نریندر مودی کرتارپور راہداری کی تکمیل پر عمران خان کے شکرگزار

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

نریندر مودی نے کرتار پور راہداری کے بھارتی حصے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا—تصویر اسکرین شاٹ
نریندر مودی نے کرتار پور راہداری کے بھارتی حصے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا—تصویر اسکرین شاٹ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کرتارپور راہداری کھولنے پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا خصوصی شکریہ ادا کردیا۔

کرتار پور راہداری کے بھارتی حصے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اس راہداری کی تعمیر سے گوردوارہ دربار صاحب کی زیارت آسان ہوجائے گی اور اسے مقررہ مدت میں تعمیر کرنے والے ہر فرد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بھارتی وزیراعظم نے خصوصی طور پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نیازی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کرتار پور راہداری کے لیے بھارت کے جذبات کو سمجھا، اسے عزت دی اور اسی جذبات کے تحت اقدمات کیے۔

اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان کے طرف کی راہداری اتنی قلیل مدت میں تیزی سے مکمل کرنے پر اس کام میں حصہ لینے والے ہر شخص کا شکریہ ادا کیا۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بابا گرونانک کی 550ویں سالگرہ سے قبل مشترکہ چیک پوسٹس، کرتار پور صاحب راہداری کی تکمیل ہونا سب کے لیے دوہری خوشی کا باعث ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے ضلع نارووال میں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی آخری قیام گاہ کرتار پور کا مقام سکھوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں سکھوں کے مذہبی پیشوا نے اپنی زندگی کے آخری 18برس گزارے تھے۔

مزید پڑھیں: کرتار پور راہداری افتتاح : سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی آمد

1947 میں تقسیم ہند کے بعد یہاں قائم گوردوارہ دربار صاحب کا 4 کلومیٹر تک کا مقام پاکستان کی حدود میں شامل ہوگیا تھا جس کے بعد سکھ یاتری بھارتی پنجاب کے ضلع گورداس پور میں ایک مقام سے دوربین کے ذریعے یہاں کی زیارت کرتے تھے۔

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

مذہبی اہمیت کے پیشِ نظر بھارتی سکھوں کا 70 سال سے مطالبہ تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دربار صاحب کو جانے والا راستہ کھول دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کرتارپور یاترا کیلئے 10 ہزار ویزے جاری، پاسپورٹ کی شرط ایک سال تک ختم

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی تھی۔

تاہم گزشتہ برس اس حوالے سے بڑی پیش رفت اس وقت دیکھنے کو آئی جب اس وقت نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے ان کے دوست نوجوت سدھو پاکستان تشریف لائے۔

افتتاحی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ان کی گرم جوش ملاقات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے کرتارپور راہداری کھولنے کا عندیہ دیا تھا۔

مزید پڑھیں: سکھ یاتریوں کے خیر مقدم کیلئے کرتار پور راہداری تیار ہے، وزیراعظم

بعدازاں بعد ازاں 28 نومبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور میں قائم گوردوارہ دربار صاحب کو بھارت کے شہر گورداس پور میں قائم ڈیرہ بابا نانک سے منسلک کرنے والی راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ دیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کی بروقت تکمیل کے لیے دن رات کام کیا گیا اور 20 اکتوبر کو یہ اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو اس کا افتتاح کریں گے، جس کے بعد ہفتہ 9 نومبر کو عمران خان نے اس راہداری کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔