پی ٹی سی ایل تنازع: اتصالات نے ادائیگی کا فریم ورک حکومت کو دے دیا

اپ ڈیٹ 02 جنوری 2020

ای میل

اجلاس میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی بھی موجود تھے۔—فائل فوٹو: خلیج ٹائمز
اجلاس میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی بھی موجود تھے۔—فائل فوٹو: خلیج ٹائمز

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ٹیلی کام کمپنی 'اتصالات' نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کو 80 کروڑ ڈالر کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے فریم ورک حکومت کو پیش کردیا۔

واضح رہے کہ اتصالات نے پی ٹی سی ایل کے حصص کی مد میں طے شدہ رقم میں سے 80 کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک دی تھی جسے 13 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اگرچہ مذکورہ کمپنی 26 فیصد شیئر حاصل کرچکی تھی۔

مزیدپڑھیں: حکومت، اتصالات سے پی ٹی سی ایل کا تنازع حل کرنے کیلئے کوشاں

یہی نہیں بلکہ اتصالات نے جون 2005 میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر سے اس وقت کی کمیونکیشن اتھارٹی کی اجارہ داری بھی حاصل کرلی تھی۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت بین وزارتی اجلاس میں اتصالات کی تجویز کے ساتھ بقایا ادائیگی سے متعلق تبادلہ خیال ہوا۔

اجلاس میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی بھی موجود تھے۔

سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس فریم ورک پر تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول نجکاری کمیشن اور وزارت خزانہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 12 سال بعد اتصالات نے ادائیگی کے مسئلے کے حل کے لیے تجویز پیش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی سی ایل کی نجکاری معاہدے میں ’سنگین گھپلے‘ کا انکشاف

رضوان ملک نے کہا 'یہ صرف جائیداد کی منتقلی کا مسئلہ نہیں ہے تصفیہ کے فریم ورک میں کچھ اور عناصر بھی ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے'۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری کمیشن کے وفاقی سیکرٹریوں پر زور دیا کہ جنوری کے اختتام سے قبل زیر التوا ادائیگیوں کے حل کے لیے حتمی تجویز پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ 'مذکورہ مسئلے کو ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اپنے ملک اور طویل مدتی کاروباری مفادات کے لیے فائدہ مند حتمی تصفیہ تک پہنچانا چاہتے ہیں'۔

اس سے قبل اجلاس کو بتایا گیا تھا کہ پی ٹی سی ایل کے اثاثہ جات کے محکمے نے اپنی املاک پر غلط اعداد و شمار دیے کیونکہ پی ٹی سی ایل کی 3 ہزار 248 جائیدادیں تھیں لیکن 2006 میں نجکاری کے معاہدے میں 3 ہزار 384 کا ذکر کیا گیا۔

واضح رہے کہ حکومت کے پاس بھی پی ٹی سی ایل کے 62 فیصد حصص ہیں اور حکومت نے تمام 3 ہزار 248 جائیدادوں کی فہرست اتصالات کو فراہم کی ہے، جس کی وجہ سے باقی 33 جائیدادوں کو پی ٹی سی ایل میں منتقل نہیں کیا جاسکا تھا۔

مزیدپڑھیں: پی ٹی سی ایل نجکاری کے خلاف تحریک التوا لانے پر غور

مزید برآں اتصالات نے دو اقساط کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی براہ راست ادائیگی کی تھی لیکن پھر تمام جائیدادوں کی منتقلی نہ کرنے کی بنیاد پر 80 کروڑ ڈالر کی بقایا رقم کی ادائیگی روک دی تھی۔