یہ سوشل میڈیا پر ہر کوئی ’امیزنگ‘ اور ’سپر کول‘ کیوں ہوتا ہے؟

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

پہلے ٹی وی آیا۔ پھر انٹرنیٹ کی آمد ہوئی اور یوں پھر ہماری پرانی اور جانی پہچانی دوست ’کتاب‘ سے ناتا توڑنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔

1960ء کی دہائی کے وسط میں پاکستان میں جب پہلی مرتبہ ٹی وی متعارف کروایا گیا تب یہ عام خیال پایا جاتا تھا کہ اس نامعقول ڈبے نے قارئین کو کتابوں سے دُور کردیا ہے۔ موجودہ دور میں یہ الزام ڈیجیٹل میڈیم پر عائد کیا جاتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کبھی بھی کتب بینی کے اپنے کلچر کی وجہ سے مشہور نہیں رہا ہے۔

میرا دہائیوں پر محیط یہ مشاہدہ رہا ہے کہ ہمارا معاشرا کاغذ پر چھپے الفاظ سے زیادہ الفت نہیں رکھتا جس کا اندازہ ہماری بلند شرح غیر خواندگی سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اپنی تسلی کے لیے آپ کسی لائبریرین، کتاب فروش یا پھر ناشر سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔ کتابیں صرف وہی بکتی ہیں جو یا تو نصاب میں شامل ہیں یا پھر وہ گائیڈیں ہوتی ہیں جن پر تو پابندی عائد کردینی چاہیے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ پھر اساتذہ کا کیا ہوگا؟ کیونکہ آپ میرا یقین کیجیے کہ اساتذہ بچوں سے بھی زیادہ ان گائیڈوں پر انحصار کرتے ہیں۔

جب میں نے بذریعہ ای میل ملنے والی ایک ویڈیو دیکھی تب مجھے حیرت کا جھٹکا لگا، کیونکہ اس ویڈیو میں ایک مقرر ناظرین پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ کتب بینی میں اپنا وقت برباد نہ کریں۔ انہوں نے ناظرین کو تجویز دی کہ انہیں جو بھی معلومات یا علم مطلوب ہے وہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اسے کہتے ہیں حقیقی جرأت۔

میں نے اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کا ارادہ کیا۔ میرے ذہن میں جو پہلا نام آیا وہ بل گیٹس تھا جو بابائے مائیکرو سافٹ ہونے کے باوجود کتب بینی کا شوق رکھتے ہیں، حالانکہ ڈھیر سارا ڈیجیٹل مٹیریل ان کی دست رست میں ہے۔

بل گیٹس کے ذاتی بلاگ ’گیٹس نوٹس‘ کی خاص بات کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اس میں ایک بُک سیکشن ہے جس میں ان کتب پر معلومات کا خزینہ موجود ہے جن کا مطالعہ بل گیٹس کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے بل گیٹس سے بذریعہ ای میل سوال کیا کہ وہ کتنی کتابیں پڑھتے ہیں۔ مجھے چند لمحوں کے اندر ان کا جواب موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ، ’ایک سال میں 50۔‘

اور بلاگ کی ابتدا کیسے ہوئی؟ ابتدائی طور پر بل گیٹس زیرِ مطالعہ کتاب کے حاشیے پر مختصر نوٹ اور تبصرہ تحریر کرنے کا شوق رکھتے تھے، جنہیں وہ دوستوں کی ایک فہرست کو ای میل کردیتے۔

پھر جب گیٹس نے اپنے قارئین کے حلقے کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا تو بلاگ متعارف کروا دیا۔

میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس طرح ہیمنگ وے کی کتاب (چاہے وہ آڈیو یا کنڈل کی صورت میں ہو یا پھر اخباری کاغذ پر چھپی ہو) کی جگہ آخر اس ایک بے وقوف کی تقریر کیسے لے سکتی ہے جس میں وہ اس کا خلاصہ پیش کر رہا ہے۔ میں نے ایک پروگرامر اور مطالعے کا شوق رکھنے والے ضیا اکبر سے پوچھا کہ کیا کمپیوٹر کتب کی جگہ لے سکتے ہیں تو ان کا اپنا تجربہ بڑا سبق آموز ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انہوں نے جو سب سے پہلا کمپیوٹر دیکھا تھا وہ پروگرام ایبل ڈیوائس تھا جسے ہاتھ میں پکڑ کر استعمال کیا جاسکتا ہے اور وہ کیلکولیٹر سے زیادہ مختلف بھی نہیں تھا۔ ٹین ایج کے وقتوں میں، میں نے BASICS پروگرامنگ لینگویج پر عبور حاصل کرلیا اور مجھے اپنی صلاحیتوں کا مکمل اندازہ ہوچلا تھا کہ میں کمپیوٹر چلانے اور ’پوشیدہ رہ کر‘ نئے نویلے پروگرامر کے طور پر کیا کچھ کرسکتا ہوں۔ لیکن یہاں میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ یہ کتاب کا متبادل نہیں بن سکتا۔ ان وقتوں میں مجھے انٹرنیٹ دستیاب نہیں تھا۔ آج جب انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے تو میں انٹرنیٹ پر مختلف موضوعات پر معلومات کے ذخیرے کی تلاش کے بعد بھی اپنے علم میں وسعت لانے کے لیے کتاب ہی کھنگالتا ہوں۔‘

ضیا مجھے بتاتے ہیں کہ کمپیوٹرز کتاب کے لیے خطرے کیوں بنے ہوئے ہیں۔ آج کل زیادہ تر بچوں کو ٹیبلٹ کی صورت میں سب سے پہلا کمپیوٹر دستیاب ہوتا ہے۔

ضیا کہتے ہیں کہ ٹیبلٹ انٹر ایکٹو ہے اور اسکرین کو ہاتھ سے چُھو کر استعمال کیا جاتا ہے، یعنی یہ ایک ایسا آلہ ہے جس پر بچے آسانی سے عبور حاصل کرلیتے ہیں۔ بچے اسکرین کے کسی بھی حصے کو چھوتے ہیں تو آلہ برق رفتاری سے ردِعمل دیتا ہے اور حس کے اعتبار سے بچوں کے لیے یہ کافی تسکین بخش بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور آج کل انٹرنیٹ پر جو فضولیات کا ڈھیر دستیاب ہے، اس کے ہوتے ہوئے بچے کچھ نہیں سیکھ سکتے۔

سچ تو یہ ہے کہ کمپیوٹرز کے عادی نوجوانوں کی دلچسپی اب لکھے ہوئے الفاظ میں کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔

مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صارفین کی دلچسپی اب فیس بک سے زیادہ انسٹاگرام میں بڑھتی جا رہی ہے جو زیادہ گرافکس یا تصویروں پر مشتمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔

ہمیں ان ڈیجیٹل آلات سے بچوں کی صحت اور ذہنی صلاحیتوں پر مرتب ہونے والے نقصاندہ اثرات کی فکر ہونی چاہیے۔ ممتاز سائنسدان ایک عرصے سے مصنوعی ذہانت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔ جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے تو میں اس مصنوعی ذہانت سے کافی خائف ہوں۔ یہ ہماری روزمرہ کی زندگی پر غالب آتی جا رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنے ای میل صارفین گوگل کی اسمارٹ ریپلائے کو استعمال کر رہے ہیں جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے ذریعے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ’حقیقی مصنوعی ذہانت‘ کیسی ہوگی۔

فیس بک پہلے ہی ہماری گوناگونیت ہم سے چرا رہا ہے۔ ہر کوئی یا تو امیزنگ ہے یا پھر سوپر کول۔ ای میلوں پر آپ کو پہلے سے تیار شدہ جوابات دستیاب ہوجاتے ہیں اور آپ کے سامنے ان کے آپشنز سجا دیے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان طالبہ جو انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کر رہی ہے اس نے پوچھا کہ اسمارٹ ریپلائز کیا ہے۔ تو میں نے اسے خبردار کیا کہ وہ قطعاً اس کا استعمال نہ کرے۔ میں نے کہا کہ ’اگر تم نے یہ استعمال کیا تو تم تھینک یو کی ہجے تک بھول جاؤ گی‘۔ اور میری بات حقیقت سے قریب تر ہے۔ کئی برسوں پہلے نہ جانے کتنے دوست و احباب کے فون نمبرز ہمارے ذہن میں محفوظ ہوا کرتے تھے۔ اب تو کچھ لوگوں کو اپنا موبائل نمبر تک یاد نہیں رہ پاتا۔

میں کتب بمقابلہ ڈیجیٹل کے اس مباحثے کا اختتام لائبریری سے شغف رکھنے والے کمشنر کراچی افتخار شلوانی کے الفاظ کے ساتھ کرنا چاہوں گی۔ انہوں نے پریس میں غلطی سے ان سے منسوب بیان کی تصحیح کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’سان فرانسسکو (ڈیجیٹل) ٹیکنالوجی کا مرکز ہے لیکن وہاں آج بھی لوگ کتابیں پڑھتے ہیں اور وہاں کے کتب خانے آج بھی مطالعہ کرنے والوں سے بھرے ہوئے ہیں۔‘


یہ مضمون 25 اکتوبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔