آئی ایم ایف پروگرام کا پہلا جائزہ، ریونیو شارٹ فال پر خصوصی توجہ

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2019

ای میل

آئی ایم ایف مشن فراہم کردہ قرض کے جائزے کے سلسلے میں پاکستان میں موجود ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
آئی ایم ایف مشن فراہم کردہ قرض کے جائزے کے سلسلے میں پاکستان میں موجود ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے 39 ماہ پر مشتمل 6 ارب ڈالر کے اقتصادی پروگرام کی پہلی سہ ماہی کے جائزے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کا آغاز کردیا۔

تاہم مالی سال 2020 میں بہتر آمدنی کے باوجود بنیادی افراط زر 12.4 فیصد، مالی خسارہ 7.4 فیصد اور قرضوں کو بلند سطح پر پیش کیا جارہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف مشن نے محصولات کی وصولی، اس میں ٹوٹنے اور تقریباً 113 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کی وجوہات سے متعلق پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے اعداد و شمار پر ابتدائی بات چیت کی۔

مزید پڑھیں: قرض پروگرام کی کارکردگی پر جائزے کیلئے آئی ایم کا وفد پاکستان میں موجود

اس کے علاوہ دونوں فریقین نے ہدف سے کم ٹیکس کی واپسی (ٹیکس ریفنڈز) کی وجوہات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مشن کو بتایا گیا کہ ریفنڈز میں تاخیر کی وجہ بننے والی غلطیوں کو متعلقہ ٹیکس فارم، ان پٹ اور آؤ پٹ کیلکولیشن کے لیے ڈیٹا انٹرفیس کی تبدیلی کے ذریعے ختم کردیا گیا۔

باخر ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کی جانب سے وفاقی اور صوبائی ٹیکس نظاموں اور حکام کے درمیان محصولات کے اتحاد پر سوالات اٹھائے، اس پر مشن کو بتایا گیا کہ سنگل ریٹرن فارم اور سنگل ریونیو پورٹل کے لیے بنائے گئے مسودی معاہدے کو صوبوں کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔

ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ درحقیقت کچھ صوبوں نے اس مسودے کو مسترد کردیا تھا اور اس پر دستخط کو تحفظات دور کرنے سے جوڑ دیا تھا۔

واضح رہے کہ دونوں فریقین تکنیکی سطح کے معاملات پر تبادلہ خیال اور تمام اقتصادی شعبے سے اعداد و شمار کے تبادلے پر رواں ہفتے کے اختتام تک رابطے میں رہیں گے اور اس کے بعد پالیسی سطح پر بات چیت کا آغاز ہوگا، جس کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کریں گے۔

یہ جائزہ مذاکرات مشرقی وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے پی) خطے پر آئی ایم ایف کے ریجنل اکنامک آؤٹ لک (آر ای او 2019) کے آغاز کے ساتھ ہے، آؤٹ لک نے اندازہ لگایا کہ پاکستان کا کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 2019 میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 13 فیصد تک ہوگا، اس کے علاوہ بنیادی سی پی آئی 2019 میں 8.3 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 12.4 فیصد تک بڑھ رہی ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے اندازہ لگایا گیا کہ 2020 میں خالص قرض تھوڑا کم ہوکر جی ڈی پی کے 8.4 فیصد تک آجائے گا جبکہ اگر 2019 میں اسے دیکھیں تو یہ 8.9 فیصد پر ہے، اسی طرح 2020 میں مالی خسارہ 2019 کے 8.8 فیصد کے مقابلے میں 7.4 فیصد ہونے کا امکان ہے۔

یہ اس حقیقت کے باوجود تھا کہ حکومت کی جنرل گورنمنٹ ریونیو بہتر ہوکر 2020 میں جی ڈی پی کے 16.1 فیصد تک آجائے گا جو 2019 میں 12.7 فیصد پر موجود ہے، یہ جزوی طور پر سرکاری اخراجات اور خالص قرض میں اضافے کی وجہ سے ہوگا اور یہ 2019 میں جی ڈی پی کے 21.6 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 23.6 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب کل سرکاری قرض بھی آئندہ برس بڑھنے کا امکان ہے اور یہ 2019 میں جی ڈی پی کے 76.7 فیصد سے 2020 میں 78.6 فیصد تک جاسکتا ہے، ساتھ ہی خالص حکومتی قرض بھی 72.5 فیصد سے 75.2 فیصد ہونے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ مجموعی بیرون قرض 2019 کے 38.1 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں جی ڈی پی کے 43.7 فیصد تک متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج کی پہلی قسط موصول

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ 2020 میں پاکستان کی برآمدات 2019 کے 30 ارب 20 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 32 ارب 50 کروڑ ڈالر تک جاسکتی ہے جبکہ درآمدات میں کمی آئے گی اور یہ رواں سال کی 62 ارب 90 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 59 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوسکتی ہے۔

علاوہ ازیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی 2020 میں جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ 2019 میں 4.5 فیصد اور 2018 میں 5.4 فیصد رہا تھا۔

اسی طرح مجموعی سرکاری ذخائر عام طور پر اسی حالت میں رہیں گے اور 2020 میں یہ 2019 کے 25 ارب ڈالر کے مقابلے میں 25 ارب 90 کروڑ ڈالر تک متوقع ہیں۔