ڈیموکریٹس نے باضابطہ طور پر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ پیش کردیا

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

امریکی صدر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے وچ ہنٹ قرار دیا اور کہا ڈیموکریٹس کچھ نہ کرو—فائل فوٹو:رائٹرز
امریکی صدر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے وچ ہنٹ قرار دیا اور کہا ڈیموکریٹس کچھ نہ کرو—فائل فوٹو:رائٹرز

واشنگٹن: ڈیموکریٹس اراکین کی جانب سے باضابطہ طور پر الزامات عائد کیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا کیس تفصیلات کے ساتھ ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کو موصول ہوگیا۔

دسری جانب ٹرمپ کی جانب سے اس کارروائی پر نیا حملہ سامنے آگیا جسے وہ دھوکا دہی اور بدمعاشی کہہ کر مسترد کرتے ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ وکلا کی جانب سے اب تک جو الزامات سامنے آئے اس کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا اور ساتھ ہی امریکی پالیسی کے خلاف امریکی فوج امداد روکی جس سے روس کو فائدہ پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: مواخذہ کیا ہے اور ٹرمپ کے بے دخل ہونے کے امکان کیوں کم ہیں؟

مذکورہ معاملے پر کمیٹی کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت اور رکاوٹ ڈالنے پر امریکی صدر کے خلاف کمیٹی ووٹ رواں ہفتے آنے کا امکان ہے۔

اس معاملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اسے وچ ہنٹ قرار دیا اور کہا کہ ڈیموکریٹس کچھ نہ کرو۔

ادھر جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیرالڈ نیڈلر نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو ملک پر فوقیت دیتے ہیں۔

پینل میں شامل ڈیموکریٹ رکن ڈوج کولنز نے کہا کہ ڈیموکریٹس 2020 کے صدارتی انتخابات کے پیشِ نظر مواخذے کی کارروائی کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے مواخذے کی انکوائری: وائٹ ہاؤس نے تعاون سے انکار کردیا

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر ہیں اور ان کے پاس ایسا کوئی امیدوار نہیں جو انہیں شکست دے سکے۔

واضح رہے کہ ریپبلکن اراکین کی جانب سے یہ اعتراض اٹھا کر کہ امریکی صدر کے الزامات سے انکار پر کمیٹی کے ڈیموکریٹ وکیل نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، متعدد مرتبہ مواخذے کی کارروائی روکنے اور اسے سست کرنے کی کوششیں کی جاچکی ہیں۔

جس پر کمیٹی چیئرمین نے ردِ عمل دیا کہ امریکی صدر کے مواخذے کے لیے وجوہات مرتب کرنے کے بعد منفی تبصرے متوقع تھے۔

تاہم ریپبلکن کی جانب سے پارٹی لائن ووٹس میں شکست کھانے کے بعد اب بھی منفی تبصروں کو بند کرنے پر ووٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی آگے بڑھانے کی قرارداد منظور

سماعت میں اس وقت خلل پیدا ہوگیا جب ایک شخص احتجاج کرتے ہوئے چلایا کہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا ہے اور ڈیموکریٹس کو غداری کا مرتکب قرار دیا ہے جبکہ بعدازاں مذکورہ شخص کو سماعت کے کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے کرسمس سے قبل فل ہاؤس ووٹ لینے کی کوشش کے باعث سماعت ایک ہفتے کے لیے موخر کردی گئی۔

مواخذے کے لیے دفعات لگانے پر اسپیکر نینسی پلوسی کو قانونی اور سیاسی اعتبار سے اکثریتی اراکین کا نقطہ نظر متوازن رکھنے میں چیلنج کا سامنا ہے۔


یہ خبر 10 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔