پی آئی اے کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا گیا

اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2019

ای میل

عدالت میں ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی—فائل فوٹو: پی آئی اے
عدالت میں ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی—فائل فوٹو: پی آئی اے

سندھ ہائی کورٹ نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا اور ادارے میں نئی بھرتیوں، ملازمین کو نکالنے اور تبادلے پر بھی پابندی لگادی۔

عدالت میں ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو کام کرنے اور پی آئی اے میں خرید و فروخت، پالیسی سازی اور ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے بھی فروخت کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 22 جنوری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں: ایئرمارشل ارشد ملک کی بطور سی ای او 'پی آئی اے' تعیناتی قانونی قرار

واضح رہے کہ ایئر مارشل ارشد ملک کے خلاف ایئر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (ساسا) کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مطلوبہ عہدے کے لیے ایئر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کا ایئر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایئر مارشل ارشد ملک نے 1982 میں بی ایس سی کیا اور اس بعد وار اسٹیڈیز سے متعلق تعلیم حاصل کی، تاہم انہیں ایئر لائن انڈسٹری اور کمرشل فلائٹس سے متعلق سول ایویشن قوانین سے کچھ آگاہی نہیں ہے۔

اس ضمن میں مزید کہا گیا کہ ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی میں پبلک سیکٹر کمپنیز رولز 2013 اور رول 2 اے کو قطعی طور پر نظر انداز کیا گیا جس کے تحت سی ای او تعینات کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’پی آئی اے کو بحال کرنے کے بجائے نئے ایئر لائن کا قیام زیادہ آسان‘

علاوہ ازیں درخواست میں کہا گہا کہ قومی ایئر لائن کے سی ای او کی تعیناتی میں رول 2 اے کی گائیڈلائنز میں درج 7 مراحل کی خلاف ورزی کی گئی۔

خیال رہے کہ 21 جنوری 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے قومی ایئر لائن کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی قانون کے مطابق قرار دی تھی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی اور ارشد ملک کی تعنیاتی کو درست قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کا مارخور کی تصویر ہٹا کر پرانا لوگو بحال کرنے کا فیصلہ

نبیل جاوید کاہلوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی طریقہ کار کے برعکس کی گئی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ارشد ملک کی بطور 'سی ای او' تعیناتی وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کی گئی۔