’ہم نہیں چاہتے کہ بابر کپتانی کے بوجھ تلے آ کر کُچلے جائیں‘

08 نومبر 2019

ای میل

سرفراز احمد کی جگہ ٹیم کی قیادت سنبھالنے والے بابر اعظم ایک بہترین بلے باز ہیں لیکن کیا بہترین کپتان بھی ثابت ہوں گے؟
سرفراز احمد کی جگہ ٹیم کی قیادت سنبھالنے والے بابر اعظم ایک بہترین بلے باز ہیں لیکن کیا بہترین کپتان بھی ثابت ہوں گے؟

قومی ٹیم میں ایک کپتان کی آمد اور دوسرے کی رخصتی، ہماری قوم کئی بار دیکھ چکی ہے۔ متعدد موقعوں پر اختتام کچھ زیادہ بھلا نہیں رہا، سرفراز احمد کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔

ریکارڈ 11 سیریز میں مسلسل فتح بلاشبہ سرفراز کی بطور ٹی20 کپتان ایک شاندار کامیابی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جون 2017ء میں آئی سی سی چیمپئن ٹرافی میں کامیابی بھی انہی کی قیادت میں پاکستان کو نصیب ہوئی تھی۔ مگر پھر ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے ہمیں اپنے ہی میدانوں میں ناقابلِ قبول شکست سے دوچار کیا اور یوں سرفراز کا دورِ کپتانی اختتام کو پہنچا۔

ان کے یوں عالمی منظرنامے سے جانے سے متعلق ملا جلا ردِعمل دیکھنے کو ملا اور اس فیصلے نے مباحثے کے طویل دور کا سلسلہ شروع کردیا۔ خیر، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ وکٹ کیپر/بلے باز کی غیر حاضری وقتی ہوگی اور وہ جلد واپسی کریں گے۔

تاہم، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک ایسے کھلاڑی کو کیوں برطرف کیا گیا جس نے اپنی قیادت میں پاکستان کو 37 میچوں میں سے 28 میں کامیابی دلوا کر آئی سی سی ٹی20 ٹیم کی درجہ بندی میں نمبر ون تک پہنچایا؟

یہ مانا کہ حالیہ کچھ عرصے سے ان کی بلے بازی اور وکٹ کیپنگ فارم میں نہیں ہے۔ لیکن ٹیم میں متعدد ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو بیٹنگ اور باؤلنگ میں کارکردگی نہیں دکھا پا رہے، ایسے میں اچانک سرفراز کو کپتانی سے ہٹانے اور ٹیم سے نکالنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟

بلاشبہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام کی جانب سے سرفراز پر یوں اچانک عدم اعتماد کا اظہار پریشان کن ہے، اور یہ عدم اعتماد ہی ہے جس کی وجہ سے ان سے ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ کی کپتانی بھی واپس لے لی گئی۔

سرفراز احمد کے بعد اب قیادت کی ذمہ داری بابر اعظم پر آچکی ہے جو مختصر طرز کی کرکٹ میں قومی ٹیم کے 8ویں کپتان ہوں گے۔ لیکن عالمی رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر موجود بابر اعظم کو قیادت کا معمولی تجربہ رکھنے کی وجہ سے مشکل بلکہ بہت زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بابر کے سر پر سب سے بھاری بوجھ کپتانی کی ذمہ داری کا ہی ہوگا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو ایک شخص سے تدبیری صلاحیتوں اور میدان میں کھیلنے کی مطلوبہ مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔

عظیم بھارتی کھلاڑی سچن ٹنڈولکر کو بھارتی قومی ٹیم کی قیادت کا کام سونپا گیا، لیکن جب تک ان کے پاس قیادت رہی وہ پریشان ہی رہے۔ ان کے علاوہ کرکٹ کی تاریخ میں ایسے متعدد عظیم کھلاڑی گزرے ہیں جنہیں کپتانی کا بوجھ اٹھانے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ بابر اعظم کی کپتانی کو لے کر ایک خدشہ تو ابھی سے ظاہر کیا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ بابر کے ناپختہ کاندھے اس پُرکشش عہدے کی بھاری زمہ داری کے بوجھ تلے آسکتے ہیں جس کے باعث ان کی شاندار بلے بازی کو زک پہنچ سکتی ہے۔

ہر کھلاڑی کپتانی کی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا کیونکہ رہنما راتوں رات پیدا نہیں ہوجاتے۔ کسی بھی کھلاڑی کو یہ ذمہ داری سونپنا اس کی صلاحیتوں سے جوا کھیلنے کے مترادف ہے۔

ہماری کرکٹ میں اس خامی کی ایک اہم وجہ مناسب گرومنگ کا فقدان ہے۔ دورِ جدید کے کپتانوں کو اب صرف معمول کے مطابق ٹیم میں اتحاد اور نظم و ضبط قائم کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ انہیں ہر قسم کے میڈیا کو سنبھالنے کا فن بھی آنا چاہیے۔ کسی بھی کپتان کے لیے پریس کانفرنس کا سامنا کرنا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے کیونکہ اس دوران ان سے نہایت مشکل اور پیچیدہ سوال پوچھے جاسکتے ہیں۔

ہر صورتحال کا بھرپور انداز میں سامنا کرنے کا فن رکھنے والے این چیپل کو اپنی غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے کھیلوں کے حلقوں میں نہایت معزز حیثیت حاصل ہے۔

1970ء کی دہائی میں چیپل نے دنیائے کرکٹ میں بہترین کپتان کے طور پر شہرت حاصل کی اور اپنی ممتاز کپتانی کے ساتھ آسٹریلیا کی قیادت سنبھالی۔ چند برس قبل انہوں نے فنِ کپتانی کے بارے میں اپنے ایک فکر انگیز مضمون میں لکھا تھا کہ ’ایک کپتان کو اپنی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو جاننا بہت ضروری ہے۔ کپتان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس کھلاڑی کی پیٹھ تھپتھپانے سے اور کس کھلاڑی کے کولہے پر لات مارنے سے وہ اچھا ردِعمل دے گا۔ اگر کسی کو میدان میں ثمر چاہیے اور وہ محترم رہنما بننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بیج بونے کے چند گھنٹوں بعد کھلاڑیوں کے ساتھ وقت گزارے۔ ایک بار اس نے یہ درجہ حاصل کرلیا تو اس کے لیے ایک اچھا کپتان بننے کی راہ ہموار ہوجائے گی‘۔

ٹیم کے مفاد کی خاطر قربانیاں دینے کے لیے ہردم تیار ایک معقول کپتان کے لیے چیپل کا مذکورہ اندازہ کامیابی کی ترکیب سے کم نہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’کپتان کے لیے احترام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے 3 حیثیتوں میں عزت کمانا لازمی ہے: کھلاڑی کی حیثیت میں، انسان ہونے کے ناطے اور آخر میں بطور رہنما۔ اگر ایک کپتان ان مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے، پھر اس کے ساتھ کھیل کے بارے میں اپنی علم و آگہی کو عام فہم اور کچھ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعمال کرتا ہے، اس کے علاوہ قسمت کی دیوی معقول حد تک مہربان ہوتی ہے تو اسے عروج حاصل کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی‘۔

ایک پرانی کہاوت ہے کہ کپتان کو اپنی ٹیم جتنا ہی اچھا ہونا چاہیے۔ یعنی کپتان پہلے خود کو ایک اچھا کھلاڑی ثابت کرے اور پھر اس کے بعد اچھا کپتان۔ آسٹریلوی مدتوں سے اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ پہلے ٹیم منتخب کرتے ہیں پھر 11 کھلاڑیوں میں سے کپتان کا چناؤ ہوتا ہے، چیپل اس نظام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

تاہم جہاں تک پاکستانی نظام کا تعلق ہے تو یہاں کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق کپتان چننے کا اختیار خالصتاً پی سی بی چیئرمین رکھتے ہیں۔ ہم گزشتہ کئی برسوں میں ایسے متعدد چیئرمین حضرات کو آتے اور جاتے دیکھ چکے ہیں، جنہیں کرکٹ کے بارے میں ٹکے کا علم بھی نہیں تھا، اور ایسا اس لیے ہوا کیونکہ بورڈ کا سرپرستِ اعلی (پیٹرن ان چیف) جو چاہے، وہ ہوجاتا ہے۔ پہلے بورڈ کا سرپرستِ اعلیٰ ملک کا صدر ہوا کرتا تھا پھر ترامیم ہوئیں اور چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار اب وزیرِاعظم کو مل گیا ہے۔

کپتانی میں شخصیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں ایسی مثالیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں جن میں اس بڑے اعزاز کے لیے مطلوب مہارت کے فقدان کے باوجود بھی یہ بھاری ذمہ داری سونپی گئی، بلکہ چند سیریز میں ایسے موقعے بھی آجاتے تھے جب میدان میں ایک کپتان ٹیم میں شامل متعدد سابق قومی کپتانوں میں گھرے نظر آ رہا ہوتا تھا۔

پھر ایک کے بعد ایک کپتانوں کو ہٹائے جانے کا یہ سلسلہ ملک میں موضوع بحث تو بنا لیکن اس محاذ پر طویل المدت استحکام کے کہیں کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ اس مسئلے کی جڑ دراصل ’پلیئرز پاور‘ کی غلیظ سیاست تھی۔

اظہر علی نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی ہے
اظہر علی نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی ہے

ٹیم کے اندر گروہ بندی کے کلچر کے ساتھ کپتان کو ناکام ثابت کرنے کے لیے سازشیں کی جاتی تھیں۔ نام نہاد سینئر تجربہ کار کھلاڑی ہر وقت کپتانی کا خواب دیکھا کرتے ہیں۔ ٹیم کے کھلاڑی کسی نہ کسی گروہ کا حصہ بن جاتے جبکہ غیر جانبدار کھلاڑیوں کی تعداد بہت ہی کم رہ جاتی تھی۔

اگر آپ پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو آپ پائیں گے کہ ملک کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان عبدالحفیظ کاردار کی ریٹائرمنٹ کے وقت سے کرکٹ میں یہی سب ہوتا چلا آیا ہے۔ ہم نے وہ دن بھی دیکھے جب کپتان کاردار نے بطور بورڈ چیف ان کے اختیار کو چیلنج کرنے والے چند کھلاڑیوں کو ’خود غرض‘ قرار دیا تھا اور ان پر کپتانی کے خواب دیکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔

پاکستان کی تاریخ کے ایک سب سے زیرک کپتان کے طور پر یاد کیے جانے والے مشتاق محمد سے بغاوت کی منصوبہ بندی اس وقت کی گئی جب ڈھلتی عمر والے مشتاق نے 1979ء کے ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاریخ نے خود کو اس وقت دہرایا جب 1981ء-1982ء میں دورہ آسٹرلیا کے دوران جاوید میانداد کے خلاف سینئر کھلاڑی نے گروپ بنایا جس کے نتیجے میں میانداد کپتانی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

باعزم ظہیر عباس کی ٹیم میں موجودگی کے باوجود ناتجربہ کار عمران خان کو کپتانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم عمران خان نے خود کو پاکستانی تاریخ کا سب سے حاکمانہ کپتان ثابت کیا، اور انہی کی بدولت پاکستان نے 1992ء میں اپنا پہلا اور واحد عالمی کپ جیتا۔ ان کی موجودگی کا اتنا اثر تھا کہ سلیکٹرز بھی کونے میں کھڑے بے بس و لاچار نظر آتے تھے اور عمران کو ہی اپنی ٹیم کا چناؤ کرنے دیتے۔

ظہیر کی کپتان بننے کی شدید خواہش اس وقت پوری ہوئی جب عمران خان کو انجری کے باعث ٹیم سے مجبوراً عارضی کنارہ کشی اختیار کرنی پڑی تھی۔ مگر ظہیر عباس بہت ہی زیادہ دفاعی حکمت عملی اپنانے والے ٹیسٹ کپتان کے طور پر ابھرے، میچ کی پہلی بال سے ہی ہارنے کا ڈر ان پر حاوی ہوتا تھا۔ یہ دوسری ایسی مثال ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی طور پر ضروری نہیں کہ ایک زبردست بلے باز ایک اچھا کپتان بھی ثابت ہو۔

بعدازاں ٹیم کی قیادت سنبھالنے والوں میں مصباح الحق بھی ایک ایسے کپتان تھے جنہیں ان کی اچھی قسمت کی وجہ سے اس وقت کپتانی نصیب ہوئی تھی جب سلمان بٹ نے 2010ء میں لارڈز ٹیسٹ سیریز کے دوران خود کو اسپاٹ فکسنگ کی غلیظ کہانی کا کردار بنا کر اپنے کیریئر کو برباد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مصباح کو ان کے دفاعی مزاج کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا، لیکن پھر ان کے مزاج میں تبدیلی آئی جو مثبت ثابت ہوئی کیونکہ جون 2017ء میں ریکارڈ 26 کامیابیوں کے ساتھ وہ پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بن گئے۔

یہی وہ وقت تھا جب ٹیم کی باگ ڈور سرفراز کے ہاتھوں میں تھمائی گئی جو پہلے سے ہی ایک روزہ ٹیم کی قیادت سنبھال رہے تھے۔ اگر پاکستان رواں سال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک کوالیفائی کرجاتا تو یہ عین ممکن ہے سرفراز پر اتنا بُرا وقت نہ آتا۔

خود کو سرفراز کا قابل جانشین ثابت کرنے کی بھاری ذمہ داری بابر اور ان کے ساتھ اظہر کے کاندھوں پر ہے۔ اظہر تو خیر پہلے بھی 29 ایک روزہ اور 2016ء میں سلو اوور ریٹ کی وجہ سے مصباح الحق کی غیر موجودگی میں ایک ٹیسٹ میں کپتانی کرچکے ہیں، مگر ساری توجہ نوجوان بابر پر ٹکی ہوں گی جو پہلی بار ٹیم کی قیادت کرتے نظر آئیں گے۔ لہٰذا یہاں بس یہ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ کپتانی کا بھاری بوجھ بابر کو کچل نہ دے۔


یہ مضمون 3 نومبر 2019ء کو ڈان اخبار کے ایؤس میگزین میں شائع ہوا۔