وزیراعظم نے 65 سال سےزائد عمر کے بیمار قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کرلیا، اسد عمر

21 نومبر 2019

ای میل

اسد عمر نے ٹوئٹ کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا — فائل فوٹو / رائٹرز
اسد عمر نے ٹوئٹ کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا — فائل فوٹو / رائٹرز

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 65 سال سے زائد عمر کے بیمار قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ 'وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ 65 سال سے زائد عمر کے ایسے غریب اور بیمار قیدی جو کسی گھناؤنے جرم کے مرتکب نہیں، ان کو رہا کرنے کی پالیسی بنائی جائے۔'

انہوں نے کہا کہ 'یہ ایک اور قدم ہے ایک ایسے پاکستان کی طرف جس میں حکومت کی اولین ترجیح ملک کا کمزور طبقہ ہے نہ کے طاقتور اور دولتمند افراد۔'

واضح رہے کہ دو روز قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کی غرض سے ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے کے بعد اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ لندن پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لندن میں نواز شریف کے مرض کی تشخیص کیلئے مختلف ٹیسٹ

ان کے بیرون ملک جانے کے بعد مختلف طبقات کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آرہا تھا کہ جب حکومت ایک سزا یافتہ مجرم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے سکتی ہے تو جیل میں دیگر بیمار قیدیوں کو بھی ان کی مرضی کے مطابق علاج کی اجازت دی جائے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے بھی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملک بھر کی جیلوں میں قید بیمار قیدیوں کی سزا معاف کرنے کی درخواست کر رکھی ہے۔

انہوں نے صدر کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا تھا کہ ایک مجرم ملک سے باہر جاسکتا ہے تو باقی غریبوں کو بھی معاف کیا جائے اور پاکستانی جیلوں میں قید بیماروں کی سزا معاف کی جائے۔

یاد رہے کہ اسد عمر نے دو روز قبل ہی ایک بار پھر وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسد عمر سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ میں ردو بدل، اسد عمر کو وزیر منصوبہ بندی بنانے کا فیصلہ

اسد عمر نے رواں برس مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے ہی 18 اپریل کو وزارت خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اسد عمر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلم دان سنبھال لوں، لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ نے ایک ایسے موقع پر استعفیٰ دیا تھا جب حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی تھی اور مالی سال کا بجٹ بھی پیش کیا جانا تھا۔