بچوں کی بہترین پرورش کے ساتھ والدین اپنا خیال کیسے رکھیں؟

11 جنوری 2020

ای میل

یاد رکھیں کہ صحت مند والدین ہی صحت مند بچے بنا سکتے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
یاد رکھیں کہ صحت مند والدین ہی صحت مند بچے بنا سکتے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

ثمرین کی طبیعت اب بہت زیادہ خراب رہنے لگی تھی، اپنی دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد سے اس نے اپنے آپ پر توجہ دینا بہت کم کر دی تھی، روکھا سوکھا کھا لینا، جسمانی ایکٹویٹی نہ کرنا، تفریح کے لیے بہت کم باہر نکلنا اور پھر ذہن پر غیر حقیقی بوجھ ڈالے رکھنا ان کی عادت سی بن چکی تھی، جسمانی اور جذباتی طور پر وہ بہت کمزور ہوتی چلی گئی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ چاہ کر بھی اپنی بیٹیوں کے لیے بہت سی چیزیں نہیں کر پاتی تھی۔

یوں بیٹیاں بھی جذباتی طور پر اس سے لا تعلق ہوتی چلی گئیں اور ان کے رویے غیر حقیقی سے رہنے لگے۔

ثمرین جیسی کہانیاں ہمارے ارد گرد موجود ہیں کیونکہ والدین 'اپنا' خیال رکھنے کو غیر مفید یا غیر ضروری سمجھتے ہیں، زیادہ تر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اپنا خیال رکھنے کا مطلب ایک پیچیدہ، مہنگا اور تھکا دینے والے کام کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔

تاہم یہ ایک غلط فہمی ہے، والدین اپنے حالات، معاش اور دلچسپی کے تحت اپنی ذات اور صحت کی بہتری پر کام کر سکتے ہیں اور والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ خود کا خیال نہیں رکھ پاتے اور خود صحت مند زندگی نہیں گزار پاتے تو اپنے بچوں کی زندگی بہتر اور صحت مند کیسے کریں گے؟

والدین اپنا خیال نہ رکھیں تو کیا ہوتا ہے؟

والدین خود صحت مند نہیں ہوں گے تو وہ بچوں کا خیال نہیں رکھ پائیں گے—فوٹو: شٹر اسٹاک
والدین خود صحت مند نہیں ہوں گے تو وہ بچوں کا خیال نہیں رکھ پائیں گے—فوٹو: شٹر اسٹاک

بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اپنی ذات اور صحت کی بہتری پر باقاعدہ اور منصوبہ بندی (Organized & Planned) سے کام نہ کرنے کے زیادہ نقصانات نہیں ہوتے لیکن یہ صرف ایک احساس ہے دراصل یوں والدین کئی طرح سے اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں جن میں سے چند نقصانات درج ذیل ہیں۔

1- سیلف کیئر کو نظر انداز کرنے کا سب سے بڑا نقصان خراب جسمانی صحت کی صورت میں نکلتا ہے، عموماً ہمارا مدافعتی نظام کمزور ہوتا چلا جاتا ہے اور ہم مختلف بیماریوں کے لیے آسان شکار بنتے چلے جاتے ہیں۔

2 - بلڈ پریشر کا مریض بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

3 - ذہنی امراض کا سامنا کر پڑ سکتا ہے جیسے ڈپریشن، الجھن اور تناؤ وغیرہ کے مسائل۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کو'منفرد' بنانے والی والدین کی بہترین عادات

والدین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اپنی حفاظت نہ کرنے کی تمام کمزوریاں انہیں ان کے بچوں کا خیال رکھنے سے بھی قاصر کر دیتی ہیں تاہم اگر والدین ذرا بھی اپنی ذات یا شخصیت کا خیال کریں تو نتائج تبدیل ہو سکتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

والدین اپنا خیال رکھیں تو کیا ہوگا؟

صحت مند والدین رول ماڈل کے طور پر بچوں کی حفاظت کرتے ہیں—فوٹو: کڈز ان ٹرانزیشنل اسکول
صحت مند والدین رول ماڈل کے طور پر بچوں کی حفاظت کرتے ہیں—فوٹو: کڈز ان ٹرانزیشنل اسکول

1- اسٹریس یعنی دباؤ کم رہتا ہے ۔

2 - والدین ایک رول ماڈل کے طور پر بچوں کو صحت اور اپنا خیال رکھنے کی اہمیت کا بتا رہے ہوتے ہیں۔

3 - زیادہ بہتر، زیادہ صحت مند اور زیادہ پرسکون انداز میں پرورش کے قابل بن رہے ہوتے ہیں۔

یہاں بعض والدین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھتا ہوگا کہ آخر وہ تمام تر ذمہ داریوں اور مصروفیات کے باوجود اپنی حفاظت کیسے کریں؟

اس حوالے سے سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ سیلف کیئر کے نہ صرف آپ کی اپنی ذات بلکہ اولاد کی پرورش کے لیے بھی فوائد ہوتے ہیں اور جب آپ اسے اپنی سوچ کا حصہ بنا لیں گے تو پھر اس کا آغاز بھی آسان ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: بچوں کو بگاڑنے والی والدین کی عادات

یوں تو ہر فرد کے حالات اور دلچسپیاں مختلف ہو سکتی ہیں تاہم آغاز کے طور پر ان میں سے کچھ اقدامات کو اپنی بہتری کا نکتہ آغاز بنایا جا سکتا ہے اور آغاز میں درج ذیل اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں اور آپ اپنی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو درج ذیل 3 بڑی کیٹیگریز میں بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔

جسمانی حفاظت

والدین کو جسمانی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہیے—فوٹو: شٹر اسٹاک
والدین کو جسمانی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہیے—فوٹو: شٹر اسٹاک

1- لذیذ کھانوں کے بجائے غذائیت سے پھرپور اور قوت بخش غذا پر فوکس کریں اور کھانا کبھی بھی نہ چھوڑیں-

2 - نیند ہمیشہ پوری کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ بذات خود جسمانی قوت کا اہم ذریعہ ہے۔

3 - ایکسر سائز کی عادت پیدا کریں یا کم از کم چلنے اور ہلکی پھلکی ورزش کی کوشش کریں۔

4 - پر فضا مقامات کے دوروں کو اپنی صحت کی فہرست کا حصہ بنائیں۔

5 - اپنی جسمانی ضرورت کے لحاظ سے پانی پیتے رہیں۔

6 - صحت کے جائزے کا شیڈول بنائیں اور جہاں ضرورت ہو اپنی عادات، کھانے پینے اور رویے میں تبدیلی کے لیے کوشش کریں۔

7 - موبائل فون، سوشل میڈیا سے وقتاً فوقتاً بریک لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ آپ کی ذہنی اور جذباتی توانائی کو برقرار رکھے گا۔

ذہنی حفاظت

1 - اپنے ہم خیال افراد یا دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں۔

2 - الجھے ہوئے اور سمجھ نہ آنے والے معاملات پر بات کریں اور اپنے جذبات کو باہر آنے دیں۔

3 - کچھ ایسے کاموں کی فہرست بنائیں جو آپ کو خوشی دیتے ہیں یا ذہنی طور پر پُرسکون کرتے ہیں، پھر ترجیح اور وقت کے لحاظ سے ان کاموں کو کرتے رہیں یوں زندگی میں آنے والی مشکلات اور تکالیف کی شدت کم ہو جائے گی۔

4 - اپنے خاوند یا بیوی سے ذہنی، جذباتی اور روحانی تعلق کی بہتری پر مسلسل کام کریں اور اپنے رشتے داروں سے تعلقات بہتر اور گرم جوش بنانے کو اپنا معمول بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئیڈیل والدین کی 7 عادات

5 - زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں حد سے ذمہ داریاں اٹھانے سے بچیں اور یہ نہ سوچیں کہ آپ ہر کام مشکل حالات کے باوجود کر گزریں گے۔

فطری جگہوں پر وقت گزاریں اور ذہنی صحت پائیں—فوٹو: پکسل
فطری جگہوں پر وقت گزاریں اور ذہنی صحت پائیں—فوٹو: پکسل

روحانی حفاظت

1 - اپنے ساتھ وقت گزاریں،اپنے آپ کو پہچانیں، اپنی کمزوریاں، خوبیاں، دلچسپیاں، یہ سفر بذات خود ایک دلچسپ ایکٹویٹی ہوگا۔

2 - فطری جگہوں اور مناظر کے ساتھ وقت گزاریں۔

3 - دوسروں کو فائدہ پہنچانے والے کاموں کا حصہ بنیں۔

4 - ڈائری یا جرنل لکھنے کی عادت ڈالیں۔

5 - زندگی میں کچھ اہم اور بڑے مقاصد رکھیں یا ایسے لوگوں سے جڑ جائیں جو ایسے مقاصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔

ضروری نہیں کہ یہ سب کام ایک ساتھ ہی شروع کیے جائیں بلکہ دلچسپی اور وقت کے لحاظ سے ان کی ترتیب بنائیں اور اپنے اور اپنے بچوں کی زندگی کو زیادہ محفوظ اور صحت مند بنانے کے سفر کا اغاز کریں۔


فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔