'ایم کیو ایم وفاقی حکومت گرانے میں ساتھ دے، سندھ میں وزارتیں دینے کو تیار ہیں'

اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2019

ای میل

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو وفاق سے اتحاد ختم کرکے حکومت گرانے پر سندھ میں وزارتیں دینے کی پیشکش کردی۔

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں 4 ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'اس منصوبے کو لانڈھی اور کورنگی کے ہمارے شہیدوں کے نام کرنا چاہوں گا'۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'سندھ حکومت مشکل معاشی حالات ہونے کے باوجود محنت کرکے پورے صوبے میں کام کر رہی ہیں'۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے اپنے دوستوں کو این آر او دے دیا، پرویز رشید

انہوں نے کہا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان کے ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آکر بستے ہیں تاہم ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا'۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کے متعارف کردہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طریقہ کار پر چلنے کی کراچی میں بہت صلاحیت ہے، لہٰذا ہمیں مل کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے کراچی کے لیے کام کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے عوام بہت سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، معاشی صورتحال بہت خطرناک ہے، غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے مشکلات بڑھتے جارہے ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ ظلم و زیادتی ہے اور پیپلز پارٹی اس کی مذمت کرتی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سکھر میں سردی کا 25 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے لیکن اس موسم میں کچی آبادی میں رہنے والے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا، تاہم میری تمام عدالتی فورمز سے اپیل ہے کہ اس موسم اور اس وقت میں تجاوزات خلاف کارروائی کو روکا جائے، ساتھ ہی انہوں نے میئر کراچی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس سردی میں اس کام کو روکیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاق کی گیس کی پالیسی پر مزاحمت کرتے ہیں، ہمارے صوبے کا حق مارا جارہا ہے اور آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب آرڈیننس سے ایماندار، دیانت دار لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے،فردوس عاشق

ان کا کہنا تھا کہ 'وفاقی حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینا ہوگا جبکہ جو وزیر اس معاملے پر بیانات دے رہے ہیں ان سے فوری استعفیٰ لینا چاہیے'۔

دوران خطاب انہوں نے کہا کہ 'ہمارے پرانے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے ساتھ ہورہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے، (اس کے لیے) وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں اور عمران کی حکومت کو گرادیں'۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ 'میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم انہیں سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں بس شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیج دیں، اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'امید ہے آج نہیں تو کل ان کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا، پاکستان کو بچانا پڑے گا اور نیا پاکستان ختم کرنا پڑے گا'۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ 'کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انہیں دھوکا دیا ہے، ان کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے'۔