بھارت اور ویسٹ انڈین کے درمیان میچ کے دوران کرکٹ کی نئی تاریخ رقم

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

میچ کے دوران پہلی مرتبہ تھرڈ امپائر نے نوبال قرار دی— فوٹو: اے پی
میچ کے دوران پہلی مرتبہ تھرڈ امپائر نے نوبال قرار دی— فوٹو: اے پی

کرکٹ کی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نت نئی تبدیلیاں رونما ہوتی جارہی ہیں اور اب اس دنیا کے دوسرے مقبول ترین کھیل میں ایک اور اہم تبدیلی کرتے ہوئے امپائرز کے ذریعے نوبال دینے کا آزمائشی بنیادوں پر تجربہ کیا گیا۔

کرکٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نوبال کے بڑھتے ہوئے تنازع کو دیکھتے ہوئے نوبال کے لیے بھی تھرڈ امپائر کی مدد لینے کی تجویز پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان، فواد عالم کی 10سال بعد واپسی

کرکٹ خصوصاً محدود اوورز کے کھیل پر پڑنے والے نوبال کے اثرات اور چند مواقعوں پر امپائر کی پہلو تہی کے نتیجے میں میچ کے نتیجے پر پڑنے والے اثرات کو دیکھتے ہوئے نوبال کے لیے تھرڈ امپائر کے استعمال کی تجویز ہر گزرتے دن کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین شکل اختیار کر گیا جب اس بات انکشاف ہوا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران امپائر نے 21نوبال نہیں دی تھیں۔

فیلڈ امپائرز کی مسلسل غلطیوں اور متاثرہ ٹیموں کے احتجاج کے پیش نظر نوبال کے لیے تھرڈ امپائر کا آزمائشی بنیادوں پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ کے ڈرافٹ مکمل، جیسن رائے، ہیلز اور معین علی منتخب

اس سلسلے میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان حیدرآباد دکن میں کھیلے گئے میچ میں پہلی مرتبہ نوبال کے لیے تھرڈ امپائر کی آزمائشی بنیادوں پر خدمات حاصل کی گئیں۔

بھارت نے پہلے باؤلنگ کرتے ہوئے 20اوورز میں ایک بھی نوبال نہیں کی جس کی وجہ سے تھرڈ امپائر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

البتہ ویسٹ انڈین باؤلنگ کے دوران 13ویں اوور میں کیسرک ولیمز اس وقت تاریخ کا حصہ بن گئے جب تھرڈ امپائر نے ان کی جانب سے کرائی گئی گیند کو نوبال قرار دیا۔

مزید پڑھیں: حفیظ نظرانداز، لاہور قلندرز نے سہیل اختر کو کپتان مقرر کردیا

یہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ باقاعدہ طور پر تھرڈ امپائر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نوبال قرار دی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ اس آزمائشی عمل کے دوران تھرڈ امپائر ہر گیند کی نگرانی کا ذمے دار ہو گا اور نوبال کے لیے وکٹ پر پڑنے والے اگلے پیر کا جائزہ لے گا۔

بیان میں مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ اگر باؤلر کا اگلا پیر مقررہ حدود سے تجاوز کرتا ہے تو تھرڈ امپائر اسی وقت فیلڈ امپائر سے رابطہ کرے گا جو فوراً نوبال قرار دیں گے۔

واضح رہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کے گزشتہ ایڈیشن میں نوبال کے تنازعات کے سبب بھارتی کرکٹ حکام پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں وہ انڈین پریمیئر لیگ کے اگلے ایڈیشن میں نوبال کے لیے ایک خصوصی امپائر مقرر کریں گے۔