گریٹا تھونبرگ دنیا کی کم عمر ترین ٹائم ’پرسن آف دی ایئر‘ قرار

12 دسمبر 2019

ای میل

گریٹا تھونبرگ متعدد عالمی فورمز پر ماحولیات پر خطاب کر چکی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
گریٹا تھونبرگ متعدد عالمی فورمز پر ماحولیات پر خطاب کر چکی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

ماحولیاتی تحفظ کے لیے دنیا بھر میں منفرد شہرت حاصل کرنے والی یورپی ملک سویڈن کی 16 سالہ طالب علم گریٹا تھونبرگ کو امریکا کے شہرہ آفاق میگزین ’ٹائم‘ نے رواں سال کی شخصیت قرار دے دیا۔

ٹائم میگزین نے گریٹا تھونبرگ کو ’پرسن آف دی ایئر 2019‘ قرار دیا ہے وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی اب تک کی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت بن گئیں۔

گریٹا تھونبرگ کو دنیا کی کم عمر ترین ماحولیاتی تحفظ کی کارکن کا اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ ’ٹائم میگزین‘ کی دنیا کے بااثر ترین افراد کی فہرست میں کم عمر ترین بااثر ترین شخص کے طور پر بھی شامل ہو چکی ہیں۔

گریٹا تھونبرگ کو رواں برس ناروے کے تین ارکان پارلیمنٹ نے دنیا کے سب سے معتبر ترین ایوارڈ نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد کیا تھا، تاہم انہیں یہ انعام نہیں دیا گیا، اگر وہ نوبیل انعام بھی حاصل کرلیتیں تو وہ اب تک یہ انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بن جاتی ہیں.

وہ دنیا کی کم عمر ترین پرسن آف دی ایئر بن گئیں—فوٹو: ٹائم میگزین
وہ دنیا کی کم عمر ترین پرسن آف دی ایئر بن گئیں—فوٹو: ٹائم میگزین

ٹائم میگزین نے گریٹا تھونبرگ کو ’پرسن آف دی ایئر 2019‘ قرار دیتے ہوئے انہیں دیگر نوجوان افراد کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح ان کی جانب سے عالمی ماحولیاتی تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے سے دنیا بھر کے دوسرے نوجوانوں کو حوصلہ ملا اور وہ بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

امریکی میگزین کے مطابق گریٹا تھونبرگ کا جذبہ دیکھ کر ہی ایشیا سے لے اکر افریقہ تک نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے باہر نکلے اور انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

گریٹا تھونبرگ کون ہیں؟

ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے گریٹا تھونبرگ کی تعلیم متاثر ہوئی—فوٹو: اے ایف پی
ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے گریٹا تھونبرگ کی تعلیم متاثر ہوئی—فوٹو: اے ایف پی

سویڈن میں شوبز گھرانے میں جنوری 2003 کو سوئیڈن میں پیدا ہونے والی گریٹا تھونبرگ ہائی اسکول کی طالبہ ہیں جو گزشتہ 2 سال سے دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔

گریٹا تھونبرگ کو دنیا کے ماحول کو تبدیل کرنے کا خیال 2018 کے موسم گرما میں اگست کے دوران اس وقت ہوا جب ان کے ملک میں سخت گرمی تھی جس وجہ سے وہ اسکول نہ جا سکیں تھیں۔

کئی دنوں تک اسکول نہ جانے کے باعث انہوں نے ابتدائی طور پر سوئیڈن میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے مہم کا آغاز کیا اور سب سے پہلے اپنے اسکول کے طلبہ کے ساتھ ایک چھوٹے مظاہرے کا انعقاد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گریٹا تھونبرگ امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد

سوئیڈن میں چھوٹے مظاہرے کے بعد انہیں شہرت ملی اور وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہوگئیں اور انہوں نے دنیا بھر کے طلبہ کو ماحولیاتی تبدیلی کے مظاہرے کرنے کی اپیل کی جس کے بعد دسمبر 2018 میں دنیا بھر کے 200 سے زائد شہروں میں طلبہ نے مظاہرے کیے۔

گریٹا تھونبرگ نے ماحولیاتی تبدیلی کی مہم کی وجہ سے جلد ہی عالمی توجہ حاصل کرلی اور انہیں ورلڈ اکنامک فورم اور ٹیڈ سمیت کئی اہم عالمی فورمز میں مدعو کیا گیا۔

رواں ماہ مارچ میں سوئیڈن اور ناروے سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں بھی اسکول کے طلبہ نے ماحولیاتی تبدیلی کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے کیے، جس نے عالمی رہنماؤں کو ماحولیات سے متعلق نئی پالیسی بنانے کے لیے منصوبہ بندی پر مجبور کیا۔

گریٹا تھونبرگ ٹائم میگزین 2018 کی ’ٹینز‘ کم عمر بااثر افراد کی فہرست میں بھی شامل رہیں۔

میگزین نے گریٹا تھونبرگ کو نوجوانوں کا رول ماڈل قرار دیا—فوٹو: ٹائم میگزین
میگزین نے گریٹا تھونبرگ کو نوجوانوں کا رول ماڈل قرار دیا—فوٹو: ٹائم میگزین