برطانیہ: آج ہونے والے انتخابات میں بریگزٹ، صحت کی سہولیات ووٹرز کیلئے اہم

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

انتخابات سے ایک روز قبل جاری کیے گئے پول میں کنزرویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی—تصویر: اے ایف پی
انتخابات سے ایک روز قبل جاری کیے گئے پول میں کنزرویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی—تصویر: اے ایف پی

لندن: برطانیہ میں آج ہونے والے انتخابات میں تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جس میں سخت مقابلے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انتخابات میں ووٹرز کے لیے جو معاملات اہم ہیں ان میں بریگزٹ، سست معیشت، صحت اور سوشل کیئر پروٹیکشن کی کمزور صورتحال، موسمیاتی تبدیلیاں اور امن و عامہ کی صورتحال شامل ہیں۔

اس ضمن میں ڈیٹا کمپنی یو گوو نے انتخابات سے ایک روز قبل جاری کیے گئے پول میں کنزر ویٹو پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی ہے لیکن ساتھ ہی معلق پارلیمنٹ تشکیل دیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں کرسمس سے چند روز قبل ہی عام انتخابات کی منظوری

انتخابات میں 18 برس یا اس سے زائد عمر والے رجسٹرڈ برطانوی شہری ووٹ ڈال سکتے ہیں جس میں 650 مرد و خواتین کا انتخاب کیا جائے گا جبکہ پارلیمنٹ میں اکثریت پانے کے لیے کسی بھی پارٹی کا 326 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔

مذکورہ انتخابات کو برطانیہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کنزرویٹو اور لیبر پارٹی کی جانب سے 'نسل کے لیے نہایت اہم' قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ دونوں جماعتوں کا بریگزٹ اور عوام پر خرچ کرنے کے حوالے سے نقطہ نظر یکسر مختلف ہے، اسی انتخاب کے نتیجے میں متوقع طور پر اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ بریگزٹ ریفرنڈم کے ساڑھے 3 برس بعد برطانیہ کس طرح یورپی یونین سے خارج ہوگا۔

برطانوی انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدوار

آج ہونے والے انتخابات میں سال 2017 کے انتخابات کے مقابلے میں بڑی تعداد میں ایسے امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن کا پس منظر پاکستانی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ : ’یورپی یونین کے انتخابات میں حکمراں جماعت کو مشکلات پیش آسکتی ہیں‘

گزشتہ انتخابات میں ایسے امیدواروں کی تعداد 40 تھی جبکہ حالیہ انتخابات میں 70 پاکستانی نژاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں جنہیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹیز نے ٹکٹ دیا ہے جبکہ کچھ امیدوار آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

امیدواروں کی تقسیم کچھ اسطرح ہے کہ 20 پاکستانی نژاد امیدواروں نے کنزرویٹو پارٹی، 19 لیبر پارٹی، 12 لبرل ڈیموکریٹ، 5 بریگزٹ پارٹی، 4 گرین پارٹی کے ٹکٹ اور 10 امیدواروں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔

قومیتی مساوات کے ایک تھنک ٹینک رنی میڈ کے مطابق عام طور پر پاکستانی نژاد ووٹرز دیگر اقلیتوں کی طرح لیبر پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور 90 کی دہائی میں یہ شرح 80 سے 90 فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بریگزٹ: برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ کی قبل ازوقت انتخابات کی حمایت

2010 کے انتخابات میں پاکستانی اور بھارتی نژاد ووٹر نے بنگلہ دیشی، کیریبیئن اور افریقی ووٹرز کے مقابلے کم تعداد (60 فیصد) میں لیبر پارٹی کو ووٹ دیا۔

تاہم اب بھی برطانیہ کے سفید فام ووٹرز کے مقابلے میں زیادہ تر لیبر پارٹی کو ووٹ دینے کے خواہاں ہیں، 2017 میں پاکستانی نژاد شہریوں کی جانب سے تقریباً 90 فیصد ووٹ لیبر پارٹی کو دیے گئے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ 54 فیصد پاکستانی نژاد بچے غربت میں زندگی گزار رہے ہیں تو یہ ووٹ دیتے ہوئے معاشی معاملات سامنے رکھنا غیر متوقع نہیں۔

دوسری جانب تاریخی طور پر اچھی کارکردگی نہ دکھانے والی کنزرویٹو پارٹی تمام گروپس میں اپنی نمائئندگی دکھانا چاہتی ہے جس میں وزیراعظم بورس جانسن نے نسلی اعتبار سے برطانیہ کی تاریخ کی سب سے مختلف قسم کی کابینہ تشکیل دی تھی جس میں پاکستانی نژاد چانسلر ساجد جاوید بھی شامل ہیں۔