پاکستانی گلوکارہ کو نواز شریف پر تنقید مہنگی پڑ گئی

ای میل

عینی خالد نے ٹوئٹر پر نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر تنقید کی — فوٹو/ فیس بک
عینی خالد نے ٹوئٹر پر نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر تنقید کی — فوٹو/ فیس بک

پاکستان کی نامور گلوکارہ عینی خالد ویسے تو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ فعال نہیں رہتی البتی کبھی کبھار اپنے مداحوں سے ٹوئٹس اور پوسٹ کے ذریعے رابطے میں رہتی ہیں۔

تاہم حال ہی میں اداکارہ کی جانب سے کی گئی ایک ٹوئٹ کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

عینی خالد نے اپنی ٹوئٹ میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایک تصویر شیئر کی، جو اس وقت برطانیہ میں علاج کی غرض سے موجود ہیں۔

فوٹو: ٹوئٹر اسکرین شاٹ
فوٹو: ٹوئٹر اسکرین شاٹ

عینی خالد نے اپنی ٹوئٹ میں نواز شریف کی ایک تصویر شیئر کی اور لکھا کہ 'جب آپ بیرون ملک ایک جان لیوا مرض کے لیے جائیں لیکن شاپنگ آپ کی زندگی ہو'۔

البتہ اس ٹوئٹ کے فوری بعد صارفین نے عینی خالد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا کہ جو تصویر انہوں نے شیئر کی وہ ابھی کی نہیں تین سال پرانی ہے جب نواز شریف برطانیہ میں موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب آپ ایک پرانی تصویر بغیر تصدیق کے استعمال کریں تو صرف شرمندگی ہوگی'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ پرانی تصویر ہے، کوئی بات نہیں اگر کوئی آپ کو پسند نہیں، لیکن اس سے اس حد تک نفرت کرنا کہ بغیر تصدیق آپ کچھ بھی شیئر کردیں، غیر انسانی ہے'۔

ایک صارف کے مطابق 'میں نواز شریف کا مداح تو نہیں، البتہ یہ تصویر پرانی ہے'۔

انہوں نے لکھا کہ 'دشمنی میں غلط خبریں پھیلانا گناہ ہے'۔

ایک صارف نے تو گلوکارہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں اور مائیک پر چلائیں۔

یاد رہے کہ رواں سال 21 اکتوبر کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو صحت کی تشویشناک صورتحال کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

سابق وزیراعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، جس کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز تھے بعدازاں اس بورڈ میں مزید ڈاکٹروں اور ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کو بھی شامل کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف علاج کیلئے ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچ گئے

میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کی تھی اور بتایا تھا کہ انہیں خلیات بنانے کے نظام خراب ہونے کا مرض لاحق ہے، تاہم ڈاکٹر طاہر شمسی نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہوگئی ہے، ان کی بیماری کا نام ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) ہے جو قابلِ علاج ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف کو لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کیس اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت مل گئی تھی جس کے بعد ان کا نام ای سی ایل نکالے جانے کے معاملے پر پیچیدگیاں ہوئیں اور شہباز شریف نے اس کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں ایک بار 4 ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی، جس کے بعد محکمہ داخلہ نے سابق وزیراعظم کو باہر جانے کی اجازت دے دی تھی۔ نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ 19 نومبر کو قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچے تھے۔