ای سی پی اراکین کا معاملہ: پارلیمانی کمیٹی نے اپنے قوائد میں ترمیم مسترد کردی

اپ ڈیٹ 22 دسمبر 2019

ای میل

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اصل ایجنڈے میں ترمیم کی وضاحت نہیں کی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اصل ایجنڈے میں ترمیم کی وضاحت نہیں کی گئی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اراکین کے تقرر سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے اپنے قواعد میں ترمیم کرنے کا منصوبہ مسترد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے اپنی ویب سائٹ پر دیے گئے نوٹس میں کہا کہ 24 دسمبر کو ہونے والے پینل اجلاس کے ایجنڈے میں کمیٹی کے قواعد میں ترمیم کی گئی تھی۔

تاہم اگلے ہی دن ایک ترمیمی ایجنڈا جاری کیا گیا جس میں شق نمبر 2 کو شامل نہیں کیا گیا جو قواعد میں ترمیم سے متعلق تھا۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن عہدیداران کے تقرر کا معاملہ: حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک برقرار

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اصل ایجنڈے میں ترمیم کی وضاحت نہیں کی گئی، جو سی ای سی یا کمیشن کے کسی ممبر کے تقرر کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت کو ختم کرنے کے بارے میں ہے۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹری کمیٹی برائے کے سی ای سی تقرر کی شق 2 اور الیکشن کمیشن رولز 2011 کے مطابق 'چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کے ممبر کی متوقع خالی جگہ کے لیے نامزدگی پر غور کرنے کے بعد کمیٹی کسی بھی نامزدگی کی وصولی کے 14 دن کے اندر دو تہائی اکثریت کے ذریعے نامزدگی کی تصدیق کرے گی۔

رولز میں ترمیم کرنے کا فیصلہ سندھ اور بلوچستان سے ای سی پی کے ممبران اور سی ای سی کے تقرر میں جاری تعطل کے بعد سامنے آیا ہے تاکہ سادہ اکثریت سے تقرریوں کے فیصلے کی راہ ہموار ہوسکے۔

واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں 12 ارکان ہیں جس میں حکومت اور اپوزیشن کے 6، 6 ممبران ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے الیکشن کمیشن اراکین کے لیے 3،3 نام تجویز کردیئے

کمیٹی کے رکن مشاہد اللہ خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف جس ترمیم کی خواہش مند ہے وہ اپوزیشن پینل کے ممبروں کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی۔

انہوں نے کارروائی میں عدم شفافیت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو مذکورہ فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا جب اسے یہ احساس ہوا کہ قواعد میں ترمیم کے لیے بھی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے اور اس طرح مجوزہ ترمیم کی منظوری حاصل نہیں ہوسکتی، جب تک مخالف پینل کے کم از کم دو ممبران مذکورہ ترمیم کی حمایت کرنے پر اتفاق نہ کریں۔

قواعد کی دفعہ 10 میں درج ہے کہ کمیٹی کو ان قواعد کی کسی بھی شق میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جس میں کمیٹی کی کل رکنیت کا دو تہائی اکثریت ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ عہدے رواں برس جنوری میں ای سی پی کے رکنِ سندھ عبد الغفار سومرو اور رکنِ بلوچستان جسٹس (ر) شکیل بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے خالی ہیں۔

5 دسمبر کو ہی وزیراعظم کی جانب سے اس عہدے پر تعیناتی کے لیے بابر یعقوب، فضل عباس مکین اور عارف خان کے نام تجویز کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ بابر یعقوب فتح محمد اس وقت سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے پر کام کر رہے ہیں جبکہ فضل عباس مکین بھی سابق سیکریٹری کے طور پر مختلف وزارتوں میں کام کر چکے ہیں، تجویز کردہ تیسری شخصیت عارف خان چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی پی اراکین کا معاملہ: صادق سنجرانی، اسد قیصر کا اپوزیشن سے رابطے کا فیصلہ

اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیراعظم کو ایک خط ارسال کر کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے نام تجویز کیے تھے۔

انہوں نے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے خط میں الیکشن کمشنر کے لیے ناصر سعید کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام کی تجویز دی تھی۔