'نوازشریف کی صحت جہاز دیکھ کر ٹھیک ہوئی یا لندن کی ہوا سےتحقیقات ہونی چاہیے'

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ معیشت کی طرف اب ہماری سمت ٹھیک ہوگئی —فوٹو: ڈان نیوز
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ معیشت کی طرف اب ہماری سمت ٹھیک ہوگئی —فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیر اعطم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک روانگی سے متعلق کہا ہے کہ مریض جہاز دیکھ کر ٹھیک ہوا یا لندن کی ہوا لگنے سے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

میانوالی میں 200 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ ہسپتال، یونیورسٹی آف میانوالی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک روانگی سے متعلق کہا کہ ’جب میں نے نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو میں نے ڈاکٹروں کی رپورٹس سامنے رکھ لی، رپورٹ میں لکھا تھا کہ ان کے دل، گردے اور دیگر ساری چیزیں انتہائی خراب حالت میں ہیں اور کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں کبھی نواز شریف کی طبی رپورٹ کو دیکھتا اور کبھی مسلم لیگ (ن) کے قائد کو جہاز پر چڑھتے دیکھتا‘۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوا یا لندن کی ہوا لگنے سے، تحقیقات ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد 19 نومبر کو نواز شریف قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئے تھے۔

عدالت نے شہباز شریف سے سابق وزیراعظم کی واپسی سے متعلق تحریری حلف نامہ طلب کیا تھا اور اس کی بنیاد پر نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان مسلم امہ کے سال کے بہترین شخص قرار

’معیشت کی طرف اب ہماری سمت درست ہوگئی‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کو تاریخی خسارہ ملا جس کی وجہ سے روپے کی قدر 35 فیصد گری۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ اور گردشی قرضے کی مد میں بالترتیب ساڑھے 19 ارب ڈالر اور 450 ارب روپے خسارہ ملا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی خزانے میں ڈالر کی کمی کے باعث جو اشیا برآمد کرتے وہ مہنگی پڑھتی اور اس وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 4 برس میں پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہوگیا، ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ معیشت کی طرف اب ہماری سمت درست ہوگئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ’اللہ کا کرم ہے کہ ہمارا روپیہ صرف 35 فیصد گرا، ابھی تو 155 روپے کا ڈالر ہے، روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 300 روپے پر جاسکتا تھا کیونکہ ہمارے پاس ڈالر ہی نہیں تھے اسے روکنے کے لیے‘۔

’مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں یہودیوں کو سازش کی ضرورت نہیں‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے متعلق عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ملکی معیشت کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آئے بلکہ اپنی سیاسی دکان بند ہونے کی وجہ سے پریشان ہوئے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان کا نام دنیا کی 100 متاثر کن شخصیات میں شامل

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا بھی ایک ہی مقصد تھا کہ عمران خان اپنی حکومت پوری کرے لیکن بس کسی طرح ہمارے اوپر سے یہ کیسز ختم کردے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف پر کیس ہماری حکومت میں نہیں بنے‘۔

عمران خان نے کہا کہ اگر کسی کو این آر او دیا تو سب سے بڑی غداری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک سسٹم کرپٹ ہو جاتا ہے تو ہر ادارے میں مافیا بیٹھ جاتا ہے اور جب آپ تبدیلی لے کر آتے ہیں تو یہ مافیا کھڑا ہوجاتا ہے، تب حکمران کہتا ہے کہ میں اپنی کرسی بچاؤں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے احتساب ختم کرکے شریف خاندان کو این آر او دے دیا اور وہ بیرون ملک روانہ ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی کی پیشکش، بھارتی ردعمل پر عمران خان حیران

ان کا کہنا تھا کہ ’جب پرویز مشرف کی کرسی مشکل میں پڑی تو این آر او دے کر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو لے کر آگئے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی کرسی بچانے کے لیے نہیں آیا بلکہ تبدیلی کے لیے آیا ہوں اور ڈاکوؤں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا۔

عمران خان نے کہا کہ میانوالی میں صحت اور پانی کی سپلائی اسکیموں اور تعلیم کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بہترین روزگار دینے کے لیے انہیں ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی سیاست کے ابتدائی دور میں مجھے سب سے پہلے میانوالی میں پذیرائی ملی‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں میانوالی میں رکن قومی اسمبلی تھا تب مجھے صرف پٹواری، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی شکایات موصول ہوتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تب میں نے نظام بدلنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ عمران خان ہو یا نہ ہو، نظام قائم رہے‘۔

’اب تک پاکستان میں بہتر بلدیاتی نظام نہیں آیا‘

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کبھی بھی وہ بلدیاتی نظام نہیں آیا جو فلاحی ریاست کا تصور پیش کرے۔

انہوں نے تحریک انصاف کے بلدیاتی نظام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا بلدیاتی نظام ایسا ہوگا جس میں صوبوں سے اختیارات اضلاع اور گاؤں تک جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسہ اضلاع اور گاؤں تک پہنچے گا اور گاؤں کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ کس مد میں پیسہ خرچ کیا جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ شہری علاقوں میں انتخابات ہوں گے جہاں ناظم منتخب ہو گا اور وہ اپنی ٹیم تشکیل دے گا اور تمام امور اس کی ذمہ داری ہوگی کہ تمام مسائل دور کرے۔

عمران خان نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی بلدیاتی نظام رائج ہے۔

میانوالی کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا، عثمان بزدار

قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزادر نے کہا ہے کہ میانوالی کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا جبکہ پورے میں ملک میں یکساں ترقی ہونی چاہیے تھی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ ہم میانوالی کے لوگوں کے احسان کے مقروض ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا جو ملکی ترقی روکنے کے لیے تھا۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم نے سرگودھا-میانوالی روڈ کا بھی افتتاح کیا۔