ کب سے ہوا؟ تو جواب ملا کہ اب تو 2 ماہ ہوچکے ہیں۔ لیکن کیا کریں کہ یہ بات ماننے کو دل ہی نہیں کررہا تھا، اس لیے ثبوت مانگ لیا، اور جو ثبوت انہوں نے ہمیں دیا وہ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مجھے خط نہ بھیجنا ہوتا تو شاید میں اس اقدام پر صرف افسوس کرتا یا خواہش کرتا کہ یہ پابندی ہٹ جائے، لیکن اب میری الماری کے گوشے میں میرے آنسو جذب کیے ہوئے وہ رقعے تو ’پرانی دلی‘ کی امانت ہیں۔ یہ وہاں کی ان گلیوں کا قرض ہیں، جہاں میرے پرکھوں نے زندگی کی اور ان قبروں کے واجبات ہیں، جہاں میرے بزرگ ابدی نیند سوگئے ہیں۔ اب میں وہاں میرے مکتوب کے منتظر محمد علم اللہ کے ساتھ اپنا مجرم بھی ہوں۔ میں منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں!‘ لیکن اس بار یہ تاخیر غفلت نہیں رہی، ایک جرم بن گئی ہے۔ میرے وہ سچے آنسو اب اس پابندی کے اسیر ہوگئے ہیں!

ایک عام تاثر یہ ہے کہ جدید، سہل ترین اور برق رفتار رابطوں کے اس جہاں میں روایتی خط و کتابت کو رونا بالکل بے معنی ہے کیونکہ اب چند فیصد ہی لوگ ہوں گے، جو سرحد کے آر پار خط و کتابت پر انحصار کرتے ہوں، البتہ کتابوں کی آمد و رفت کے لیے اس پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ ضرور کیا جا رہا ہے۔ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ 1947ء کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بدترین حد تک کشیدہ ہوئے، 1965ء اور 1971ء کی جنگیں بھی ہوئیں لیکن خط و کتابت پر روک نہیں لگائی گئی لیکن آج یہ امر بھی ہوگیا۔

ہم بطور ابلاغ عامہ کے طالب علم روابط کے جدید ذرائع کے قائل بھی ہیں اور ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں لیکن ہمیں کاغذ کے ذریعے ملنے والے پیغام کی زیادہ اثر پذیری پر ایک یقین سا ہے، ہم بجلی سے جلتے بجھتے اور ہر لمحہ منظر بدلتے کمپیوٹر اور موبائل کے شیشے پر پیغام پڑھنے میں لکھنے والے کے ہاتھوں کا لمس محسوس نہیں کرسکتے۔ اسی لیے دل سے سوچنے والے جدید ذرائع کو روایتی طریقے کا متبادل ماننے پر تیار نہیں۔ سائنسی طور پر بھی آپ لاکھ چاہیں کسی بھی جدید ذریعے سے ابھی تک خوشبو کا تبادلہ تو ممکن نہیں ہوسکا ہے، آج بھی اس کا وسیلہ مادّی ہی ہے۔

میری گزارش پر غور کریں، میں نے تو 1947ء کی کئی دہائیوں بعد کراچی میں آنکھ کھولی، میں سیما پار زمین میں دفن اپنے والدین کے نانا اور دادا دادی سے اپنے تعلق کو صرف محسوس کرسکتا ہوں لیکن وہ جو 70 برس پہلے خود ہجرت کرکے اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہوئے ہیں، خدارا! ذرا ان کے جذبات کا خیال کریں۔ زمین کا جغرافیہ ضرور بدل جاتا ہے لیکن خون کے رشتوں میں جبر کی کوئی سرحد نہیں کھینچی جاسکتی۔

ہم آج انگلی کی ایک جنبش پر دنیا کے کسی کونے پر موجود فرد سے براہِ راست مخاطب ہوسکتے ہیں لیکن گلے لگ کر نہ خوشیاں منا سکتے ہیں اور نہ ہی تکلیفوں میں پیٹھ تھپک کر غم بانٹ سکتے ہیں۔ ہاں اس موقع پر بھیجے ہوئے خط ضرور ہمیں یہ دونوں احساس دلانے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت رکھتے ہیں، جیسے میں 60 برس قبل لکھے ہوئے اپنے دادا کے خط میں ان کے وجود کی خوشبو پالیتا ہوں اور کلکتے سے کاپی کے ایک کاغذ پر ہماری نانی مرحومہ کے نام آیا ہوا ان کے بھانجوں کا مراسلہ جب بھی چھوتا ہوں، ایک ناقابلِ بیان کیفیت میں ڈوبا جاتا ہوں۔

زرد پڑ جانے والے اس کاغذ میں ہمارے لیے شادی کا بلاوا ہے، کتنی چاہ سے اپنی خالہ سے کہا گیا ہے کہ ’بیٹی داماد کے ساتھ تشریف لائیں اور اپنی دعاؤں کے سائے میں بچوں کو نئی زندگی میں خوش آمدید کہیں‘ یہ بات کسی ہاتھ سے لکھے ہوئے خط میں ہی محسوس ہوسکتی ہے۔

2 ممالک کی اس کشیدگی میں بے قصور عوام کا سوچنا چاہیے۔ جیسے دلی میں 70 برس پرانی ہمارے پرنانا کی قبر کو اب وہاں کوئی دیکھنے والا بھی نہ ہوگا، لیکن میرے خط کے وسیلے میرے لفظ اور آنسو تو وہاں پہنچ جانے کی ایک آس تھی۔ اب خط و کتابت پر پابندی لگا کر اس آس کا گلا نہ گھونٹیے اور بھی ایسے ہی سرحد کی دونوں جانب نہ جانے کتنے رشتوں کے درمیان رابطوں کا ایک ناقابلِ تلافی خلا واقع ہوگیا ہے، کاش کوئی سنے، تاکہ ہم نہ سہی، ہمارے مجسم لفظ تو وہاں پہنچ سکیں۔