بریگزٹ: برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ کی قبل ازوقت انتخابات کی حمایت

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2019

ای میل

جیریمی کوربن نے اپنی جماعت کے اراکین کو انتخابات کی حمایت سے آگاہ کردیا—فوٹو:اے پی
جیریمی کوربن نے اپنی جماعت کے اراکین کو انتخابات کی حمایت سے آگاہ کردیا—فوٹو:اے پی

برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے کہ برطانیہ کو مشکلات سے نکالنے کے لیے وہ قبل از وقت انتخابات کی وزیر اعظم بورس جانسن کی تجویز کی حمایت کریں گے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن نے لیبر پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ یورپی یونین سے بغیر معاہدے کے علیحدگی سے متعلق ملک کو درپیش خدشات کا امکان ختم ہو چکا ہے اور وہ قبل از وقت انتخابات کے حق میں ہیں۔

جیریمی کوربن کا بیان وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے 12 دسمبر کو قبل از انتخابات کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں دوسری قرارداد لانے سے قبل ہی سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں:برطانوی وزیر اعظم کا 12 دسمبر کو عام انتخابات کرانے کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں پائے جانے والے عدم اتفاق کو توڑنے کے لیے ووٹرز کو ایک موقع ملنا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر کے علاوہ لبرل ڈیموکریٹکس اینڈ اسکاٹش نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی قبل از انتخابات کی حمایت کرتے ہوئے 9 دسمبر کی تاریخ دی گئی تھی۔

لبرل ڈیموکریٹکس اینڈ اسکاٹش نیشنل پارٹی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ انتخابات کے بعد بورس جانسن کی حکومت کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ بل پیش کرنے کے لیے کافی وقت مل جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نہیں چاہتی کہ بورس جانسن انتخابات سے قبل یورپی یونین سے الگ ہونے کا کریڈٹ لیں اور انتخابی مہم میں اس کا پرچار کریں۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے 25 اکتوبر کو بریگزٹ تعطل کو ختم کرنے کے لیے 12 دسمبر کو ملک میں عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین نے بریگزٹ میں 31 جنوری تک توسیع کی منظوری دے دی

انہوں نے لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کو خط میں لکھا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو بریگزٹ معاہدے کی منظوری کے لیے مزید وقت دینے کو تیار ہیں، تاہم قانون ساز ان کے دسمبر میں انتخابات کے فیصلے کا ساتھ دیں۔

برطانیہ کے عوام نے تین سال قبل یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا جہاں بریگزٹ کے حق میں 52 فیصد ووٹ پڑے تھے لیکن تاحال اس حوالے سے مستقبل واضح نہیں ہے اور برطانیہ میں اب بھی بحث جاری ہے کہ کیا ہمیں اس کام کو سر انجام دینا چاہیے یا نہیں اور اگر کرنا ہو تو کیسے کیا جائے۔

رواں برس سابق وزیراعظم تھریسا مے بھی انہی مسائل کے باعث مستعفی ہوگئی تھیں جس کے بعد بورس جانسن جولائی میں برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بن گئے تھے اور انہوں نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ اس میں تقریباً ناکام ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں:برطانوی پارلیمنٹ کا ایک بار پھر بریگزٹ معاہدے کے التوا کے حق میں ووٹ

پارلیمنٹ نے دو مرتبہ ان کے منصوبے کو ناکام بنایا جس پر انہوں نے پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی منظوری لی جس کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

یورپی یونین نے معاہدے کا وقت دیتے ہوئے 31 جنوری تک توسیع کی منظوری دی ہے جس کو بورس جانسن نے قبول کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کردیا تھا۔