میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پہلے سے بہتر قرار دے دی

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2019

ای میل

ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کی نہار منہ شوگر 170 رہی —فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کی نہار منہ شوگر 170 رہی —فائل فوٹو: اے ایف پی

لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت سے متعلق قائم میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم کی صحت پہلے سے بہتر قرار دے دی۔

علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ہسپتال میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ملاقات کی۔

نواز شریف کے 12 رکنی میڈیکل بورڈ نے شہباز شریف کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کے خون میں پلیٹلیٹس کی مقدار برقرار ہے لیکن شوگر بڑھی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی صحت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ نواز شریف کی نہار منہ شوگر 170 رہی۔

میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پہلے سے بہتر قرار دی۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے آج بلڈ ٹیسٹ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو سروسز ہسپتال میں 13 روز گزر چکے ہیں۔

میڈیکل بورڈ کے مطابق سابق وزیراعظم نے تاحال ہسپتال سے جانے کی بات نہیں کی۔

شہباز شریف کی سروسز ہسپتال میں اپنی والدہ شمیم اختر اور بھتیجی مریم نواز سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیراعظم کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'نواز شریف کی صحت کو نقصان پہنچا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے'

انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹ پر ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ’نوازشریف کی صحت ناساز ہے‘۔

علاوہ ازیں لاہور کے سروسز ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بھی نواز شریف کی صحت سے متعلق عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ڈاکٹر سلیم چیمہ نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے پلیٹلیٹس اطمینان بخش سطح پر نہیں ہیں۔

بیرون ملک علاج سے متعلق قیاس آرائیاں

ادھر ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی کی وجہ جان سکیں۔

تاہم ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ نواز شریف کو علاج کے لیے ملک کے کسی اور ہسپتال یا بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا مزید بہتر علاج ہوسکے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف 21 اکتوبر سے لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

مزید پڑھیں: سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن نواز شریف کیلئے دعاگو ہوں، وزیر اعظم

دوسری جانب لیگی رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا تھا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔

26 اکتوبر کو وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ سابق وزاعظم نواز شریف کو انجائنا کی تکلیف ہوئی اور معمولی ہارٹ اٹیک آیا لیکن بروقت طبی سہولت کی وجہ سے دل کا کوئی حصہ متاثرہ نہیں ہوا۔

یہ بات بھی مدنظر رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انہیں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو خصوصی طور پر ہدایات جاری کی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔