سنی دیول کی بھی کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت

اپ ڈیٹ 09 نومبر 2019

ای میل

سنی دیول افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے واحد اداکار تھے—فوٹو: اے ایف پی
سنی دیول افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے واحد اداکار تھے—فوٹو: اے ایف پی

بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا گیا جس میں پاکستان کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بھارت کی بھی اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب شروع ہونے سے قبل ہی پاکستان کی خصوصی دعوت پر بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ سمیت دیگر بھارتی اہم سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات کرتارپور راہداری کے ذریعے شرکت کے لیے پہنچیں۔

سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کرتارپور راہدرای کے ذریعے پاکستان آنے والے پہلے جتھے کی قیادت کی۔

ان کے علاوہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ، سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو اور بولی وڈ اداکار سنی دیول بھی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔

سنی دیول کا تعلق اگرچہ شوبز انڈسٹری سے ہے، تاہم وہ بطور سیاسی رہنما تقریب میں شریک ہوئے، وہ اس وقت حکمران جماعت جماعت ’بھارتی جنتا پارٹی‘ (بی جےپی) کے رکن اسمبلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

جہاں سنی دیول کا تعلق بی جے پی سے ہے، وہیں وہ سکھ خاندان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور وہ عام طور پر فلموں میں بھی سکھوں کے کردار نبھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

کرتارپور راہداری کی افتاحی تقریب میں سنی دیول وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں— فوٹو: رائٹرز
کرتارپور راہداری کی افتاحی تقریب میں سنی دیول وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں— فوٹو: رائٹرز

سنی دیول نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے قبل ہی اپنے ٹوئٹر پر اس کا اعلان کیا تھا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔

کرتارپور راہداری کھلنے سے یومیہ 8 سے 10 ہزار افراد کے پاکستان آنے کے امکانات ہیں۔

کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گوردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر کا ہی ہے۔

سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے ہیں بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی، تاہم اب پاکستان نے اس راہداری کو کھول کر تاریخ رقم کردی۔

درجنوں سکھ زائرین بھی پیدل تقریب میں پہنچے—فوٹو: اے ایف پی
درجنوں سکھ زائرین بھی پیدل تقریب میں پہنچے—فوٹو: اے ایف پی