ٹک ٹاک بنانے والی کمپنی نے پہلا فون متعارف کرادیا

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2019

ای میل

فون میں 48 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے—فوٹو: دی انگیجٹ
فون میں 48 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے—فوٹو: دی انگیجٹ

متعدد ممالک کے لیے قومی و اخلاقی سلامتی کا مسئلہ بننے والی ویڈیو ایڈیٹنگ شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی چینی کمپنی نے اپنا پہلا اسمارٹ فون متعارف کرادیا۔

’ٹک ٹاک‘ ایپلی کیشن بنانے والی چینی کمپنی ’بائیٹ ڈانس‘ نے دیگر کمپنیوں کے اشتراک سے اپنا پہلا اسمارٹ فون ’نٹ پرو تھری‘ متعارف کرایا ہے۔

’ٹک ٹاک‘ کمپنی کی جانب سے رواں برس مئی میں اس خیال کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ کمپنی اسمارٹ فون متعارف کرانے کی خواہش مند ہے اور جولائی میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ کمپنی سال کے اختتام تک فون متعارف کرائے گا۔

اور اب کمپنی نے اپنا پہلا فون متعارف کرادیا، جسے ابتدائی طور پر چین میں فروخت کے لیے پیش کردیا گیا۔

ٹیکنالوجی ادارے ’انگیجٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں چینی و دیگر اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے اسمارٹ فون کو ابتدائی طور پر چین میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

موبائل کو مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
موبائل کو مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

’نٹ پرو تھری‘ کو چینی زبان میں ’جیانگو پرو تھری‘ کا نام دیا گیا ہے اور کمپنی کے اس پہلے موبائل کو مختلف ورژنز میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

48 میگا پکسل کیمرا سے لیس ’نٹ پرو تھری‘ کا سب سے سستے ورژن کی قیمت 380 امریکی ڈالر پاکستانی تقریبا 60 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک بنانے والے اب اسمارٹ فون تیار کرنے کے خواہشمند

اسی طرح اسی موبائل کا مہنگا ترین ورژن 412 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 64 ہزار روپے سے زائد میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے پہلے موبائل میں 12 جی بی ریم دی گئی ہے جب کہ اس میں 256 جی بی تک اسٹوریج کی صلاحیت موجود ہے۔

فون میں کمپنی کے تیار کردہ ’ٹک ٹاک‘ سمیت دیگر ایپلی کیشنز کو بھی دیا گیا ہے، ساتھ ہی کمپنی کے ڈیزائن کو اچھوتے انداز میں پیش کرنے کی کوشش سمیت اس کی ٹیکنالوجی پر بھی خاص دھیان دیا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہےکہ ’ٹک ٹاک‘ بنانے والی کمپنی کا یہ موبائل شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

کمپنی نے اس موبائل کو دیگر ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ برس کے آغاز تک اسے جنوبی ایشیا کے ممالک میں پیش کیا جائے گا۔