راکٹ حملوں کے جواب میں عراقی حزب اللہ کے دفتر پر بمباری کی، پینٹاگون

اپ ڈیٹ 30 دسمبر 2019

ای میل

پینٹاگون کے مطابق حملے میں ایک امریکی شہری ٹھیکیدار ہلاک ہوا—فائل فوٹو: اے پی
پینٹاگون کے مطابق حملے میں ایک امریکی شہری ٹھیکیدار ہلاک ہوا—فائل فوٹو: اے پی

امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں ایران کے حامی عراقی حزب اللہ کے صدر دفتر پر بمباری کی گئی جہاں اسلحہ ذخیرہ کیا جاتا تھا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون نے عراق میں راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک امریکی ٹھیکیدار کی ہلاکت کے بعد عراق اور شام میں عراقی حزب اللہ کے دفاتر پر بمباری کی۔

مزیدپڑھیں: امریکا نے سعودی آئل تنصیبات پر 'ایرانی حملے' کے ثبوت جاری کردیے

پینٹاگون کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ عراقی حزب اللہ (کے ایچ) کی جانب سے متعدد مرتبہ حملوں کے جواب میں امریکی فورسز نے عسکری آپریشن (اوآئی آر) کے تحت عراق اور شام میں 5 ٹھکانوں پر حملہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق 'حملوں کا مقصد کے ایچ کی صلاحیت کو نقصان پہنچانا تھا تاکہ وہ دوبارہ حملے کی سکت نہ کر سکے'۔

پینٹاگون نے کہا کہ عراق میں 3 اور شام میں 2 حملے کیے گئے۔

اعلامیے کے مطابق اسلحہ ذخیرہ کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ 27 دسمبر کو بغداد کے شمال میں کرکوک میں عراقی فوجی اڈے پر 30 راکٹ فائر کیے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 'حملے میں ایک امریکی شہری ٹھیکیدار ہلاک ہوگیا تھا'۔

واضح رہے کہ واشنگٹن نے حال ہی میں عراق میں اپنے مفادات پر ہونے والے حملوں کا 'فیصلہ کن ردعمل' دینے کا عزم دہرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر جوابی حملے کا حکم دے کر واپس لیا، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن نے تہران کے ساتھ گزشتہ برس جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکا الزام عائد کرتا رہا ہے کہ شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ جنگجو امریکی مفادات کو نقصان پہنچاتےہیں۔

خیال رہے کہ 23 جون کو ایران کی جانب سے ڈرون گرائے جانے کے واقعے کے بعد امریکا نے ایرانی میزائل کنٹرول سسٹم اور جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف سائبر حملے کیے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے بعد امریکی سائبر کمانڈ کو خفیہ طور پر جوابی حملے کا حکم دیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں راکٹ اور میزائل کو کنٹرول کرنے والے کمپیوٹر ناکارہ بنادیے گئے جبکہ یاہو نیوز کا کہنا تھا کہ حملے میں خلیج عمان میں موجود بحری جہازوں کو پتہ لگانے کے ذمہ دار جاسوسی گروپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مزیدپڑھیں: 'امریکی ڈرون کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے ناقابل تردید شواہد موجود'

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر تنازع میں شدت کے بعد تہران کو دباؤ میں لانے کے لیے خلیج فارس میں بی 52 بمبار سمیت متعدد طیارے اور جنگی بحری بیڑا اتارنے کے بعد اسالٹ شپ اور پیٹرائٹ میزائل دفاعی نظام تعینات کیے تھے۔

امریکا مئی میں مشرق وسطیٰ میں مرحلہ وار ڈھائی ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کرچکا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ مذکورہ اقدام کا مقصد ایران کو واضح اور غیر مبہم پیغام دینا ہے کہ اگر اس نے امریکا یا خطے میں اس کے کسی شراکت دار پر حملہ کیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔