متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری، بنگلہ دیشی وزرا کا دورہ بھارت منسوخ

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2019

ای میل

بھارتی دارالحکومت میں مظاہرین شہریت ترمیم بل کی کاپی احتجاجاً جلا رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز
بھارتی دارالحکومت میں مظاہرین شہریت ترمیم بل کی کاپی احتجاجاً جلا رہے ہیں— فوٹو: رائٹرز

بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ نے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا۔

بھارت کی لوک سبھا اور راجیا سبھا نے متنازع شہریت ترمیمی بل منظور کر لیا تھا جس کے بعد سے ملک بھر میں خصوصاً ریاست آسام میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے کرفیو نافذ کر کے مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے کہا کہ مقامی سطح پر مجھ سے دورہ منسوخ کرنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے تھے جس کے سبب مجھے دورہ ملتوی کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے نئی دہلی میں بدی جیبی بدوش (دانشور شہدا کا دن) اور بجوئے دیبوش (بنگلہ دیش کی فتح) کے دن کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کرنا تھی کیونکہ ہمارے وزیر مملکت میڈرڈ کے دورے پر موجود ہیں لیکن بڑھتے ہوئے مطالبات کے سبب اب مجھے دورہ منسوخ کرنا پڑ رہا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی جانب سے دورہ منسوخ ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے جہاں اے کے مومن کو 12سے 14دسمبر سے بھارت کا دورہ کر کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کے ساتھ ساتھ بحیرہ ہند مذاکرات میں بھی شرکت کرنی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل پر احتجاج جاری، بین الاقوامی سطح پر تنقید

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ دورہ منسوخ ہو چکا ہے لیکن ہمارے بنگلہ دیش سے مضبوط تعلقات ہیں اور اس دورے کی منسوخی سے ان تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس خبر کے آنے کے چند گھنٹے بعد بنگلہ دیشی وزیر داخلہ اسد الزمان خان نے بھی اپنا دورہ بھارت منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

اسد الزمان کو بھارتی ریاست میگھلیا کا دورہ کرنا تھا لیکن بھارت بھر میں جاری پرتشدد مظاہروں کے سبب انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیا۔

یاد رہے کہ متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد بھارت بھر میں خصوصاً شمال مشرقی ریاست آسام میں اس بل کے خلاف شدید مظاہرے جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: گجرات مسلم کش فسادات: بھارتی کمیشن نے مودی کو کلین چٹ دےدی

ریاست آسام میں کرفیو نافذ کر کے انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کردی گئی ہے اور کرفیو کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد اہلاک ہو گئے۔

واضح رہے کہ بل دونوں ایوان سے منظور ہوچکا ہے اور اب قانون کا حصہ بنانے کے لیے اس پر بھارتی صدر کے دستخط درکار ہیں جو ایک رسمی کارروائی ہے اور صدر کے دستخط کے ساتھ ہی یہ شکل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے آسام کے شہریوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کی۔

شہریت ترمیمی بل ہے کیا؟

شہریت بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے چھ مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت کی فراہمی ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کیس فیصلہ:بھارتی سپریم کورٹ نے تمام نظرثانی درخواستیں مسترد کردیں

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست آسام میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔