دھرنے والے بیٹھے رہیں ملک کو نقصان نہ پہنچائیں، وزیر دفاع

اپ ڈیٹ 08 نومبر 2019

ای میل

آئین میں آرڈیننس کی گنجائش موجود ہے اپوزیشن ہمیں آرڈیننس لانے سے کیسے روک سکتی ہے— فوٹو: ڈان نیوز
آئین میں آرڈیننس کی گنجائش موجود ہے اپوزیشن ہمیں آرڈیننس لانے سے کیسے روک سکتی ہے— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ میں اپوزیشن کو کہتا ہوں مولانا کو اسمبلی میں لائیں اور پھر جمہوریت کی بات کریں۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور سرمایہ کاری میں اضافہ سے متعلق قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر دفاع پرویز خٹک کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا کیا گیا، جس پر اسپیکر اجلاس ملتوی کرنے سے خبردار کرتےرہے۔

بعد ازاں اسپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن رہنما خواجہ آصف اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مراد سعید کے اظہارِ خیال کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں، 40 سال سے سیاست میں ہوں سارےحالات دیکھے ہیں۔

مزید پڑھیں: 'مطالبات نہ مانے گئے تو لاشیں اٹھائیں گے لیکن یہاں سے نہیں جائیں گے'

انہوں نے کہا کہ وزارت چھوڑ کر عمران خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جمہوریت کے تمام رموز بخوبی جانتا ہوں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا اور میں نے اسپیکر اسمبلی کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا رکن مقرر کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ آج یہ جمہوریت اور قانون کی باتیں سکھاتے ہیں جو ملک آپ چھوڑ کر گئے اس کا حساب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور فخر ہے جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو دوبارہ انتخابات کا چیلنج دیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ یہ غلط بیانی پاکستان کو نہ سنائیں بلکہ حقیقت سنائیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن وہاں (اسلام آباد میں) بیٹھے ہیں بات نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم الیکشن نہیں مانتے دوبارہ بھی الیکشن ہوا اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) جیت تو بھی ہم نہیں مانتے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ' یہاں کسی کا راج ہے ؟ یہ ملک کسی کے لیے بنا ہوا ہے؟ یہ پاکستان ہمارا ہے اس ملک کے لیے ہم نے قربانیاں دیں'۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ' میں ان سے کہتا ہوں صبر کریں آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا، یہ تماشا اور نہیں چلے گا، اس طرح یہ ملک نہیں چلے گا،پاکستان میں آپ جمہوریت نہیں مانتے قانون نہیں مانتے میں اپوزیشن کو کہتا ہوں، مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) جائیں جمہوریت کی بات کریں مولانا کو اسمبلی میں لائیں اور پھر جمہوریت کی بات کریں'۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ' جمہوریت کی بات کرتے ہیں ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے، میں نے سب تماشے دیکھے ہیں، بھٹو کو کس نے گرایا؟ نواز شریف کی حکومت کس نے ختم کی؟ یہی لوگ کھڑے ہوئے انہوں نے مل کر سب کو گرایا '۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 11 بل منظور

انہوں نے کہا کہ ' جمہوریت چاہتے ہیں اس ملک کو چلاناچاہتے ہیں تو آکر بات کریں، وہاں دھرنا دیا ہے تو بیٹھے رہیں لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، ملک کو تباہ نہیں کرنا'۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ' یہ دھاندلی کی بات کرتے ہیں، ہم نے بھی دھاندلی کی بات کی ہم الیکشن کمیشن گئے، ہم عدالت گئے ہم اسمبلی آئے لیکن یہ تو بات سننے کو تیار ہی نہیں '۔

انہوں نے کہا کہ' مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں کیا کرسکتے ہو'۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ' یہ جمہوریت کی بات کرتے ہیں وزیراعظم اسمبلی میں آتے ہیں انہیں بولنے نہیں دیتے ہم آپ کی بات سنتے ہیں لیکن خود برداشت نہیں کرسکتے'۔

حکومت کے رویے سے جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا، خواجہ آصف

وزیر دفاع کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے رویے سے جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہماری تقاریر کی آواز بند کی جاتی ہے اگر ہمیں یہاں پر اظہار رائے کی آزادی اس ایوان کی دیواروں میں بھی نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ' 65 ہزار جعلی ووٹوں سے نااہل قرار دیے گئے شخص نے کل اس ایوان کی توہین کی، کل تک اسٹے حرام تھا آج اسٹے حلال ہوگیا ہے' ۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس، حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ' اس ایوان میں 12 آرڈیننس بغیر کسی کارروائی کے پاس کیے گئے اور وزیراعظم اپنے دفتر میں بیٹھ کر دیکھتے رہے جس طرح قانون سازی ہوئی اس پر پورا ایوان شرمسار ہوا'۔

مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ' گزشتہ روز جو ہوا وہ اس ایوان کے لیے اچھا شگون نہیں تھا، اس طرح کے رویے رہے تو زیادہ دور نہیں کہ سارا نظام لپیٹ میں آئے'۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ' جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا پرویز خٹک آپ کا اور ہمارا بیڑا غرق ہوجائے اس کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن اداروں کا جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا'۔

انہوں نے وزیر دفاع کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ' یہ بیج آپ نے بوئے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے، پرویز خٹک آپ کنٹینر پر چڑھ کر ڈانس کرتے تھے'۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر برائے امور کشمیر اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے خلاف ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے اپنے نشست چھوڑنے کو تیار ہیں۔

علی امین گنڈا پور نے زور دیا کہ مولانا فضل الرحمٰن دھرنا ختم کریں اور ضمنی انتخاب میں اپنی مقبولیت ثابت کریں۔

جس پر قومی اسمبلی میں موجود جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اسد محمود نے کہا کہ اگر علی امین گنڈا پور اپنی نشست چھوڑتے ہیں تو وہ بھی استعفیٰ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔