پاکستان نے بھارت کے نئے 'سیاسی نقشے' مسترد کردیے

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2019

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے نیا سیاسی نقشہ جاری کرنا بلا جواز ہے —فائل فوٹو: پی آئی ڈی
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے نیا سیاسی نقشہ جاری کرنا بلا جواز ہے —فائل فوٹو: پی آئی ڈی

پاکستان نے بھارت کی جانب سے جاری کردہ نئے 'سیاسی نقشے' کو مسترد کرتے ہوئے نئی دہلی کے اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی قرار دے دیا۔

دفتر خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارت کے نئے سیاسی نقشے مسترد کرتا ہے جس میں مقبوضہ جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھارتی علاقہ قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: اراکین یورپی پارلیمنٹ دورہ مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت پہنچ گئے

واضح رہے گزشتہ روز بھارتی وزارت داخلہ نے ایک نوٹی فکیشن میں جموں و کشمیر اور لداخ کی سرحدی حدود کی تفصیلات پیش کی تھیں اور ساتھ ہی نیا سیاسی نقشہ جاری کردیا تھا۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے نیا سیاسی نقشہ جاری کرنا بلا جواز ہے جس کی کوئی حثیت نہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کوئی بھارتی اقدام مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا کیونکہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم کردہ تنازع ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارتی حکومت کے ایسے اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی نفی نہیں کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کرفیو، سیاسی قیادت اور کارکنوں کی گرفتاری، موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی پر پاکستان بھر میں مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے اور بھارتی حکومت کی بھرپور مذمت کی گئی۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) کے خاتمے کے متنازع اقدام کے بعد 31 اکتوبر کو مقبوضہ وادی کو باضابطہ طور پر 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کردیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت موجود ہے جبکہ لداخ میں بدھ مت کے ماننے والے بھی ہیں۔

نئے معاہدے کے تحت جموں و کشمیر ایک کروڑ 22 لاکھ افراد پر مشتمل ایک علیحدہ اور لداخ 3 لاکھ افراد پر مشتمل دوسری اکائی کہلائے گا اور دونوں اکائیاں براہ راست نئی دہلی میں موجود وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہوں گی۔

دوسری جانب چین اور ترکی سمیت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) نے بھی بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر ‘شدید تشویش’ کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں تمام حقوق کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بھارتی عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ ‘سپریم کورٹ آف انڈیا نے نقل و حرکت کی آزادی اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سست عمل کیا جارہا ہے’۔

مزید پڑھیں: 'مقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی کرفیو'

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نے گزشتہ 72 برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے اور 30 برس کے دوران آزادی کی تیز ہوتی ہوئی تحریک کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور 5 اگست 2019 کو مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

بھارت مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور یہ مسئلہ عالمی برادری کے لیے توجہ طلب ہے اور حالیہ اقدامات کے بعد اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز میں اس پر بات کی جارہی ہے اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔